کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ناموں کا بیان اور اچھے ناموں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12827
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ¤ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ ، وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ بِغَيْرِ كَذِبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فال لے لیتے تھے لیکن آپ شگون نہیں لیتے تھے اور آپ کو اچھا نام پسند تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ جھوٹ کے بغیر ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12827
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11294) اخرجه احمد فى المسند (2927 و 2328 و 2767)»
حدیث نمبر: 12828
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ : ¤ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَأَلَ عَنِ اسْمِ الرَّجُلِ وَكَانَ حَسَنًا ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ كَرِهَهُ ، فَإِذَا نَزَلَ بِالْقَرْيَةِ سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا ، فَإِنْ كَانَ اسْمُهَا حَسَنًا سُرَّ بِذَلِكَ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کا نام پوچھتے تھے ، تو اگر وہ اچھا ہوتا تھا تو اچھائی کا اندازہ آپ کے چہرے سے ہو جاتا تھا ، اور اگر وہ اس کے علاوہ ہوتا تھا تو آپ اس کو ناپسند کرتے تھے ، جب آپ کسی بستی میں پڑاؤ کرتے تھے ، تو وہاں کا نام دریافت کر لیتے تھے ، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تھا تو آپ اس بات پر خوش ہوتے تھے اور اگر وہ اس کے علاوہ ( یعنی برا ) ہوتا تھا تو اس کا اندازہ آپ کے چہرے سے ہو جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن بشیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12828
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12829
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ مِنْ حَقِّ الْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ أَنْ يُحْسِنَ اسْمَهُ ، وَأَنْ يُحْسِنَ أَدَبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” والد کے ذمہ اولاد کے حقوق میں یہ بات شامل ہے کہ والد اس کا نام اچھا رکھے اور اس کی تربیت اچھی طرح سے کرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12829
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1984)»
حدیث نمبر: 12830
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا أَبْرَدْتُمْ إِلَيَّ بَرِيدًا ، فَابْعَثُوهُ حَسَنَ الْوَجْهِ حَسَنَ الِاسْمِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَطَرِيقُ الْبَزَّارِ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم لوگ میری طرف کسی قاصد کو بھیجو ، تو ایسے شخص کو بھیجو جس کا چہرہ بھی اچھا ہو اور نام بھی اچھا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام بزار کا طریق ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12830
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1986)»
حدیث نمبر: 12831
وَعَنْ يَعِيشَ الْغِفَارِيِّ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاقَةً يَوْمًا فَقَالَ : " مَنْ يَحْلِبُهَا ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا . فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : مُرَّةُ . قَالَ : " اقْعُدْ " . ¤ ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : مُرَّةُ . قَالَ : " اقْعُدْ " . ¤ ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : جَمْرَةُ . فَقَالَ : " اقْعُدْ " . ¤ ثُمَّ قَامَ يَعِيشُ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : يَعِيشُ . قَالَ : " احْلِبْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعیش غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی منگوائی ، آپ نے دریافت کیا : کون اس کا دودھ دوہ لے گا ؟ ایک صاحب نے عرض کی : میں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : مرہ ( یعنی کڑوا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا نام ہے ؟ اس نے کہا: مرہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جمرہ ( یعنی انگارہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ۔ پھر سیدنا یعیش رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یعیش ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا دودھ دوہ لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12831
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (277/22)»
حدیث نمبر: 12832
وَعَنْ أَبِي حَدْرَدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنْ يَسُوقُ إِبِلَنَا هَذِهِ ؟ " - أَوْ : " مَنْ يُبَلِّغُ إِبِلَنَا هَذِهِ ؟ " - فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : فُلَانٌ . قَالَ : " اجْلِسْ " . ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : أَنَا . قَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : نَاجِيَةُ . قَالَ : " أَنْتَ لَهَا ، فَسُقْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، وَلَمْ أَرَ فِيهِمَا جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحددرد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کون ہمارے ان اونٹوں کو ہانک کر لے جائے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کون ہمارے اونٹوں کو ( منزل مقصود تک ) پہنچائے گا ، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : فلاں ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : میں ایسا کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ناجیہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ کام کرو گے ، تم انہیں لے جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے أحمد بن بشیر کے حوالے سے اس کے چچا سے نقل کی ہے ، اور میں نے ان دونوں کے بارے میں کوئی جرح یا کوئی تعدیل نہیں پائی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12832
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (353/22)»