کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کون سے نام رکھنا مستحب ہے ؟
حدیث نمبر: 12845
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ : عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَالْحَارِثُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ ، عبدالرحمن اور حارث ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12845
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2778)»
حدیث نمبر: 12846
وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَبْرَةَ : ¤ أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ذَهَبَ مَعَ جَدِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُ ابْنِكَ ؟ " . فَقَالَ : عَزِيزٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُسَمِّهِ عَزِيزًا ، وَلَكِنْ سَمِّهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ الْأَسْمَاءِ : عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَالْحَارِثُ " . ¤
محمد محی الدین
خیثمہ بن عبدالرحمن بن سبرہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے دادا کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارے بیٹے کا کیا نام ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عزیز ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے عزیز نام نہ دو ، بلکہ تم اس کا نام عبدالرحمن رکھو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : سب سے بہتر نام عبداللہ ، عبدالرحمن اور حارث ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12846
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (178/4)»
حدیث نمبر: 12847
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ : وُلِدَ لِجَدِّي غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ عَزِيزًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : وُلِدَ لِي غُلَامٌ . فَقَالَ : " مَا سَمَّيْتَهُ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : عَزِيزًا . قَالَ : " لَا بَلْ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ " . ¤
محمد محی الدین
خیثمہ کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میرے دادا کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ، انہوں نے اس کا نام عزیز رکھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : میرے ہاں بیٹا ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : عزیز ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وہ عبدالرحمن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12847
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (178/4)»
حدیث نمبر: 12848
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ اسْمُ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَزِيزًا ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ الرَّحْمَنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَكِنَّ ظَاهِرَ الرِّوَايَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ الْإِرْسَالُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : خیثمہ اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں میرے والد کا نام عزیز تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، لیکن دونوں پہلے والی روایتوں سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ مرسل ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12848
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (178/4)»
حدیث نمبر: 12849
وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُ ابْنِكَ هَذَا ؟ " . قَالَ : اسْمُهُ عَزِيزٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُسَمِّهِ عَزِيزًا ، وَلَكِنْ سَمِّهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ : عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
خیثمہ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں بچہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارے بیٹے کا کیا نام ہے ؟ انہوں نے کہا: اس کا نام عزیز ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کا نام عزیز نہ رکھو بلکہ اس کا نام عبدالرحمن رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12849
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12850
وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : عَبَدُ الْعُزَّى . قَالَ : " بَلْ أَنْتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَا اسْمُكَ ؟ قُلْتُ : عَزِيزٌ . قَالَ : " اللَّهُ الْعَزِيزُ " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
خیثمہ بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے ان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : عبدالعزیٰ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم عبدالرحمن ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ، تو میں نے عرض کی : عزیز ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عزیز اللہ تعالیٰ ہے ۔ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12850
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1993)»
حدیث نمبر: 12851
وَعَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا وَلَدُكَ ؟ " . قَالَ : فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَعَبْدُ الْعُزَّى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، إِنَّهُ مِنْ أَحَقِّ أَسْمَائِكُمْ ، أَوْ مِنْ خَيْرِ أَسْمَائِكُمْ إِنْ سَمَّيْتُمْ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سبرہ بن ابوسبرہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے بچے کتنے ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : فلاں ہے اور فلاں ہے ، اور عبدالعزیٰ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ عبدالرحمن ہے ، تمہارے ناموں میں نام رکھنے کا سب سے زیادہ حق دار ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہارے ناموں میں سب سے بہتر نام یہ ہے ( یعنی عبدالرحمن ہے ) اگر تم نام رکھو “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12851
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (178/4)»
حدیث نمبر: 12852
وَعَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا وَلَدُكَ ؟ " فَقَالَ : عَبْدُ الْعُزَّى ، وَسَبْرَةُ ، وَالْحَارِثُ . فَقَالَ : " لَا تُسَمِّي عَبْدَ الْعُزَّى ، وَسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ ؛ فَإِنَّ خَيْرَ الْأَسْمَاءِ عَبْدُ اللَّهِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ ، وَالْحَارِثُ ، وَهَمَّامٌ " . وَدَعَا لِوَلَدِهِ ، فَلَمْ يَزَالُوا فِي شَرَفٍ إلِىَ الْيَوْمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن ابوسره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے کتنے بچے ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : عبدالعزیٰ ہے سبرہ ہے اور حارث ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم عبدالعزیٰ نام نہ رکھو بلکہ عبداللہ نام رکھو کیونکہ سب سے بہتر نام عبداللہ ، عبیداللہ ، حارث اور ہمام ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اولاد کے لئے دعا کی تو وہ لوگ آج تک معزز ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12852
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6559)»