حدیث نمبر: 12780
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ إِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى كِسْرَى وَإِلَى صَاحِبِ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ ، وَبَعَثَ عَمْرًا إِلَى النَّجَاشِيِّ ، فَلَمَّا أَتَى عَمْرٌو النَّجَاشِيَّ ، وَجَدَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَدْخُلُونَ مُكَفِّرِينَ مِنْ خَوْخَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى الْخَوْخَةَ وَدُخُولَهُمْ عَلَيْهِ ، وَلَى ظَهْرَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ يَمْشِي الْقَهْقَرِيَّ ، فَلَمَّا دَخَلَ مِنْهَا اعْتَدَلَ ، فَفَزِعَتِ الْحَبَشَةُ وَهَمُّوا بِقَتْلِهِ ، قَالُوا : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ كَمَا دَخَلْنَا ؟ قَالَ : لَا نَصْنَعُ ذَلِكَ بِنَبِيِّنَا ، فَهُوَ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ ذَلِكَ بِهِ ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ : اتْرُكُوهُ ، صَدَقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن امیہ بن ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین افراد کو بھیجا ، ایک کو قیصر کی طرف ، ایک کو کسریٰ کی طرف اور ایک کو اسکندریہ کے حکمران کی طرف بھیجا ، آپ نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا ، جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نجاشی کے پاس آئے ، تو انہوں نے یہ صورت حال پائی کہ جو لوگ بھی نجاشی کے پاس آتے تھے ، وہ ایک چھوٹے دروازے میں سے داخل ہوتے تھے ، جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اس چھوٹے دروازے کو اور ان لوگوں کے داخل ہونے کے طریقے کو دیکھا تو انہوں نے پیٹھ پھیر لی اور پھر الٹے قدم چلتے ہوئے اندر داخل ہوئے ، جب وہ اندر داخل ہو گئے ، تو سیدھے ہو گئے ، حبشی لوگ اس بات پر مشتعل ہو گئے ، انہوں نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ، ان لوگوں نے کہا: تم اس طرح کیوں نہیں داخل ہوئے جس طرح ہم داخل ہوتے ہیں ؟ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم اپنے نبی کے ساتھ بھی ایسا نہیں کرتے ہیں ، جو اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ اس طرح کیا جائے ، تو نجاشی نے کہا: اسے چھوڑ دو یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 12781
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ بِمَكَّةَ حِينَ شَطَّتْ بِهِمْ عَشَائِرُهُمْ : ¤ " تَفَرَّقُوا فِي الْأَرْضِ " . ¤ فَتَفَرَّقُوا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ عَمْرٌو وَعَبْدُ اللَّهِ لِلنَّجَاشِيِّ : لَا يُحَيُّوكَ بِالتَّحِيَّةِ الَّتِي يُحَيِّيكَ بِهَا مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْكَ مِنَّا . فَقَالَ لِجَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ : مَا لَكُمْ مَا تُحَيُّونِي كَمَا يُحَيِّي أَصْحَابُكُمْ ؟ قَالَ : نُحَيِّيكُمْ بِتَحِيَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّهَا تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَضَعَّفَهُ بِسَبَبِ التَّدْلِيسِ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ عَنْ شَيْخٍ ثِقَةٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي قَوْلِهِ : " لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . مِنْ طُرُقٍ فِي النِّكَاحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مکہ میں جب مسلمانوں کے خاندانوں نے انہیں تنگ کرنا شروع کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم زمین میں ادھر ادھر چلے جاؤ ، تو وہ لوگ حبشہ کی سرزمین کی طرف چلے گئے ، قریش نے عبداللہ بن ابوربیعہ اور عمرو بن العاص کو بھیجا ، عمرو اور عبداللہ نے نجاشی سے جو باتیں کی تھیں ، ان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ یہ لوگ آپ کو اس طرح سلام نہیں کریں گے ، جس طرح ہم میں سے آپ کے پاس آنے والا شخص آپ کو سلام کرتا ہے ، نجاشی نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے کہ تم لوگ مجھے اس طرح سلام نہیں کرتے ہو ، جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ہم آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح ہمارے نبی کو سلام کیا جاتا ہے ، اور یہ اہل جنت کا سلام کرنے کا طریقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یعقوب زہری ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کی تدلیس کی وجہ سے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، تاہم اس نے ایک ایسے شیخ کے حوالے سے تحدیث کی صراحت کی ہے ، جو ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے : ” اگر میں نے کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کی اجازت دینی ہوتی ، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ “ اس روایت کے مختلف طرق کتاب النکاح میں گزرے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یعقوب زہری ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کی تدلیس کی وجہ سے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، تاہم اس نے ایک ایسے شیخ کے حوالے سے تحدیث کی صراحت کی ہے ، جو ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے : ” اگر میں نے کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کی اجازت دینی ہوتی ، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ “ اس روایت کے مختلف طرق کتاب النکاح میں گزرے ہیں ۔