کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ( کسی کے لئے ) کھڑا ہونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ بَيْنَ يَدَيْهِ قِيَامًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ .
" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ بَيْنَ يَدَيْهِ قِيَامًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَنَّهُمْ عَظَّمُوا مُلُوكَهُمْ ، بِأَنْ قَامُوا وَقَعَدُوا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
" إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَنَّهُمْ عَظَّمُوا مُلُوكَهُمْ ، بِأَنْ قَامُوا وَقَعَدُوا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ وہ اپنے بادشاہوں کی ( غیر شرعی طور پر ) تعظیم کرتے تھے کہ وہ لوگ کھڑے رہتے تھے اور بادشاہ بیٹھے رہتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن قتبیہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن قتبیہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ : قُومُوا نَسْتَغِيثْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" لَا يُقَامُ لِي إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ .
" لَا يُقَامُ لِي إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ .
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ اٹھو ! تاکہ اس منافق کے مقابلے میں اللہ کے رسول سے مدد طلب کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے لئے قیام نہ کیا جائے ، قیام اللہ تعالیٰ کے لئے کیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" يَقُومُ الرَّجُلُ مِنْ مَحَلِّهِ لِأَخِيهِ ، إِلَّا بَنِي هَاشِمٍ لَا يَقُومُونَ لِأَحَدٍ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
" يَقُومُ الرَّجُلُ مِنْ مَحَلِّهِ لِأَخِيهِ ، إِلَّا بَنِي هَاشِمٍ لَا يَقُومُونَ لِأَحَدٍ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی شخص اپنے بھائی کے لئے اپنی جگہ سے کھڑا ہو جاتا ہے البتہ بنو ہاشم کا معاملہ مختلف ہے وہ کسی کے لئے کھڑے نہیں ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ :
أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَرَجَ قُمْنَا لَهُ حَتَّى يَدْخُلَ بَيْتَهُ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهَكَذَا وَجَدْتُهُ فِيمَا جَمَعْتُهُ ، وَلَعَلَّهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهُوَ الظَّاهِرُ ، فَإِنَّ هِلَالًا تَابِعِيٌّ ثِقَةٌ ، أَوْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، وَهُوَ بَعِيدٌ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ .
أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَرَجَ قُمْنَا لَهُ حَتَّى يَدْخُلَ بَيْتَهُ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهَكَذَا وَجَدْتُهُ فِيمَا جَمَعْتُهُ ، وَلَعَلَّهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهُوَ الظَّاهِرُ ، فَإِنَّ هِلَالًا تَابِعِيٌّ ثِقَةٌ ، أَوْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، وَهُوَ بَعِيدٌ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
محمد بن ہلال اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نکلتے تھے ، تو ہم آپ کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے ، یہاں تک کہ آپ اپنے گھر میں داخل ہو جاتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، میں نے جن روایات کو جمع کیا ہے ، ان میں یہ اسی طرح میں نے پائی ہے ، لیکن شاید یہ محمد بن ہلال کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور یہی بات ظاہر ہے کیونکہ ہلال نامی راوی تابعی ہیں ، اور ثقہ ہیں یا پھر
یہ روایت محمد بن ہلال بن ابوہلال کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے منقول ہے ، لیکن یہ بعید از امکان ہے ، امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، میں نے جن روایات کو جمع کیا ہے ، ان میں یہ اسی طرح میں نے پائی ہے ، لیکن شاید یہ محمد بن ہلال کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور یہی بات ظاہر ہے کیونکہ ہلال نامی راوی تابعی ہیں ، اور ثقہ ہیں یا پھر
یہ روایت محمد بن ہلال بن ابوہلال کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے منقول ہے ، لیکن یہ بعید از امکان ہے ، امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ وَاثِلَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ - قَالَ : دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ وَحْدَهُ ، فَتَزَحْزَحَ لَهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْمَكَانَ وَاسِعٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" إِنَّ لِلْمُسْلِمِ حَقًّا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُمَيْرٍ عِيسَى بْنَ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسَ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
" إِنَّ لِلْمُسْلِمِ حَقًّا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُمَيْرٍ عِيسَى بْنَ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسَ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں اکیلے موجود تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے اپنی جگہ سے ہلے تو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کافی جگہ موجود ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان کا حق ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوعمیر عیسیٰ بن محمد نحاس کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے اس کے ابواسود سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوعمیر عیسیٰ بن محمد نحاس کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے اس کے ابواسود سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔