حدیث نمبر: 12778
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " تَسْلِيمُ الرَّجُلِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ يُشِيرُ بِهَا فِعْلُ الْيَهُودِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کے ساتھ سلام کرنا ، یہودیوں کا طریقہ ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12779
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - أَظُنُّهُ مَرْفُوعًا - قَالَ : ¤ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا ، لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَى ، فَإِنَّ تَسْلِيمَ الْيَهُودِ الْإِشَارَةُ بِالْأَصَابِعِ ، وَإِنَّ تَسْلِيمَ النَّصَارَى بِالْأَكُفِّ ، وَلَا تَقُصُّوا النَّوَاصِيَ ، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ ، وَأَعْفُوا اللِّحَى ، وَلَا تَمْشُوا فِي الْمَسَاجِدِ وَالْأَسْوَاقِ ، وَعَلَيْكُمُ الْقُمُصُ ، إِلَّا وَتَحْتَهَا الْأُزُرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( راوی کہتے ہیں : ) میرا خیال ہے ۔ انہوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے علاوہ کسی کی مشابہت اختیار کرے ، تم لوگ یہودیوں یا عیسائیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو ، کیونکہ یہودیوں کا سلام کرنے کا طریقہ انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرنا ہے ، اور عیسائیوں کا سلام کرنے کا طریقہ ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کرنا ہے ، اور تم صرف پیشانی سے بال چھوٹے نہ کرو ، اور تم مونچھیں چھوٹی رکھو اور تم داڑھی بڑھا کے رکھو اور تم مساجد اور بازاروں میں یوں نہ چلو کہ تم نے صرف قمیص پہنی ہوئی ہو ، بلکہ ساتھ تہبند بھی ہونا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔