کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس جماعت کا بیان ، جن میں سے کوئی ایک شخص سلام کر دیتا ہے یا وہ جماعت جن میں سے کوئی ایک شخص سلام کا جواب دے دیتا ہے
حدیث نمبر: 12758
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : ¤ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْقَوْمُ يَأْتُونَ الدَّارَ ، فَيَسْتَأْذِنُ وَاحِدٌ مِنْهُمْ ، أَيُجْزِئُ عَنْهُمْ جَمِيعًا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ قِيلَ : فَيَرُدُّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، أَيُجْزِئُ عَنِ الْجَمِيعِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ قِيلَ : فَالْقَوْمُ يَمُرُّونَ ، فَيُسَلِّمُ وَاحِدٌ مِنْهُمْ أَيُجْزِئُ عَنِ الْجَمِيعِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ قِيلَ : فَيَرُدُّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، أَيُجْزِئُ عَنِ الْجَمِيعِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کچھ لوگ کسی گھر میں آتے ہیں ، ان میں سے کوئی ایک اجازت مانگتا ہے ، تو کیا یہ ان سب کے لئے کفایت کر جائے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! عرض کی گئی : اگر ان لوگوں میں سے کوئی ایک شخص سلام کا جواب دیدیتا ہے ، تو کیا ان سب کی طرف سے کفایت کر جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ عرض کی گئی : اگر کچھ لوگ گزر رہے ہوتے ہیں ، اور ان میں سے کوئی ایک شخص سلام کر دیتا ہے ، تو کیا یہ ان سب کی طرف سے کفایت کر جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ عرض کی گئی : اگر کوئی ان لوگوں میں سے ایک شخص سلام کا جواب دیدیتا ہے ، تو یہ سب لوگوں کی طرف سے کفایت کر جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔