کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کو سلام کرنا جو جماعت کے پاس آئے ، یا اُن سے جدا ہو
حدیث نمبر: 12757
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : ¤ " حَقَّ عَلَى مَنْ قَامَ عَلَى جَمَاعَةٍ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ ، وَحَقَّ عَلَى مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسٍ أَنْ يُسَلِّمَ " . فَقَامَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَكَلَّمُ ، فَلَمْ يُسَلِّمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَزَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، وَقَدْ ضُعِّفَا ، وَحُسِّنَ حَدِيثُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی جماعت کے پاس آتا ہے ، تو اس پر لازم ہے کہ ان کو سلام کرے اور جو شخص کسی محفل سے اٹھتا ہے ۔ اس پر لازم ہے کہ وہ سلام کرے ، اسی دوران ایک صاحب اٹھ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی کلام فرما رہے تھے ۔ اس شخص نے سلام نہیں کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کتنی جلدی بھول گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور ایک راوی زبان بن فائد ہے ، اور ان دونوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اور ان دونوں کی حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور ایک راوی زبان بن فائد ہے ، اور ان دونوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اور ان دونوں کی حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔