کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سلام میں پہل کرنا
حدیث نمبر: 12745
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : ¤ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَلْتَقِي ، فَأَيُّنَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ؟ قَالَ : " أَطْوَعُكُمْ للهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم ( ایک دوسرے کے ساتھ ) ملاقات کرتے ہیں تو کون سلام میں پہل کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو تم میں سے اللہ تعالیٰ کا زیادہ فرمانبردار ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12745
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12746
وَعَنِ الْأَغَرِّ - أَغَرِّ مُزَيْنَةَ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ لِي بِجُزْءٍ مِنْ تَمْرٍ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَمَطَلَنِي بِهِ ، فَكَلَّمْتُ فِيهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اغْدُ مَعَهُ يَا أَبَا بَكْرٍ فَخُذْ لَهُ ثَمَرَهُ " . فَوَعَدَنِي أَبُو بَكْرٍ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ ، فَوَجَدْتُهُ حَيْثُ وَعَدَنِي ، فَانْطَلَقْنَا ، فَكُلَّمَا رَأَى أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ مِنْ بَعِيدٍ سَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمَا تَرَى مَا يُصِيبُ الْقَوْمُ عَلَيْكَ مِنَ الْفَضْلِ ، لَا يَسْبِقُكَ إِلَى السَّلَامِ أَحَدٌ . فَكُنَّا إِذَا طَلَعَ الرَّجُلُ بَادَرْنَاهُ بِالسَّلَامِ ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَحَدِ إِسْنَادِيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اغر رضی اللہ عنہ ، جو اغر مزینہ ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے انصار کے پاس موجود ایک شخص سے کچھ کھجوریں لینے کا حکم دیا ، اس شخص نے مجھے دینے میں ٹال مٹول کی ، میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! تم کل اس کے ساتھ جانا اور اس کو کھجوریں دلوا دینا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ مسجد میں ملنے کا وعدہ کیا کہ جب ہم صبح کی نماز پڑھ لیں گے تو چلیں گے ، میں نے انہیں وعدے کے مطابق پایا ، پھر ہم روانہ ہوئے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو بھی شخص دور سے دیکھتا تھا ، وہ انہیں سلام کرتا تھا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم نے یہ بات دیکھی ہے کہ لوگ تم پر فضیلت حاصل کیے جا رہے ہیں ، ہر شخص سلام میں تم سے سبقت لے جاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو پھر جو بھی شخص ہمارے سامنے آتا تھا ، اس کے سلام کرنے سے پہلے ہی ہم اسے سلام کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12746
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (880 و 879)»
حدیث نمبر: 12747
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ مَنْ لَقِيَهُ ، قَالَ : فَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا سَبَقَهُ بِالسَّلَامِ إِلَّا يَهُودِيًّا مَرَّةً ، اخْتَبَأَ لَهُ خَلْفَ أُسْطُوَانَةٍ ، فَخَرَجَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ : وَيْحَكَ يَا يَهُودِيُّ ! مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ لَهُ : رَأَيْتُكَ رَجُلًا تُكْثِرُ السَّلَامَ ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ فَضْلٌ ، فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَ بِهِ . فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ : وَيْحَكَ ! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ السَّلَامَ تَحِيَّةً لِأُمَّتِنَا ، وَأَمَانًا لِأَهْلِ ذِمَّتِنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ ہر ملنے والے کو سلام کیا کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں علم کسی نے سلام میں ان سے سبقت کی ہو ، البتہ ایک یہودی کا معاملہ مختلف ہوا ، وہ ان کے سامنے آنے سے چھپ گیا ، وہ ایک ستون کے پیچھے چھپ گیا تھا ، جب وہ وہاں سے گزرے تو اس نے انہیں پہلے سلام کر دیا ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو اے یہودی ! تم نے ایسا کیوں کیا ہے ۔ اس نے ان سے کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بکثرت سلام کرتے ہیں ، اور مجھے یہ پتہ ہے کہ اس کام میں فضیلت پائی جاتی ہے ، تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اس فضیلت کو حاصل کر لوں ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سلام کو ہماری امت کے لئے تحیت اور ہمارے ذمیوں کے لئے امان بنایا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، دیگر حضرات نے یہ بات بیان کی ہے یہ مقارب الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12747
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7518)»