کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سلام کرنے اور جواب دینے کی حد
حدیث نمبر: 12748
عَنْ سَلْمَانَ قَالَ : ¤ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . ¤ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . قَالَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . ¤ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَعَلَيْكَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَاكَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، فَحَيَّيْتَهُمَا بِأَفْضَلِ مِمَّا حَيَّيْتَنِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّكَ لَنْ - أَوْ لَمْ - تَدَعْ شَيْئًا ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ) فَرَدَدْتُ عَلَيْكَ التَّحِيَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ قَوَّاهُ النَّسَائِيُّ ، وَتَرَكَ أَحْمَدُ حَدِيثَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کہا: السلام علیک یا رسول الله ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وعلیک السلام ورحمة اللہ و برکاتہ پھر ایک اور شخص آیا اور بولا: السلام علیک یا رسول اللہ وحمۃ اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وعلیک السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ ۔ پھر ایک شخص آیا اور بولا: السلام علیک یا رسول اللہ ورحمة اللہ و برکاتہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : وعلیک ۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں اور فلاں جب آپ کے پاس آئے تھے تو آپ نے ان دونوں کو اس سے زیادہ اچھا جواب دیا تھا ، جو جواب آپ نے مجھے دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جب تمہیں سلام کیا جائے ، تو تم اس سے زیادہ اچھے طریقے سے یا اس کے مطابق جواب دو ۔ “ تو میں نے تمہیں سلام کا جواب دیدیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، اسے امام نسائی رحمہ اللہ نے قوی قرار دیا ہے ، امام أحمد نے اس کی حدیث کو متروک قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12748
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6114)»
حدیث نمبر: 12749
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ¤ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ . فَرَدَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . ¤ فَجَاءَ الثَّانِي فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . ¤ وَجَاءَ الثَّالِثُ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَعَلَيْكُمْ . ¤ وَأَبُو الْفَتَى جَالِسٌ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا ، وَلَمْ تَزِدِ ابْنِي شَيْئًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا وَجَدْنَا لَهُ مِنْ زِيَادَةٍ ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مِثْلَ مَا قَالَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : نَافِعُ بْنُ هُرْمُزٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تین آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان میں سے ایک نے السلام علیکم کہا: ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے و علیک ورحمتہ اللہ کہا: ، دوسرا آیا تو اس نے کہا: السلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیتے ہوئے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا: ، تیسرا آیا اور اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہا: ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیتے ہوئے وعلیکم کہا: ۔ اس نوجوان کا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اس نے کہا: آپ نے فلاں اور فلاں کو جواب دیتے ہوئے اضافہ کیا ، لیکن میرے بیٹے کو جواب دیتے ہوئے کوئی اضافہ نہیں کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمیں اس کے لئے کوئی اضافہ نہیں ملا ، تو ہم نے اسے اس کی مانند جواب دیدیا ، جو اس نے کہا: تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12749
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12007)»
حدیث نمبر: 12750
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا : ¤ " يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ " . فَقُلْتُ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، وَذَهَبَتْ تَزِيدُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِلَى هَذَا انْتَهَى السَّلَامُ " ، فَقَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اے عائشہ ! یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہا ہے ، میں نے کہا: وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، میں ابھی مزید کچھ اور کہنا چاہتی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہاں پر سلام ختم ہو جاتا ہے ، تو انہوں نے ( یعنی سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے ) یہ کہا: اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں آپ پر ہوں اے اہل بیت ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12750
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (786)»