کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: سلام کرنے کا اجر
❮
❯
عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي - ابْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ :
دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عُصْبَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ . فَقَالَ : " وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، عِشْرُونَ لِي وَعَشْرٌ لَكَ " .
قَالَ : فَدَخَلْتُ الثَّانِيَةَ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . فَقَالَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، ثَلَاثُونَ لِي وَعِشْرُونَ لَكَ " .
فَدَخَلْتُ الثَّالِثَةَ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَقَالَ :
" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، ثَلَاثُونَ لِي وَثَلَاثُونَ لَكَ ، أَنَا وَأَنْتَ يَا عَلِيُّ فِي السَّلَامِ سَوَاءٌ ، إِنَّهُ يَا عَلِيُّ مَا مِنْ رَجُلٍ مَرَّ عَلَى مَجْلِسٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کرام کے ساتھ موجود تھے ، میں نے عرض کی : السلام علیکم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ، مجھے بیس نیکیاں ملیں گی اور تمہیں دس ملیں گی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں دوسری مرتبہ داخل ہوا تو میں نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، مجھے تیس نیکیاں ملیں گی اور تمہیں بیس ملیں گی ، میں تیسری مرتبہ داخل ہوا تو میں نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وعلیک السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، مجھے تیس نیکیاں ملیں گی اور تمہیں بھی تیس نیکیاں ملیں گی : اے علی ! میں اور تم سلام کرنے کے حوالے سے برابر ہو گئے : اے علی ! جو بھی مسلمان کسی مجلس سے گزرے اور ان لوگوں کو سلام کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کو دس نیکیاں دیتا ہے ۔ اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12735
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2001) ، أخرجه مسند البزار برقم: 808»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ . فَقَالَ : " عَشْرٌ " .
ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " عِشْرُونَ " .
ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثُونَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ عُمَارَةُ بْنُ جُوَيْنٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: السلام علیکم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دس ملیں گی ، پھر دوسرا شخص آیا اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیس ملیں گی ، پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تیس ملیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون عبدی عمارہ بن جوین ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12736
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5946»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" مَنْ قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ . وَمَنْ قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَمَنْ قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، كُتِبَ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص السلام علیکم کہے ۔ اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جو شخص السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہے ۔ اس کے لئے بیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جو شخص السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہے ۔ اس کے لئے تیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12737
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5563) ، أخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5272/1»
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ التَّيْهَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" مَنْ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَمَنْ قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، كُتِبَتْ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَمَنْ قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، كُتِبَتْ لَهُ خَمْسُونَ حَسَنَةً " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن تیہان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص السلام علیکم کہے ۔ اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جو شخص السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے ۔ اس کے لئے بیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جو شخص السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہے ۔ اس کے لئے پچاس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12738
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (259/19)»