حدیث نمبر: 12735
عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي - ابْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : ¤ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عُصْبَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ . فَقَالَ : " وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، عِشْرُونَ لِي وَعَشْرٌ لَكَ " . ¤ قَالَ : فَدَخَلْتُ الثَّانِيَةَ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . فَقَالَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، ثَلَاثُونَ لِي وَعِشْرُونَ لَكَ " . ¤ فَدَخَلْتُ الثَّالِثَةَ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَقَالَ : ¤ " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، ثَلَاثُونَ لِي وَثَلَاثُونَ لَكَ ، أَنَا وَأَنْتَ يَا عَلِيُّ فِي السَّلَامِ سَوَاءٌ ، إِنَّهُ يَا عَلِيُّ مَا مِنْ رَجُلٍ مَرَّ عَلَى مَجْلِسٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کرام کے ساتھ موجود تھے ، میں نے عرض کی : السلام علیکم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ، مجھے بیس نیکیاں ملیں گی اور تمہیں دس ملیں گی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں دوسری مرتبہ داخل ہوا تو میں نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، مجھے تیس نیکیاں ملیں گی اور تمہیں بیس ملیں گی ، میں تیسری مرتبہ داخل ہوا تو میں نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وعلیک السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، مجھے تیس نیکیاں ملیں گی اور تمہیں بھی تیس نیکیاں ملیں گی : اے علی ! میں اور تم سلام کرنے کے حوالے سے برابر ہو گئے : اے علی ! جو بھی مسلمان کسی مجلس سے گزرے اور ان لوگوں کو سلام کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کو دس نیکیاں دیتا ہے ۔ اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12735
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2001)»