کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا اور جس شخص کے شر سے محفوظ نہ رہا جائے
حدیث نمبر: 12630
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُدَارَاةُ النَّاسِ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا صدقہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن محمد بن منکدر ہے ، اور وہ متروک ہے ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ توقع ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن محمد بن منکدر ہے ، اور وہ متروک ہے ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ توقع ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
حدیث نمبر: 12631
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ " . فَلَمَّا دَخَلَ هَشَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْبَسَطَ ، ثُمَّ خَرَجَ . فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نِعْمَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ " . فَلَمَّا دَخَلَ لَمْ يَنْبَسِطْ إِلَيْهِ ، وَلَمْ يَهُشَّ لَهُ كَمَا هَشَّ لِلْآخَرِ . فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَأْذَنَ فُلَانٌ فَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ، ثُمَّ هَشَشْتَ لَهُ وَانْبَسَطْتَ ، وَقُلْتَ لِفُلَانٍ مَا قُلْتَ ، وَلَمْ أَرَكَ صَنَعْتَ بِهِ مَا صَنَعْتَ بِالْآخَرِ ؟ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنِ اتُّقِيَ لِفُحْشِهِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، آپ نے فرمایا : یہ اپنے خاندان کا برا فرد ہے ، لیکن جب وہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندہ پیشانی سے اس سے ملاقات کی ، پھر وہ چلا گیا ، اس کے بعد ایک اور شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اپنے خاندان کا اچھا فرد ہے ، جب وہ اندر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ زیادہ خندہ پیشانی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اس طرح پیش نہیں آئے ، جس طرح پہلے شخص کے ساتھ پیش آئے تھے ، جب وہ چلا گیا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے فلاں شخص نے آپ سے آنے کی اجازت مانگی اور آپ نے اس کے بارے میں ایک بات کہی ، لیکن پھر آپ نے اس کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملاقات کی اور فلاں شخص کے بارے میں آپ نے دوسری بات کہی ، لیکن میں نے یہ دیکھا کہ آپ نے اس کے ساتھ اس طرح کا رویہ نہیں رکھا ، جس طرح کا رویہ پہلے شخص کے ساتھ رکھا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! لوگوں میں سے سب سے برے وہ لوگ ہوتے ہیں ، جن کی فحش کلامی سے بچا جاتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12632
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ شَرًّا ، فَرَحَّبَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَفَا قَالَ : " إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، مَنْ يَخَافُ النَّاسُ شَرَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خوش آمدید کہا: ، جب وہ شخص چلا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے برا شخص وہ ہو گا جس کے شر سے لوگ خوف زدہ رہتے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطیر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطیر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12633
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَأَدْنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَرَّبَهُ ، فَلَمَّا قَامَ قَالَ : " يَا بُرَيْدَةُ أَتَعْرِفُ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ ، هَذَا أَوْسَطُ قُرَيْشٍ حَسَبًا ، وَأَكْثَرُهُمْ مَالًا - ثَلَاثًا - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَنْبَأْتُكَ بِعِلْمِي فِيهِ ، فَأَنْتَ أَعْلَمُ . فَقَالَ : " هَذَا مِمَّنْ لَا يُقِيمُ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پاس کیا اور قریب کیا ، جب وہ شخص اٹھ کے چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اے بریدہ ! کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یہ حسب کے اعتبار سے قریش کا درمیانی درجہ کا شخص ہے لیکن مال کے اعتبار سے سب سے زیادہ مال والا ہے ، یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا ، پھر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق آپ کو بتایا ہے ، ویسے آپ بہتر جانتے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ان افراد میں سے ایک ہے جن کے لئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میزان نہیں رکھے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عون بن عمارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عون بن عمارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12634
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ التَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَوِ ابْنُ عُمَرَ الْقَيْسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَيَأْتِي حَدِيثُ عَلِيٍّ فِي بَابِ الْعَقْلِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کے بعد سب سے بڑی عقل مندی لوگوں کے ساتھ محبت کا برتاؤ ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمرو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) عبیداللہ بن عمر قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے چل کے عقل سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمرو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) عبیداللہ بن عمر قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے چل کے عقل سے متعلق باب میں آئے گی ۔
حدیث نمبر: 12635
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَأْتِيكُمْ رَكْبٌ مُبَغَّضُونَ ، فَإِذَا جَاءُوكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي بَابِ رِضَا الْمُصَدِّقِ فِي الزَّكَاةِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تمہارے پاس ایسے سوار آئیں گے ، جن سے بغض رکھا جاتا ہے لیکن جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم نے انہیں خوش آمدید کہنا ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس سے پہلے
یہ روایت زکوۃ وصول کرنے والے شخص کی رضامندی سے متعلق باب میں گزر چکی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس سے پہلے
یہ روایت زکوۃ وصول کرنے والے شخص کی رضامندی سے متعلق باب میں گزر چکی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔