حدیث نمبر: 12610
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا ، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص میری اُمت میں سے نہیں ہے ، جو ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا اور ہمارے چھوٹے پر مہربان نہیں ہوتا اور ہمارے عالم کے حق کو نہیں پہچانتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 12611
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ ، وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ ، وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ وَزَادَ : " وَيَعْرِفْ لَنَا حَقَّنَا " . وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا اور چھوٹے پر رحم نہیں کرتا اور نیکی کا حکم نہیں دیتا اور برائی سے منع نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ اسے نقل کیا ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ” اور ہمارے لئے ہمارے حق کو نہیں پہچانتا ۔ “ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں امام أحمد کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ اسے نقل کیا ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ” اور ہمارے لئے ہمارے حق کو نہیں پہچانتا ۔ “ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں امام أحمد کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 12612
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا ، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : " وَيُؤَاخِي فِينَا وَيَزُورُ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ غَيْرُ وَاحِدٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا اور ہمارے چھوٹے پر مہربانی نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ” ہماری خاطر بھائی چارہ نہیں کرتا اور ملتا نہیں ہے ۔ “ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے امام طبرانی کی سند میں ایک سے زیادہ راوی ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ” ہماری خاطر بھائی چارہ نہیں کرتا اور ملتا نہیں ہے ۔ “ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے امام طبرانی کی سند میں ایک سے زیادہ راوی ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 12613
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا ، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَسَهْلُ بْنُ تَمَّامٍ ثِقَةٌ يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص ہم یں سے نہیں ہے جو ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا اور ہمارے چھوٹے پر مہربان نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے جسے عجلی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور وہ مدلس ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے اور ایک راوی سہل بن تمام ہے جو ثقہ ہے لیکن غلطی کر جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے جسے عجلی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور وہ مدلس ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے اور ایک راوی سہل بن تمام ہے جو ثقہ ہے لیکن غلطی کر جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12614
وَعَنْ وَاثِلَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيُجِلَّ كَبِيرَنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ وَاثِلَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹے پر مہربانی نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور زہری نامی راوی نے سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور زہری نامی راوی نے سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 12615
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا ، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا اور ہمارے چھوٹے پر مہربانی نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12616
وَعَنْهُ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، إِذْ أُتِيَ بِقَدَحٍ فِيهِ شَرَابٌ ، فَنَاوَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا عُبَيْدَةَ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أَنْتَ أَوْلَى بِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " خُذْ " . فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْقَدَحَ ، قَالَ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبَ : خُذْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اشْرَبْ ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ أَكَابِرِنَا ، فَمَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيُجِلَّ كَبِيرَنَا ، فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدٍ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے آپ کے کچھ اور اصحاب بھی تھے ، اسی دوران ایک پیالہ لایا گیا جس میں مشروب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھایا ، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لے لو ، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پیالہ لے لیا اور پینے سے پہلے انہوں نے پھر آپ کی خدمت میں گزارش کی ، اے اللہ کے نبی ! آپ لے لیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پیو کیونکہ برکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہے ، جو شخص ہمارے چھوٹے پر مہربانی نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12617
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْكُبْرَ الْكُبْرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بڑے کو ، بڑے کو ( پہلے موقع دو ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔