عَنْ عِلْبَاءَ السُّلَمِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علباء سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت صرف ردّی لوگوں پر قائم ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَأْخُذَ اللَّهُ شَرِيطَتَهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَيَبْقَى فِيهَا عَجَاجَةٌ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا ، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ اہل زمین میں سے بہترین لوگوں کو اٹھا نہیں لے گا ، اور زمین میں ( صرف ) برے لوگ باقی رہ جائیں گے ، جو کسی اچھائی کو اچھائی نہیں سمجھیں گے اور کسی برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مرفوع اور موقوف ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے مرفوع اور موقوف ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسَ مَنْ تُدْرِكُهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ ، وَالَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ ، وَالَّذِينَ يَشْهَدُونَ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرُ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگوں میں بدترین وہ لوگ ہوں گے ، جن پر قیامت قائم ہو گی اور وہ زندہ ہوں گے ، اور وہ لوگ ہوں گے جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیں گے ، اور وہ لوگ ہوں گے جو گواہی مانگی جانے سے پہلے گواہی دیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن عبداللہ اعور ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن عبداللہ اعور ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ ، وَالَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگوں میں سب سے برے وہ لوگ ہوں گے جن کو قیامت پائے گی اور وہ زندہ ہوں گے ، اور وہ لوگ ہوں گے جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً ، وَلَا يَزْدَادُ النَّاسُ إِلَّا شُحًّا وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” معاملے کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔