عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ ، فَتَعَجَّلَ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِتْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ ، فَقِيلَ : تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ . فَقَالَ : " تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ ، أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ " . ثُمَّ قَالَ : " لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوَرَّاقِ ، تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ حَبِيبِ بْنِ جَمَّازٍ وَهُوَ ثِقَةٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ حَبِيبِ بْنِ جَمَّازٍ وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے ، ہم نے ذوالحلیفہ کو دیکھا تو کچھ افراد مدینہ منورہ کی طرف جلدی روانہ ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات وہیں بسر کی ، ہم نے بھی رات وہیں بسر کی ، صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا ، تو عرض کی گئی : وہ مدینہ کی طرف جلدی چلے گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ مدینہ کی طرف اور عورتوں کی طرف جلدی چلے گئے ہیں ، یہ لوگ عنقریب مدینہ کو چھوڑ دیں گے ، جب کہ وہ اس سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ اچھی حالت میں ہو گا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کاش مجھے معلوم ہوتا کہ کب یمن سے ایک آگ نکلے گی جو وراق کے پہاڑ سے نکلے گی اور اُس کے ذریعے بصریٰ میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں گی ، یوں جیسے دن کی روشنی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حبیب بن جماز کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حبیب بن جماز کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ بُسْرٍ أَوْ بِشْرٍ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ حُبْسِ سَيْلٍ ، تَسِيرُ سَيْرَ بَطِيئَةِ الْإِبِلِ ، تَسِيرُ النَّهَارَ ، وَتُقِيمُ اللَّيْلَ ، تَغْدُو وَتَرُوحُ ، يُقَالُ : غَدَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَاغْدُوا ، قَالَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ قِيلُوا ، رَاحَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ رُوحُوا ، مَنْ أَدْرَكَتْهُ أَكَلَتْهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَافِعٍ وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
رافع بن بسر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بشر سلمی اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب ایک آگ ” حبس سیل “ کے مقام سے نکلے گی اور وہ یوں چلے گی جیسے سست رفتار اونٹ ہوتا ہے ، وہ دن کے وقت چلتی رہے گی ، رات کے وقت ٹھہر جائے گی ۔ وہ صبح جائے گی شام کو جائے گی ، یہ بات کہی جائے گی : آگ صبح کے وقت گئی ہے ، لوگو ! تو تم بھی چلو ، آگ نے آرام کیا ہے : اے لوگو ! تم لوگ آرام کرو ، آگ شام کو روانہ ہو گئی ہے ۔ اے لوگو ! تم روانہ ہو جاؤ ، جس شخص کو وہ پائے گی اس کو کھا لے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف رافع کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف رافع کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ[ وَ ] قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُبْعَثُ نَارٌ عَلَى أَهْلِ الْمَشْرِقِ فَتَحْشُرُهُمْ إِلَى الْمَغْرِبِ ، تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا ، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا ، يَكُونُ لَهَا مَا سَقَطَ مِنْهُمْ وَتَخَلَّفَ ، [ وَ ]تَسُوقُهُمْ سَوْقَ الْجَمَلِ الْكَسِيرِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل مشرق پر ایک آگ کو بھیجا جائے گا وہ انہیں اکٹھا کر کے مغرب کی طرف لے جائے گی ، وہ ان کے ساتھ رات بسر کرے گی ، جہاں وہ رات بسر کریں گے ، اور ان کے ساتھ دوپہر کرے گی جہاں وہ دوپہر کریں گے ، اس آگ کے لئے وہ چیزیں ہوں گی ، جو ان میں گر جائیں گے اور جو پیچھے رہ جائیں گے ، اور پھر وہ انہیں ہانک کر یوں لے جائے گی جیسے ٹوٹی ہوئی ہڈی والے اونٹ کو ہانک کر لے جایا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَوَّلِ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَوَّلَ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ ، وَتَحْشُرُهُمْ إِلَى الْمَغْرِبِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ سے قیامت کی پہلی نشانی کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : قیامت کی نشانیوں میں سے سب سے پہلی ( نشانی ) وہ آگ ہو گی جو مشرق کی طرف سے نکلے گی اور لوگوں کو اکٹھا کر کے مغرب کی طرف لے جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : سَأَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَثَانِ مَا قَدِمَ فَقَالَ : أَيْنَ حُبْسُ سَيْلٍ ؟ قُلْنَا : لَا نَدْرِي . فَمَرَّ بِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَقُلْتُ : مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ حُبْسِ سَيْلٍ . فَدَعَوْتُ بِنَعْلِي ، فَانْحَدَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ سَأَلْتَنَا عَنْ حُبْسِ سَيْلٍ ، فَقُلْنَا : لَا عِلْمَ لَنَا بِهِ ، وَإِنَّهُ مَرَّ بِي هَذَا الرَّجُلُ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَزَعَمَ أَنَّ بِهِ أَهْلَهُ . فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيْنَ أَهْلُكَ ؟ " . قَالَ : بِحُبْسِ سَيْلٍ . قَالَ : " أَخْرِجْ أَهْلَكَ مِنْهَا ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا نَارٌ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے کچھ ہی عرصے بعد آپ نے ہم سے دریافت کیا : حبس سیل کہاں ہیں ؟ ہم نے جواب دیا : ہمیں نہیں معلوم ، پھر بنو سلیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص میرے پاس سے گزرا ، میں نے دریافت کیا : تم کہاں سے آئے ہو ، اس نے بتایا : حبس سیل سے ۔ میں نے اپنا جوتا منگوایا اور جلدی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہم سے حبس سیل کے بارے میں دریافت کیا تھا ، تو ہم نے یہ عرض کی تھی کہ ہمیں اس کے بارے میں علم نہیں ہے ، ابھی میرے پاس سے ایک شخص گزرا ، میں نے اس سے دریافت کیا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ وہاں کا رہنے والا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اس بارے میں دریافت کیا اور فرمایا : تمہارے گھر والے کہاں ہیں ؟ اس نے جواب دیا : حبس سیل کے مقام پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے اہل خانہ کو وہاں سے نکال دو کیونکہ عنقریب وہاں سے ایک آگ نکلے گی ، جس کے ذریعے بصریٰ میں موجود اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔