حدیث نمبر: 12578
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، خَرَّ إِبْلِيسُ سَاجِدًا يُنَادِي وَيَجْهَرُ : إِلَهِي ، مُرْنِي أَنْ أَسْجُدَ لِمَنْ شِئْتَ ، قَالَ : فَتَجْتَمِعُ إِلَيْهِ زَبَانِيَتُهُ ، فَيَقُولُونَ : يَا سَيِّدَّهُمْ ، مَا هَذَا التَّضَرُّعُ ؟ فَيَقُولُ : إِنَّمَا سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُنْظِرَنِي إِلَى الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ، وَهَذَا الْوَقْتُ الْمَعْلُومُ " . قَالَ : " ثُمَّ تَخْرُجُ دَابَّةُ [ الْأَرْضِ ] مِنْ صَدْعٍ فِي الصَّفَا ، فَأَوَّلُ خُطْوَةٍ تَضَعُهَا بِأَنْطَاكِيَّةَ ، فَتَأْتِي إِبْلِيسَ فَتَلْطِمُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سورج اپنے مغرب (مغرب کی سمت) سے طلوع ہوگا ، تو ابلیس سجدے میں گر پڑے گا اور بلند آواز سے پکار کر کہے گا : اے میرے معبود ! تو مجھے حکم دے میں جسے چاہے سجدہ کرنے کو تیار ہوں ! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : پھر اس کے شیاطین/چیلے اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے : اے ہمارے سردار ! یہ عاجزی و زاری کیسی ؟ تو وہ کہے گا : میں نے اپنے رب عزوجل سے محض وقتِ معلوم (مقررہ وقت) تک مہلت مانگی تھی ، اور یہ وہی وقتِ معلوم ہے (جو آ پہنچا ہے ) “ ۔ فرمایا :” پھر صفا (پہاڑی) کے شگاف سے دابۃ الارض (زمین کا جانور) نکلے گا ، اور وہ اپنا پہلا قدم انطاکیہ میں رکھے گا ، پھر وہ ابلیس کے پاس آ کر اسے تھپڑ مارے گا “ ۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الکبیر اور المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں اسحاق بن ابراہیم بن زبریق نامی راوی ہے جو ضعیف ہے ۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الکبیر اور المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں اسحاق بن ابراہیم بن زبریق نامی راوی ہے جو ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12579
وَعَنْ أَبِي زَرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ : جَلَسَ ثَلَاثُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ ، فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ فِي الْآيَاتِ ، أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ قَالَ : فَانْصَرَفَ الْقَوْمُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَحَدَّثُوهُ بِالَّذِي سَمِعُوهُ مِنْ مَرْوَانَ فِي الْآيَاتِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا ، قَدْ حَفِظْتُ مِنْ [ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مِثْلِ ذَلِكَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ ، سَمِعْتُ ] رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَ [ خُرُوجُ ] الدَّابَّةُ ضُحًى ، فَأَيَّتُهُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا ، فَالْأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا " . ¤ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - وَكَانَ يَقْرَأُ الْكُتُبَ - : وَأَظُنُّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ; وَذَلِكَ أَنَّهَا كُلَّمَا غَرَبَتْ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ ، وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ ، فَأُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ ، حَتَّى إِذَا بَدَا لِلَّهِ أَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِهَا فَعَلَتْ كَمَا كَانَتْ تَفْعَلُ ، أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ ، وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا ، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فِي الرُّجُوعِ ، فَلَا يَرُدُّ عَلَيْهَا شَيْئًا ، حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْهَبَ ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ إِنْ أُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ لَمْ تُدْرِكِ الْمَشْرِقَ قَالَتْ : رَبِّ ، مَا أَبْعَدَ الْمَشْرِقَ ، مَنْ لِي بِالنَّاسِ ؟ حَتَّى إِذَا صَارَ الْأُفُقُ كَأَنَّهُ طَوْقٌ ، اسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ ، فَيُقَالُ لَهَا : مِنْ مَكَانِكِ فَاطْلُعِي . فَطَلَعَتْ عَلَى النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِهَا . ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ : ( يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ) ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر بیان کرتے ہیں : مسلمانوں میں سے تین افراد مردان کے پاس مدینہ منورہ میں بیٹھے اور اس کی باتیں سننے لگے ، اس نے ( قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی ) نشانیوں کے بارے میں بات چیت کی کہ ان میں سب سے پہلے دجال نکلے گا ، پھر وہ لوگ اٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہوں نے مروان کی زبانی جو باتیں سنی تھیں ، وہ ان کے سامنے بیان کی ، جو قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیوں کے بارے میں تھیں ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو بات مروان نے بیان کی ہے ۔ وہ ٹھیک نہیں ہے ، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات یاد ہے ، جو اس بارے میں ہے ، اور میں اسے نہیں بھولا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” نشانیوں میں سب سے پہلے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے کا ظہور ہو گا ، پھر دابۃ الارض چاشت کے وقت نکلے گا ، ان میں سے جو بھی پہلے نکلے گا دوسرا اس کے بالکل بعد آ جائے گا “ پھر اس کے بعد سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تحریریں ملاحظہ کرنے کے بعد یہ بات بیان کی ہے کہ میرا خیال ہے کہ ان میں سے پہلے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے والی نشانی ظاہر ہو گی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جب بھی غروب ہوتا ہے ، وہ عرش کے نیچے آ جاتا ہے ، وہ سجدہ کرتا ہے اور پھر واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے ، اسے واپس جانے کی اجازت دی جاتی ہے ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ یہ طے کرے گا کہ اب اسے مغرب کی طرف سے نکلنا چاہیے ، تو سورج ویسا ہی کرے گا جیسے پہلے کرتا تھا ، وہ عرش کے نیچے آئے گا اور سجدے میں چلا جائے گا ، اور واپس جانے کی اجازت مانگے گا ، تو اسے جواب نہیں ملے گا ، پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگے گا ، اسے جواب نہیں ملے گا ، یہاں تک کہ جتنا عرصہ اللہ کو منظور ہو گا ، رات کا اتنا حصہ گزر جائے گا ، تو سورج کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ اب اگر اسے واپس جانے کی اجازت مل بھی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا ، تو وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! مشرق کتنی دور ہے ، اب میں لوگوں تک کیسے پہنچوں گا ؟ یہاں تک کہ جب وہ افق میں طوق کی مانند ہو جائے گا ، تو پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگے گا ، تو اس سے کہا: جائے گا : تم اپنی جگہ ٹھہرے رہو اور طلوع ہو جاؤ ، تو وہ مغرب کی طرف سے لوگوں کے سامنے طلوع ہو گا ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” جس دن تمہارے پروردگار کی نشانیوں میں سے ایک آ جائے گی ، اس دن کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا ، ایسا شخص جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا ، یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہیں کمائی تھی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12580
وَعَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجِيءُ الرِّيحُ الَّتِي يَقْبِضُ اللَّهُ فِيهَا نَفْسَ كُلِّ مُؤْمِنٍ ، ثُمَّ تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَهِيَ الْآيَةُ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایسی ہوا آئے گی ، جس میں اللہ تعالیٰ ہر مومن کی جان کو قبض کر لے گا ، پھر سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا ، اور یہ وہ نشانی ہے ، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12581
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ الْآيَاتِ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ فَضَالَةُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَأَنْكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے پہلی نشانی سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضالہ بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ انہوں نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضالہ بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ انہوں نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے ۔