حدیث نمبر: 12573
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ تَسِمُ النَّاسَ عَلَى خَرَاطِيمِهِمْ ، ثُمَّ يَغْمُرُونَ فِيهِ ، حَتَّى يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْبَعِيرَ فَيَقُولُ : مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهُ ؟ فَيَقُولُ : اشْتَرَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ الْمُخَطَّمِينَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” دابۃ الارض نکلے گا جو لوگوں کے ناک پر نشان لگائے گا ، پھر وہ لوگ اسی حالت میں رہیں گے ، یہاں تک کہ کوئی اونٹ خریدے گا تو کہے گا : یہ تم نے کس سے خریدا ہے ، تو وہ جواب دے گا : یہ میں نے ایسے شخص سے خریدا ہے جس پر لگام ڈالی گئی تھی ( یعنی نشان لگایا گیا تھا ) ۔ “
حدیث نمبر: 12574
وَفِي رِوَايَةٍ : " ثُمَّ يَغْمُرُونَ فِيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” پھر وہ لوگ تمہارے درمیان داخل ہو جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمر بن عبدالرحمن بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمر بن عبدالرحمن بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 12575
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ : أَلَا أُرِيكُمُ الْمَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرَى أَنَّ الدَّابَّةَ تَخْرُجُ مِنْهُ " . فَضَرَبَ بِعَصَاهُ الشَّقَّ الَّذِي فِي الصَّفَا وَقَالَ : " إِنَّهَا ذَاتُ رِيشٍ وَزَغَبٍ ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ ثُلْثُهَا حُضْرُ الْفَرَسِ الْجَوَادِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَثَلَاثَ لَيَالٍ ، وَإِنَّهَا لَتَمُرُّ عَلَيْهِمْ إِنَّهُمْ لَيَفِرُّونَ مِنْهَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، فَتَقُولُ لَهُمْ : أَتَرَوْنَ الْمَسَاجِدَ تُنْجِيكُمْ مِنِّي ؟ فَتَخْطِمُهُمْ ، يُسَاقُونَ فِي الْأَسْوَاقِ وَيَقُولُ : يَا كَافِرُ ، يَا مُؤْمِنُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ جگہ نہ دکھاؤں جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے یہ چیز دیکھی ہے کہ دابۃ الارض اس میں سے نکلے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عصا صفا پہاڑ میں موجود اس خالی جگہ پر ڈالا اور فرمایا : وہ جانور پروں والا اور بالوں ( یا کمزور جلد ) والا ہو گا ، اس کا ایک تہائی حصہ یوں نکلے گا ، جتنی تیزی سے تیز رفتار گھوڑا جاتا ہے ، تین دن اور تین راتیں لگیں گے ، وہ لوگوں کے پاس سے گزرے گا ، لوگ اس سے بھاگ کر مساجد کی طرف جائیں گے ، تو وہ ان سے کہے گا : کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مسجدیں تمہیں مجھ سے بچا لیں گی ، پھر وہ ان کو نشان لگانا شروع کرے گا ، ان لوگوں کو بازار میں لایا گیا جائے گا ، تو وہ یہ کہے گا : اے کافر ! اے مومن ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12576
وَعَنْ أَبِي سَرِيحَةَ - يَعْنِي حُذَيْفَةَ بْنَ أَسِيدٍ - ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الدَّابَّةُ لَهَا ثَلَاثُ خُرُجَاتٍ مِنَ الدَّهْرِ : [ فَتَخْرُجُ ] خُرْجَةٌ فِي أَقْصَى الْيَمَنِ ، حَتَّى يَفْشُوَ ذِكْرُهَا فِي الْبَادِيَةِ وَلَا يَدْخُلَ ذِكْرُهَا الْقَرْيَةَ ، ثُمَّ تَكْمُنُ زَمَانًا طَوِيلًا بَعْدَ ذَلِكَ ، ثُمَّ تَخْرُجُ خُرْجَةً قَرِيبًا مِنْ مَكَّةَ ، فَيَفْشُو ذِكْرُهَا فِي أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، وَيَفْشُو ذِكْرُهَا فِي مَكَّةَ ، ثُمَّ تَمْكُثُ زَمَانًا طَوِيلًا ، ثُمَّ تَفْجَأُ النَّاسَ فِي أَعْظَمِ الْمَسَاجِدِ عَلَى اللَّهِ حُرْمَةً وَخَيْرِهَا وَأَكْرَمِهَا عَلَى اللَّهِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، لَمْ يَرُعْهُمْ إِلَّا نَاحِيَةَ الْمَسْجِدِ ، تَرْجُو مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ إِلَى بَابِ بَنِي مَخْزُومٍ ، عَنْ يَمِينِ الْخَارِجِ [ مِنَ الْمَسْجِدِ ] ، فَانْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا سِتًّا وَمَعًا ، وَثَبَتَ لَهَا عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَعَرَفُوا أَنَّهُمْ لَنْ يَعْجِزُوا اللَّهَ ، فَخَرَجَتْ عَلَيْهِمْ تَنْفُضُ عَنْ رَأْسِهَا التُّرَابَ ، فَبَدَتْ فَجَلَتْ وُجُوهُهُمْ ، حَتَّى تَرَكَتْهَا كَأَنَّهَا الْكَوَاكِبُ الدُّرِّيَّةُ ، ثُمَّ وَلَّتْ فِي الْأَرْضِ لَا يُدْرِكُهَا طَالِبٌ وَلَا يُعْجِزُهَا هَارِبٌ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَقُومُ يَتَعَوَّذُ مِنْهَا بِالصَّلَاةِ فَتَأْتِيهِ ، فَتَقُولُ : أَيْ فُلَانُ ، الْآنَ تُصَلِّي ؟ فَيُقْبِلُ عَلَيْهَا بِوَجْهِهِ ، فَتَسِمُهُ فِي وَجْهِهِ ، وَيَذْهَبُ . وَتَجَاوَزُ النَّاسُ فِي دُورِهِمْ ، وَفِي أَسْفَارِهِمْ ، وَيَشْتَرِكُونَ فِي الْأَمْوَالِ ، وَيُعْرَفُ الْكَافِرُ مِنَ الْمُؤْمِنِ ، حَتَّى أَنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَقُولُ لِلْكَافِرِ : يَا كَافِرٌ اقْضِنِي حَقِّي ، وَحَتَّى أَنَّ الْكَافِرَ لَيَقُولُ لِلْمُؤْمِنِ : يَا مُؤْمِنُ اقْضِنِي حَقِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسریحہ رضی اللہ عنہ یعنی سیدنا حذیفہ بن اسید بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دابۃ الارض تین مختلف زمانوں میں نکلے گا ، ایک مرتبہ وہ یمن کے دور دراز علاقے میں نکلے گا ، یہاں تک کہ اس کا تذکرہ ویرانے میں رہنے والے لوگوں میں ہو گا ، بستیوں میں اس کا تذکرہ نہیں ہو گا ، پھر وہ ایک طویل عرصے تک اس کے بعد چھپا رہے گا ، پھر وہ دوسری مرتبہ مکہ کے قریب نکلے گا ، اس وقت اس کا ذکر ویرانوں میں بھی ہو گا ، اور اس کا ذکر مکہ میں بھی ہو گا ، پھر وہ ایک طویل عرصہ تک ٹھہرا رہے گا ، پھر وہ لوگوں کے پاس اس وقت آئے گا ، جو اللہ کی مساجد میں سے حرمت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والی ہے ، سب سے زیادہ بہتری والی ہے ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہے ، اور وہ مسجد حرام ہے ، صرف مسجد کا کنارہ ان لوگوں کو سنبھال سکے گا ، بنو مخزوم والے دروازے کی طرف حجر اسود اور مقام ابراہیم کی درمیانی جگہ کی طرف سے وہ آئے گا ، وہ مسجد کے دائیں طرف سے آئے گا ، تو لوگ متفرق ہو کر اس سے دور جائیں گے ، مسلمانوں کا ایک گروہ اس کے سامنے جمع رہے گا ، وہ لوگ یہ بات جان لیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے ، وہ ان کے سامنے نکلے گا ، اس کے سر سے مٹی جھڑ رہی ہو گی ، وہ ظاہر ہو گا ، ان کے چہرے پریشان ہوں گے ، یہاں تک کہ وہ انہیں چھوڑے گا ، تو ان کے چہرے چمکتے ہوئے ستاروں کی مانند ہوں گے ، پھر وہ زمین میں جائے گا ، کوئی پیچھا کرنے والا اس تک نہیں پہنچ سکے گا ، اور کوئی بھاگنے والا اس سے بچ نہیں سکے گا ، یہاں تک کہ ایک شخص کھڑا ہو گا ، اور نماز کے ذریعے اس سے بچنا چاہے گا ، تو وہ اس کے پاس آئے گا اور کہے گا : اے فلاں اب تم نماز پڑھ رہے ہو ؟ پھر وہ سامنے سے اس کی طرف آئے گا ، اور اس کے چہرے پر نشان لگا دے گا ، پھر وہ جائے گا ، تو لوگ اپنے علاقوں سے باہر نکل جائیں گے ، سفر کرنے لگیں گے ، اموال میں شراکت دار ہوں گے ، مومن کے مقابلے میں کافر کو پہچان لیا جائے گا ، یہاں تک کہ مومن شخص کافر سے کہے گا : اے کافر تم میرا حق مجھے ادا کرو اور کافر شخص مومن سے کہے گا : اے مومن تم میرا حق مجھے ادا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12577
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِئْسَ الشَّعْبُ جِيَادٌ " . قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ : فِيمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ ، فَتَصْرُخُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ ، فَيَسْمَعُهَا مَنْ بَيْنِ الْخَافِقَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رِيَاحُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پہاڑ کا اچھا راستہ ہی برا ہو گا ، یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے دابۃ الارض نکلے گا اور تین مرتبہ چیخے گا ، تو دونوں کناروں کے درمیان موجود ہر چیز اسے سن لے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ریاح بن عبیداللہ بن عمر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ریاح بن عبیداللہ بن عمر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12578
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ - أَرَاهُ رَفَعَهُ - قَالَ : " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ أَعْظَمِ الْمَسَاجِدِ ، فَبَيْنَا هُمْ إِذْ دَبَّتِ الْأَرْضُ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ تَصَدَّعَتْ " . قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : تَخْرُجُ حِينَ يَسْرِي الْإِمَامُ مِنْ جَمْعٍ ، وَإِنَّمَا جُعِلَ سَابِقَ الْحَاجِّ لِيُخْبِرَ النَّاسَ أَنَّ الدَّابَّةَ لَمْ تَخْرُجْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” دابۃ الارض سب سے بڑی مسجد سے نکلے گا ، ابھی وہ لوگ وہاں ہوں گے کہ اسی دوران زمین ہل جائے گی اور ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ وہ تھرتھراے گی ۔ “ ابن عیینہ بیان کرتے ہیں : یہ اس وقت نکلے گا جب اس وقت کا حاکم مزدلفہ سے روانہ ہو گا ، حاجیوں سے پہلے جانے والوں کو اسی لئے مقرر کیا گیا ہے ، تاکہ وہ لوگوں کو یہ بتا دیں کہ ابھی دابۃ الارض نہیں نکلا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سورج مغرب سے نکل آئے گا ، تو ابلیس سجدے میں گر جائے گا ، اور وہ بلند آواز میں پکار کر کہے گا : اے میرے معبود ! تو مجھے حکم دے جسے تو چاہتا ہے ، میں اسے سجدہ کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اس کے ساتھی اس کے پاس اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے : اے آقا ! یہ گریہ و زاری کس وجہ سے ہے ؟ وہ کہے گا : میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ مجھے ایک متعین وقت تک کی مہلت دے ، تو یہ وہ متعین وقت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : پھر دابۃ الارض صفا پہاڑ میں موجود ایک سوراخ سے نکلے گا ، اور اس کا پہلا قدم انطاکیہ میں ہو گا ، پھر وہ ابلیس کے پاس آئے گا اور اس کو تھپڑ مارے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سورج مغرب سے نکل آئے گا ، تو ابلیس سجدے میں گر جائے گا ، اور وہ بلند آواز میں پکار کر کہے گا : اے میرے معبود ! تو مجھے حکم دے جسے تو چاہتا ہے ، میں اسے سجدہ کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اس کے ساتھی اس کے پاس اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے : اے آقا ! یہ گریہ و زاری کس وجہ سے ہے ؟ وہ کہے گا : میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ مجھے ایک متعین وقت تک کی مہلت دے ، تو یہ وہ متعین وقت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : پھر دابۃ الارض صفا پہاڑ میں موجود ایک سوراخ سے نکلے گا ، اور اس کا پہلا قدم انطاکیہ میں ہو گا ، پھر وہ ابلیس کے پاس آئے گا اور اس کو تھپڑ مارے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔