کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مسخ کیے جانے ، پتھر مارے جانے ، شیاطین کو چھوڑے جانے اور بجلیاں گرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12582
عَنْ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ ، فَيُقَالُ : مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ " . قَالَ : فَعَرَفْتُ حِينَ قَالَ : " قَبَائِلَ " أَنَّهَا الْعَرَبُ ; لِأَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صحار عبدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مختلف قبائل کو زمین میں دھنسا نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ یہ کہا: جائے گا : بنو فلاں میں سے کون بچا ہے ؟ “ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ قبائل استعمال کیا تو اس سے مجھے پتہ چل گیا کہ اس سے مراد عرب ہیں کیونکہ عجمی لوگ تو اپنی بستیوں کے حوالے سے منسوب ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12583
وَعَنْ بُقَيْرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ قَالَتْ : إِنِّي لَجَالِسَةٌ فِي صُفَّةِ النِّسَاءِ ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ وَهُوَ يُشِيرُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِذَا سَمِعْتُمْ بِخَسْفٍ هَهُنَا ، فَقَدْ أَطَلَّتِ السَّاعَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں خواتین والے چبوترے پر بیٹھی ہوئی تھی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبے کے دوران اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو ! جب تم سنو کہ یہاں زمین میں دھنسایا گیا ہے ، تو اس کا مطلب ہو گا قیامت آنے والی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ، امام أحمد کی مختلف اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ، امام أحمد کی مختلف اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12584
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَكْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ ، حَتَّى يَأْتِيَ الرَّجُلُ فَيَقُولُ : مَنْ صُعِقَ قِبَلَكُمُ الْغَدَاةَ ؟ فَيَقُولُونَ : صُعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے قریب ہونے کے زمانے میں آسمانی بجلی بہت گرے گی ، یہاں تک کہ کوئی شخص آئے گا اور یہ کہے گا : آج صبح تمہاری طرف کسی شخص پر بجلی گری ہے ، تو وہ جواب دیں گے فلاں اور فلاں پر گری ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے محمد بن مصعب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے محمد بن مصعب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12585
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مُدَّةُ أُمَّتِكَ مِنَ الرَّخَاءِ ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، كُلُّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " . فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَالَ : " لَقَدْ سَأَلْتَنِي ، عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي ، مُدَّةُ أُمَّتِي مِنَ الرَّخَاءِ مِائَةُ سَنَةٍ " . قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ أَمَارَةٍ أَوْ عَلَامَةٍ أَوْ آيَةٍ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، الْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَإِرْسَالُ الشَّيَاطِينِ الْمُجَلِّبَةِ عَلَى النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سَعْدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
جنادہ بن امیہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی امت کی سہولت مدت کب تک رہے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہیں دیا ، وہ شخص واپس چلا گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ لوگ اسے آپ کے پاس واپس لے کر آئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ایسی چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا ہے کہ جس کے بارے میں مجھ سے کسی نے دریافت نہیں کیا ، میری امت کی سہولت والی مدت ایک سو سال ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا شاید تین مرتبہ یہ بات بیان کی ، تو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس کی کوئی نشانی یا علامت یا آیت ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! زمین میں دھنسایا جانا ، زلزلے آنا اور کھینچ لینے والے شیاطین کا لوگوں کی طرف بھیجا جانا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سعد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سعد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12586
وَعَنْ فَرْقَدَ السَّبَخِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي حَبِيبٌ أَبُو حَبِيبٍ الشَّامِيُّ ، عَنْ أَبِي عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : وَحَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ - أَوْ حُدِّثْتُ عَنْهُ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَيَبِيتَنَّ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَشَرٍ وَبَطَرٍ وَلَعِبٍ وَلَهْوٍ ، فَيُصْبِحُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ ، بِاسْتِحْلَالِهِمُ الْحَرَامَ ، وَاتِّخَاذِهِمُ الْقَيْنَاتِ ، وَشُرْبِهِمُ الْخَمْرَ ، وَبِأَكْلِهِمُ الرِّبَا ، وَلُبْسِهِمُ الْحَرِيرَ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ مِنْهُ حَدِيثَ أَبِي أُمَامَةَ فَقَطْ ، وَفَرْقَدٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
فرقد سبخی بیان کرتے ہیں : حبیب ابوحبیب شامی نے ابوعطاء کے حوالے سے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : شہر بن حوشب نے سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ وہ یہ کہتے ہیں : عاصم بن عمرو بجلی نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سعید بن مسیب نے مجھے حدیث بیان کی ہے ، یا ان کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی گئی ہے آپ نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، میری امت کے کچھ لوگ تکبر و خودسری اور لہو و لعب کی حالت میں رات بسر کریں گے ، اور صبح کے وقت وہ لوگ بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے کیونکہ وہ حرام چیزوں کو حلال قرار دیتے ہوں گے ، انہوں نے گانے والی عورتیں رکھی ہوئی ہوں گی ، اور وہ شراب پیتے ہوں گے ، گانے گاتے ہوں گے ، اور وہ سود کھاتے ہوں گے ، اور ریشم پہنتے ہوں گے ۔ “
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس میں سے صرف سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نقل کی ہے ، اور فرقد نامی راوی ضعیف ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس میں سے صرف سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نقل کی ہے ، اور فرقد نامی راوی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12587
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَرَجْفٌ وَقَذْفٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّازُ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت میں زمین میں دھنسائے جانے ، مسخ کیے جانے ، زلزلے آنے اور پتھر مارے جانے ( کا عذاب ) ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12588
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ ، لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَقَعَ بِهِمُ الْخَسْفُ وَالْقَذْفُ وَالْمَسْخُ " . قَالُوا : وَمَتَى ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ النِّسَاءَ رَكِبْنَ السُّرُوجَ ، وَكَثُرَتِ الْقَيْنَاتُ ، وَفَشَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ ، وَاسْتَغْنَى الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ ، وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : " وَشَرِبَ الْمَصْلُوبُ فِي آنِيَةِ الشُّرْكِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ " . قَالَ : " وَاسْتَغْنَى الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ ، وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ ، وَاسْتَذْفَرُوا وَاسْتَعَدُّوا " . وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ ، فَوَضَعَهَا عَلَى جَبْهَتِهِ ، فَسَتَرَ وَجْهَهُ . وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک ان لوگوں کو زمین میں دھنسائے جانے ، پتھر مارے جانے اور مسخ کیے جانے کا عذاب نہیں ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کب ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم عورتوں کو دیکھو کہ وہ زینوں پر سواری کر رہی ہیں ، اور گانے والی عورتیں زیادہ ہو گئی ہیں ، اور جھوٹی گواہی پھیل چکی ہے ، مرد مردوں پر اور عورتیں ، عورتوں پر اکتفاء کر رہی ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ” مصلوب شخص سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیے گا ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مرد مردوں کے حوالے سے اور خواتین ، خواتین کے حوالے سے بے نیاز ہو جائیں گے ، وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی جنسی عمل کریں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا اور پھر آپ نے اسے چہرے پر رکھ کر اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ” مصلوب شخص سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیے گا ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مرد مردوں کے حوالے سے اور خواتین ، خواتین کے حوالے سے بے نیاز ہو جائیں گے ، وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی جنسی عمل کریں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا اور پھر آپ نے اسے چہرے پر رکھ کر اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12589
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَمَسْخٌ " . قِيلَ : وَمَتَى ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَيْنَاتُ ، وَاسْتُحِلَّتِ الْخَمْرُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آخری زمانے میں زمین میں دھنسائے جانے ، پتھر مارے جانے اور مسخ کیے جانے کا عذاب ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ کب ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب گانے بجانے کے آلات اور گانے بجانے والی عورتیں ظاہر ہو جائیں گی ( یعنی زیادہ ہو جائیں گی ) اور شراب کو حلال قرار دیدیا جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس کے دو طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس کے دو طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12590
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَبِيتَنَّ قَوْمٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى طَعَامٍ وَشَرَابٍ وَلَهْوٍ ، فَيُصْبِحُوا قَدْ مُسِخُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ فَرَقَدُ السَّبَخِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت کے کچھ لوگ کھاتے پیتے ہوئے اور لہو و لعب میں رات بسر کریں گے ، اور صبح کے وقت انہیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرقد سبخی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرقد سبخی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12591
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ ، فِي مُتَّخِذِي الْقِيَانِ ، وَشَارِبِي الْخَمْرِ ، وَلَابِسِي الْحَرِيرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْجَصَّاصُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس امت میں زمین میں دھنسایا جانا ، مسخ کیا جانا اور پتھر مارے جانا ( ان سب صورتوں کا عذاب ) ہو گا ، یہ گانے والی عورتیں رکھنے کی وجہ سے ، شراب پینے کی وجہ سے اور ریشم پہننے کی وجہ سے ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند ایک راوی زیاد بن ابوزیاد جصاص ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند ایک راوی زیاد بن ابوزیاد جصاص ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12592
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّهُ يَكُونُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ بَيْنَا هُمْ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ وَضَرْبِ الْمَعَازِفِ ، حَتَّى يَأْفِكَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، فَيَعُودُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت میں آخری زمانے میں ایک قوم ہو گی وہ لوگ شراب پی رہے ہوں گے باجے بجا رہے ہوں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان پر ناراضگی نازل کرے گا ، اور وہ لوگ بندر اور خنزیر بن جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12593
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ فِي أُمَّتِي خَسْفًا وَمَسْخًا وَقَذْفًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ [ بِنَحْوِهِ ] ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن ابوراشد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں دھنسائے جانے ، مسخ کیے جانے اور پتھر مارے جانے ( کا عذاب ) ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12594
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تُدَاوِي الْجَرْحَى فِي عَسْكَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ لِابْنِي . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُنَيْسٌ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . فَأَقْعَدَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ : " يَا أُنَيْسُ ، إِنَّ الْمُسْلِمِينَ يُمَصِّرُونَ بَعْدِي أَمْصَارًا ، مِمَّا يُمَصِّرُونَ . مِصْرًا يُقَالُ لَهَا : الْبَصْرَةُ ، فَإِنْ أَنْتَ وَرَدْتَهَا ، فَإِيَّاكَ وَمَقْصِفَهَا وَسُوقَهَا وَبَابَ سُلْطَانِهَا ، فَإِنَّهَا سَيَكُونُ بِهَا خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ ، آيَةُ ذَلِكَ أَنْ يَمُوتَ الْعَدْلُ ، وَيَفْشُوَ فِيهَا الْجُورُ ، وَيَكْثُرَ فِيهَا الزِّنَا ، وَتَفْشُوَ فِيهَا شَهَادَةُ الزُّورِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ میرے بیٹے کے لئے دعا کر دیں تو ( عنایت ہو گی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ننھے انس کے لئے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعا کی : اے ننھے انس ! مسلمان میرے بعد مختلف شہر آباد کریں گے ، جو شہر وہ آباد کریں گے ، ان میں سے ایک ایسا شہر ہو گا جس کا نام بصرہ ہو گا ، اگر تم وہاں جاؤ تو وہاں کے لہو و لعب کے مقامات ، وہاں کے بازار اور وہاں کے حکمران کے دروازے سے بچ کے رہنا ، کیونکہ وہاں زمین میں دھنسائے جانے ، مسخ کیے جانے اور پتھر مارے جانے کا عذاب ہو گا ، اس کی نشانی یہ ہے کہ عادل شخص مر جائے گا ، تو وہاں ظلم پھیل جائے گا ، اور وہاں زنا کثرت سے پھیل جائے گا ، اور وہاں جھوٹی گواہیاں پھیل جائیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12595
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ بَعْدِي خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُخْسَفُ بِالْأَرْضِ وَفِيهَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَكْثَرَ أَهْلُهَا الْخَبَثَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میرے بعد مشرق میں ایک زمین میں دھنسایا جانا اور مغرب میں جزیرہ نما عرب میں ایک زمین میں دھنسایا جانا ہو گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا زمین میں لوگوں کو دھنسا دیا جائے گا جبکہ ان میں نیک لوگ بھی موجود ہوں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جب وہاں کے رہنے والوں میں کثرت خبیث لوگوں کی ہو گی ( تو ایسا ہی ہو گا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12596
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّنْ مُسِخَ ، أَيَكُونُ لَهُ نَسْلٌ ؟ قَالَ : " مَا مُسِخَ أَحَدٌ قَطُّ فَكَانَ لَهُ نَسْلٌ وَلَا عَقِبٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسخ کیے جانے کے بارے میں دریافت کیا : کیا ان لوگوں کی نسل ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کسی قوم کو مسخ کیا گیا تو نہ ان کی نسل ہوئی اور نہ ان کی اولاد رہی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12597
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مُسِخَتْ أُمَّةٌ قَطُّ فَيَكُونُ لَهَا نَسْلٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کسی امت کو مسخ کیا گیا تو ان کی نسل باقی نہیں رہی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔