کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: یاجوج ماجوج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12570
عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ - وَهُوَ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ - عَنْ خَالَتِهِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ مِنْ لَدْغَةِ عَقْرَبٍ فَقَالَ : " إِنَّكُمْ تَقُولُونَ : لَا عَدُوَّ ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا ، حَتَّى يَأْتِيَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ ، عِرَاضُ الْوُجُوهِ ، صِغَارُ الْعُيُونِ ، صُهْبُ الشِّعَافِ ، وَمِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمِجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن حرملہ یہ خالد بن عبداللہ بن حرملہ ہیں وہ اپنی پھوپھی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھو کے ڈنک مارنے کی وجہ سے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ یہ کہتے ہو کہ دشمن نہیں رہا ، تم لوگ مسلسل دشمن کے ساتھ جنگ کرتے رہو گے ، یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آ جائیں گے ، جن کے چہرے چوڑے ہوں گے ، آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، ان کا رنگ سیاہی مائل سرخ ہو گا ، وہ ہر ایک بلندی سے تیزی سے چلتے ہوئے نیچے کی طرف آئیں گے ، اور ان کے چہرے تہہ والی ڈھالوں کی مانند ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (271/5)»
حدیث نمبر: 12571
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِنْ وَلَدِ آدَمَ ، [ وَ ] لَوْ أُرْسِلُوا لَأَفْسَدُوا عَلَى النَّاسِ مَعَايِشَهُمْ ، وَلَنْ يَمُوتَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا تَرَكَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ أَلْفًا فَصَاعِدًا ، وَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ ثَلَاثَ أُمَمٍ : تَاوِيلُ ، وَتَارِيسُ ، وَمَنْسَكُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یاجوج ماجوج سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں گے ، اگر انہیں چھوڑ دیا جائے تو وہ لوگوں کی زندگی خراب کر دیں ، ان میں سے کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک وہ اپنی اولاد میں سے ایک ہزار سے زیادہ ذریت کو نہیں چھوڑے گا ، اور ان کے بعد تین امتیں ہوں گی ، تاویل ، تاریس اور منسک ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12572
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ فَقَالَ : " يَأْجُوجُ أُمَّةٌ ، وَمَأْجُوجُ أُمَّةٌ ، كُلُّ أُمَّةٍ أَرْبَعُمِائَةِ أَلْفِ أُمَّةٍ ، لَا يَمُوتُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى أَلْفِ ذَكَرٍ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ صُلْبِهِ ، كُلٌّ قَدْ حَمَلَ السِّلَاحَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صِفْهُمْ لَنَا . قَالَ : " هُمْ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ : فَصِنْفٌ مِنْهُمْ أَمْثَالَ الْأَرْزِ " . قُلْتُ : وَمَا الْأَرْزُ ؟ قَالَ : " شَجَرٌ بِالشَّامِ ، طُولُ الشَّجَرَةِ عِشْرُونَ وَمِائَةَ ذِرَاعٍ فِي السَّمَاءِ " . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَا يَقُومُ لَهُمْ خَيْلٌ وَلَا حَدِيدٌ ، وَصِنْفٌ مِنْهُمْ يَفْتَرِشُ بِأُذُنِهِ وَيَلْتَحِفُ بِالْأُخْرَى ، لَا يَمُرُّونَ بِفِيلٍ وَلَا وَحْشٍ وَلَا جَمَلٍ وَلَا خِنْزِيرٍ إِلَّا أَكَلُوهُ ، وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ أَكَلُوهُ ، مُقَدِّمَتُهُمْ بِالشَّامِ ، وَسَاقَتُهُمْ بِخُرَاسَانَ ، يَشْرَبُونَ أَنْهَارَ الْمَشْرِقِ ، وَبُحَيْرَةَ طَبَرِيَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یاجوج ماجوج کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” یاجوج ایک امت ہے اور ماجوج ایک امت ہے ، ان میں سے ہر ایک امت چار لاکھ امتوں پر مشتمل ہے ، اور ان میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک وہ اپنی اولاد ( اور اولاد کی اولاد ) میں سے اپنے آگے ایک ہزار مذکر افراد کو نہیں دیکھ لے گا ، جن میں سے ہر ایک نے ہتھیار اٹھایا ہوا ہو گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تین قسم کے ہوں گے ، ایک قسم وہ ہو گی جو صنوبر کے درخت کی مانند ہوں گے ، میں نے دریافت کیا : ارز سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : شام میں موجود ایک درخت ہے ۔ اس درخت کی لمبائی ایک سو بیس ذراع ( کہنی سے درمیانی سب سے بڑی انگلی کے کنارے تک کی مقدار ) ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے سامنے کوئی گھوڑا یا ہتھیار قائم نہیں رہ سکتا ، ان میں سے ایک گروہ وہ ہو گا جو ایک کان کو بطور فرش بچھائے گا ، اور دوسرے کو لحاف کے طور پر لپیٹ لے گا ۔ وہ لوگ جس بھی ہاتھی یا اونٹ یا خنزیر کے پاس سے گزریں گے اسے کھا جائیں گے ، یہاں تک کہ ان میں سے جو شخص مرے گا ، وہ اس کو بھی کھا جائیں گے ، ان کا پہلا حصہ شام میں ہو گا ، اور ہانک کر لے جانے والا خراسان میں ہو گا ، وہ مشرق کی نہروں کو پی جائیں گے اور بحیرہ طبریہ کو پی جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سعید عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف