کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ابن صیاد کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12559
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : لَأَنْ أَحْلِفَ عَشْرَ مَرَّاتٍ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ هُوَ الدَّجَّالُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ مَرَّةً وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ . قَالَ : وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَنِي إِلَى أُمِّهِ فَقَالَ : " سَلْهَا كَمْ حَمَلَتْ بِهِ ؟ " . قَالَ : فَأَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ : حَمَلْتُ بِهِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا . قَالَ : ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهَا فَقَالَ : " سَلْهَا ، عَنْ صَيْحَتِهِ حِينَ وَقَعَ " . قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ : صَاحَ صِيَاحَ الصَّبِيِّ ابْنِ شَهْرٍ . ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً ، قَالَ : خَبَّأْتَ لِي خَطْمَ شَاةٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ " . قَالَ : فَأَرَادَ أَنْ يَقُولَ الدُّخَانَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ ، فَقَالَ : الدُّخْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْسَأْ ، فَإِنَّكَ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : " إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً فَمَا هُوَ ؟ " . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں دس مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ ابن صیاد ہی دجال ہے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اس کی ماں کی طرف بھیجا اور فرمایا : تم اس عورت سے پوچھو کہ اسے کتنا عرصہ اس کا حمل رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں اس عورت کے پاس آیا ، میں نے اس سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو اس عورت نے بتایا : مجھے بارہ مہینے تک اس کا حمل رہا تھا ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مجھے اس عورت کی طرف بھیجا اور فرمایا : تم اس عورت سے دریافت کرنا کہ جب یہ پیدا ہوا تھا تو یہ چیخا کس طرح سے تھا ، راوی کہتے ہیں : میں دوبارہ اس کے پاس گیا ، میں نے اس عورت سے دریافت کیا ، تو اس نے بتایا : یہ یوں ( بلند آواز میں ) چیخا تھا جیسے ایک ماہ کا بچہ چیختا ہے ۔ سیدنا ابوزر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر بعد میں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے دریافت کیا : میں نے تمہارے لئے ایک بات دل میں سوچی ہے ۔ اس نے کہا: آپ نے مٹیالی بکری کی رسی اور دھویں کے بارے میں سوچا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اس نے دھویں کے لئے لفظ دخان کہنا چاہا لیکن وہ نہیں کہہ سکا ، لیکن اس نے صرف ” دخ “ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پرے ہو جاؤ ! تم اپنی اوقات سے آگے نہیں جا سکو گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہارے لئے ایک چیز سوچی ہے ، وہ کیا ہے ؟ امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن جبیرہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12559
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3400) اخرجه احمد فى المسند (148/5)»
حدیث نمبر: 12560
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ ، طَالِعَةٌ نَاتِئَةٌ ، فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ ، فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِ . فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ . ثُمَّ قَالَ : " يَا ابْنَ صَيَّادٍ مَا تَرَى ؟ " . قَالَ : أَرَى حَقًّا ، وَأَرَى بَاطِلًا ، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، فَلُبِّسَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . فَقَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ ، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ " . فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا ، فَيَعْلَمُ أَهُوَ هُوَ أَمْ لَا ، قَالَ : " يَا ابْنَ صَيَّادٍ مَا تَرَى ؟ " . قَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . فَلُبِّسَ عَلَيْهِ ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُ . ¤ ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَنَا مَعَهُ ، قَالَ : فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَيْدِينَا ، رَجَاءَ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا ، فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ " . فَقَالَ : " يَا ابْنَ صَيَّادٍ ، مَا تَرَى ؟ " . فَقَالَ : أَرَى حَقًّا ، وَأَرَى بَاطِلًا ، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . فَلُبِّسَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ابْنَ صَيَّادٍ ، إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئًا ، فَقَالَ : هُوَ الدُّخُّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْسَأْ ، اخْسَأْ " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ ، إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ ، وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ " . قَالَ : فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَيْقِنًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہودیوں کی ایک عورت نے مدینہ منورہ میں ایک بچے جو جنم دیا جس کی ایک آنکھ خراب تھی ، وہ باہر کی طرف ابھری ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو ، ایک مرتبہ آپ نے اس لڑکے کو چادر کے نیچے پایا ، اس بچے کی ماں نے اسے اطلاع دیدی اور بولی: اے اللہ کے بندے ! یہ سیدنا ابوالقاسم تشریف لائے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے تو وہ چادر میں سے نکل آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ، اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے ، اگر یہ اس کو رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ، اس نے کہا: میں ایک حق چیز دیکھتا ہوں اور ایک باطل چیز دیکھتا ہوں اور پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں ، تو یہ معاملہ اس کے لئے الجھن کا باعث بن گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے دریافت کیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے ( حقیقی ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ نے اسے چھوڑ دیا ۔ پھر آپ دوسری مرتبہ اس کے پاس آئے ، تو آپ نے اس کو پایا کہ وہ کھجوروں کے باغ میں موجود تھا ، آپ نے اس کی طرف جانے کا قصد کیا ، لیکن اس کی ماں نے اسے بتا دیا اور بولی: اے اللہ کے بندے ! یہ ابوالقاسم تشریف لے آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے اگر یہ اسے رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ اس کے کلام میں سے کوئی بات سن لیں اور آپ کو پتا چل جائے کہ کیا یہ وہی ہے یا نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ، اس ( ابن صیاد ) نے یہ دریافت کیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ اور اس کے ( سچے اور حقیقی ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو یہ معاملہ آپ کے لئے الجھن کا باعث بن گیا آپ نے اسے چھوڑا اور تشریف لے گئے ۔ پھر جب تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ تشریف لائے ، تو آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ اور افراد تھے ، میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے آگے جلدی چلے گئے ، آپ کو یہ توقع تھی کہ آپ اس کے کلام میں سے کوئی بات سن لیں گے ، لیکن آپ سے پہلے اس کی ماں نے اسے کہا: اے اللہ کے بندے ! یہ سیدنا ابوالقاسم تشریف لے آئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے ، اگر یہ اسے ایسے ہی رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ؟ اس نے کہا: میں ایک حق چیز دیکھتا ہوں اور ایک باطل دیکھتا ہوں اور پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے ( حقیقی اور سچے ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ، یہ معاملہ آپ کے لئے الجھن کا باعث بن گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن صیاد ! میں نے تمہارے لئے ایک بات سوچی ہے ۔ اس نے کہا: وہ دخ ( یعنی دھواں ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پرے ہو جاؤ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے ( کہ میں اسے قتل کر دوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تو یہ وہی ہوا ، تو پھر میں اس کا متعلقہ فرد نہیں ہوں ، کیونکہ اس کے متعلقہ فرد سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے اور اگر یہ وہ ( یعنی دجال ) نہیں ہے ، تو تمہیں اس بات کا حق نہیں ہے کہ تم ذمیوں سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کرو ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل پریقین رہے کہ وہی دجال ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12560
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (368/3)»
حدیث نمبر: 12561
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَسُئِلَ : هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قِيلَ : فَهَلْ كَلَّمْتَهُ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُهُ انْطَلَقَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، حَتَّى أَتَى دَارًا قَوْرَاءَ ، فَقَالَ : " افْتَحُوا هَذَا الْبَابَ " . فَفُتِحَ ، وَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلْتُ مَعَهُ ، فَإِذَا قَطِيفَةٌ فِي وَسَطِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " ارْفَعُوا هَذِهِ الْقَطِيفَةَ " . فَرَفَعُوا الْقَطِيفَةَ فَإِذَا غُلَامٌ أَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِيفَةِ ، فَقَالَ : " قُمْ يَا غُلَامُ " . فَقَامَ الْغُلَامُ ، فَقَالَ : " يَا غُلَامُ ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " . قَالَ الْغُلَامُ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا " . مَرَّتَيْنِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ان سے دریافت کیا گیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ فلاں فلاں جگہ سے تشریف لے جا رہے تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے کچھ اصحاب تھے ، یہاں تک کہ آپ کشادہ گھر میں آئے ، آپ نے فرمایا : تم لوگ یہ دروازہ کھولو ، دروازہ کھولا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے ، آپ کے ساتھ میں بھی داخل ہوا ، وہاں گھر کے درمیان میں ایک چادر پڑی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس چادر کو اٹھاؤ ، لوگوں نے چادر کو اٹھایا تو اس کے نیچے ایک کانا لڑکا تھا ، جو اس چادر کے نیچے موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لڑکے اٹھ جاؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لڑکے کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس لڑکے نے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ ارشاد فرمایا : تم لوگ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہدی بن عمران ہے امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث میں اس کی متابعت نہیں کی گئی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12561
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (454/5)»
حدیث نمبر: 12562
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن حارثہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب سے فرمایا چلو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب تھے ، یہاں تک کہ یہ لوگ ایک طویل راستے میں دو باغوں کے درمیان جگہ پر داخل ہوئے ، جب یہ لوگ گھر تک پہنچے تو وہاں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے پاس ایک بڑا مشکیزہ تھا جو پانی سے بھرا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں مشکیزہ دیکھ رہا ہوں لیکن مجھے اس کا اٹھانے والا نظر نہیں آ رہا ، تو اس عورت نے گھر کے کونے میں موجود ایک چادر کی طرف اشارہ کیا ، وہ لوگ اٹھ کر اس چادر کی طرف گئے ، انہوں نے اس چادر کو ہٹایا تو اس کے نیچے ایک انسان موجود تھا ، اس نے اپنا سر اٹھایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چہرے قبیح ہو جائیں ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ میرے بارے میں کیوں سختی سے بات کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہارے لئے ایک چیز سوچی ہے ، تم مجھے بتاؤ کہ وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے سورت دخان سوچی تھی ، تو اس نے کہا: دخ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پرے ہو جاؤ ، اللہ تعالیٰ نے جو چاہا وہ ہو کے رہے گا ، پھر آپ تشریف لے گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن حسن بن فرات ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اُسے ثقہ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12562
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3399) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (43666)»
حدیث نمبر: 12562
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ : " انْطَلِقْ " . فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ ، حَتَّى دَخَلُوا بَيْنَ حَائِطَيْنِ فِي زُقَاقٍ طَوِيلٍ ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى الدَّارِ إِذَا امْرَأَةٌ قَاعِدَةٌ ، وَإِذَا قِرْبَةٌ صَغِيرَةٌ مَلْأَى مَاءً ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرَى قِرْبَةً ، وَلَا أَرَى حَامِلَهَا " . فَأَشَارَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى قَطِيفَةٍ فِي نَاحِيَةِ الدَّارِ ، فَقَامُوا إِلَى الْقَطِيفَةِ فَكَشَفُوهَا ، فَإِذَا تَحْتَهَا إِنْسَانٌ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَاهَتِ الْوُجُوهُ " . فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لِمَ تُفْحِشُ عَلَيَّ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً ، فَأَخْبِرْنِي مَا هُوَ ؟ " . وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ خَبَّأَ لَهُ سُورَةَ الدُّخَانِ ، فَقَالَ : الدُّخُّ . فَقَالَ : " اخْسِ ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ " . ثُمَّ انْصَرَفَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ سے فرمایا : ” چلو ! “ ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ساتھ چل پڑے ، یہاں تک کہ وہ ایک طویل گلی میں دو دیواروں (باغوں) کے درمیان داخل ہوئے ۔ جب وہ ایک مکان کے پاس پہنچے تو وہاں ایک عورت بیٹھی تھی اور پانی سے بھری ہوئی ایک چھوٹی مشک رکھی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” مجھے مشک تو نظر آ رہی ہے لیکن اسے اٹھانے والا (لانے والا) نظر نہیں آ رہا “ ۔ اس عورت نے گھر کے ایک کونے میں رکھی چادر (یا کمبل) کی طرف اشارہ کیا ۔ صحابہ نے جا کر وہ چادر ہٹائی تو اس کے نیچے ایک انسان (ابنِ صیاد) تھا ، اس نے اپنا سر اٹھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” چہرے بگڑ جائیں (تم پر لعنت ہو) “ ۔ اس نے کہا: اے محمد ! آپ مجھے برا بھلا کیوں کہہ رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اپنے دل میں (امتحان کے لیے ) تیرے سامنے ایک بات چھپائی ہے ، مجھے بتاؤ وہ کیا ہے ؟ “ - اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے سورۃ الدخان (کا تصور یا آیت) چھپا رکھی تھی - تو اس نے (ادھورا لفظ) کہا: ” دُخ “ (یعنی دھواں) ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” ذلیل و خوار پڑا رہ ! جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے “۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹ آئے ۔
اسے امام بزار رحمہ اللہ نے اور امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الکبیر اور المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں زیاد بن حسن بن فرات نامی راوی ہے ، جسے امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12562
حدیث نمبر: 12563
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ : " مَا تَرَى ؟ " . قَالَ : أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ وَحَوْلَهُ الْحِيَاتُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا : تم کیا دیکھتے ہو ، اس نے کہا: میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے اردگرد سانپ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا خیال ہے وہ شیطان کا تخت ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1220) اخرجه احمد فى المسند (66/3)»
حدیث نمبر: 12564
وَعَنْهُ قَالَ : ذُكِرَ ابْنُ صَيَّادٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ : [ إِنَّهُ يَزْعُمُ ] إِنَّهُ لَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا كَلَّمَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ابن صیاد کا ذکر کیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ جس بھی چیز کے پاس سے گزرتا ہے وہ چیز اس کے ساتھ بات چیت کرتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (79/3)»
حدیث نمبر: 12565
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَأَنْ أَحْلِفَ بِاللَّهِ تِسْعًا أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ هُوَ الدَّجَّالُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ . وَلَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُتِلَ شَهِيدًا ، أَحَبُّ لِي مِنْ أَنْ أَحْلِفَ أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ ; وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا ، وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نو مرتبہ اللہ کے نام کا حلف اٹھاؤں اس بات پر کہ ابن صیاد ہی دجال ہے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے ، اور میں نو مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید ہونے کے طور پر قتل کیا گیا ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل نہیں کیا گیا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بھی بنایا تھا اور آپ کو شہادت کے مرتبے پر بھی فائز کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5207) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10119)»
حدیث نمبر: 12566
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَّأَ لِابْنِ الصَّيَّادِ دُخَّانًا ، فَسَأَلَهُ عَمَّا خَبَّأَ لَهُ ، فَقَالَ : دُخُّ . فَقَالَ : " اخْسَأْ ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " . فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا قَالَ ؟ " . قَالَ بَعْضُهُمْ : وَخُّ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ قَالَ : دُخُّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدِ اخْتَلَفْتُمْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، فَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلَافًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لئے ایک چیز دل میں سوچی اور اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا : جو آپ نے اس کے بارے میں سوچی تھی ، تو اس نے کہا: دخ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پرے ہو جاؤ تم اپنی اوقات سے آگے نہیں جا سکو گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس نے کیا کہا: تھا ؟ کسی نے کہا: اس نے وخ کہا: تھا ، کسی نے کہا: بلکہ دخ کہا: تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور پھر بھی تم اختلاف کا شکار ہو گئے ، تو میرے بعد تو تم لوگ زیادہ شدید اختلاف کا شکار ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12566
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2909 و 2908)»
حدیث نمبر: 12567
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : مَا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ فَقَالَ : " مَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ لَيْسَ بِضَارِّكَ " . قُلْتُ : أَلَا أَقْتُلُ ابْنَ صَيَّادٍ ؟ قَالَ : " مَا تَصْنَعُ بِقَتْلِهِ ؟ إِنْ كَانَ هُوَ الدَّجَّالُ فَلَنْ تَخْلُصَ إِلَى قَتْلِهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الدَّجَّالُ فَمَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قِصَّةِ قَتْلِ ابْنِ صَيَّادٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ جَهْوَرِ بْنِ مَنْصُورٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے دریافت کیا ہے : اس سے زیادہ کسی اور نے دریافت نہیں کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کا کیا کرو گے ، وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا پائے گا ، میں نے عرض کی : کیا میں ابن صیاد کو قتل نہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے قتل کر کے کیا کرو گے ، اگر تو وہ دجال ہوا تو تم اسے قتل نہیں کر پاؤ گے ، اور اگر وہ دجال نہ ہوا تو پھر تم اس کا کیا کرو گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔ اس میں ابن صیاد کے قتل والا واقعہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جہور بن منصور کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (399/20)»