حدیث نمبر: 12500
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ جَهْدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ الدَّجَّالِ . فَقَالُوا : أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ الْمَاءَ ، وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَيْسَ " . قَالُوا : فَمَا طَعَامُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّهْلِيلُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِيمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْجَهْدِ طِوَالٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فاقہ کشی کا ذکر کیا جو دجال سے پہلے ہو گی ، تو لوگوں نے دریافت کیا : اس وقت کون سا مال سب سے بہتر ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ مضبوط غلام جو اپنے مالکان کو پانی لا کے دے سکے ، جہاں تک کھانے کا معاملہ ہے ۔ وہ تو نہیں ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : پھر اس وقت مومنین کا کھانا کیا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تسبیح پڑھنا ، تکبیر کہنا لا الہ الا اللہ پڑھنا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : اس وقت عرب کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت عرب تھوڑے سے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ آگے چل کے کچھ احادیث آئیں گی جو اس سے پہلے فاقہ کشی کے بارے میں ہوں گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ آگے چل کے کچھ احادیث آئیں گی جو اس سے پہلے فاقہ کشی کے بارے میں ہوں گی ۔