کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
حدیث نمبر: 12444
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ بَابٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کوئی بے وقوف ، جو بے وقوف کا بچہ ہو ، وہ دنیا پر غالب نہیں آ جائے گا ، اور لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ مومن ہو گا ، جو نیک ماں باپ کی اولاد ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس کے بعض راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس سے پہلے ایک باب گزر چکا ہے ، جو اسی مفہوم کے بارے میں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12444
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12445
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَجِيءُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ تَكُونُ وُجُوهُهُمْ وُجُوهَ الْآدَمِيِّينَ ، وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبَ الشَّيَاطِينِ ، أَمْثَالُ الذِّئَابِ الضَّوَارِي ، لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ شَيْءٌ مِنَ الرَّحْمَةِ ، سَفَّاكِينَ لِلدِّمَاءِ ، لَا يَرْعَوُونَ عَنْ قَبِيحٍ ، إِنْ تَابَعْتَهُمْ وَارَوْكَ ، وَإِنْ تَوَارَيْتَ عَنْهُمُ اغْتَابُوكَ ، وَإِنْ حَدَّثُوكَ كَذَبُوكَ ، وَإِنِ ائْتَمَنْتَهُمْ خَانُوكَ ، صَبِيُّهُمْ عَارِمٌ ، وَشَابُّهُمْ شَاطِرٌ ، وَشَيْخُهُمْ لَا يَأْمُرُ بِمَعْرُوفٍ وَلَا يَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ ، الِاعْتِزَازُ بِهِمْ ذُلٌّ ، وَطَلَبُ مَا فِي أَيْدِيهِمْ فَقْرٌ ، الْحَلِيمُ فِيهِمْ غَاوٍ ، وَالْآمِرُ فِيهِمْ بِالْمَعْرُوفِ مُتَّهَمٌ ، الْمُؤْمِنُ فِيهِمْ مُسْتَضْعَفٌ ، وَالْفَاسِقُ فِيهِمْ مُشَرَّفٌ ، السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ ، وَالْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُسَلِّطُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ ، وَيَدْعُو خِيَارُهُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے ، جن کے چہرے آدمیوں کے چہروں کی مانند ہوں گے ، اور ان کے دل شیاطین کے دلوں کی مانند ہوں گے وہ چیر پھاڑ کرنے والے بھیڑیوں کی مانند ہوں گے ، ان کے دلوں میں ذرا بھی رحمت نہیں ہو گی ، وہ بہت زیادہ خون بہانے والے ہوں گے ، ہر قبیح چیز کے مرتکب ہوں گے ، اگر تم ان کی پیروی کرو گے ، تو وہ تمہیں چھپا دیں گے ، اگر تم ان سے چھپ جاؤ گے ، تو وہ تمہاری غیبت کریں گے ، اگر وہ تمہارے ساتھ بات چیت کریں گے تو وہ تمہارے ساتھ جھوٹ بولیں گے ، اگر تم انہیں امین بناؤ گے ، تو وہ تمہارے ساتھ خیانت کریں گے ، ان کا بچہ گناہ گار ہو گا ، ان کا جوان شاطر ہو گا ، ان کا بوڑھا نہ نیکی کا حکم دے اور نہ برائی سے منع کرے گا ، ان کے حوالے سے عزت حاصل کرنا ، درحقیقت ذلت ہو گا اور جو کچھ ان کے پاس موجود ہے ۔ اس کے حصول کی خواہش غربت ہو گی ، ان کے درمیان بردبار شخص بہکا ہوا ہو گا ، اور ان کے درمیان نیکی کا حکم دینے والا شخص تہمت یافتہ ہو گا ، ان کے درمیان مومن شخص کمزور ہو گا ، اور ان کے درمیان فاسق شخص نمایاں حیثیت کا مالک ہو گا ، ان کے درمیان سنت ، بدعت شمار ہو گی اور ان کے درمیان بدعت ، سنت شمار ہو گی ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر اپنے بدترین لوگوں کو مسلط کرے گا ، اس وقت ان کے نیک لوگ دعا کریں گے ، لیکن ان کی دعا قبول نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن معاویہ نیشاپوری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12445
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 12446
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ أَنْ تُرْفَعَ الْأَشْرَارُ ، وَيُوضَعَ الْأَخْيَارُ ، وَيُقَبَّحَ الْقَوْلُ ، وَيُحْبَسَنَّ الْعَمَلُ ، وَيُقْرَأُ فِي الْقَوْمِ الْمَثْنَاةُ " . قُلْتُ : وَمَا الْمَثْنَاةُ ؟ قَالَ : " مَا كُتِبَ سِوَى كِتَابِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت قریب ہونے کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ برے لوگوں کو بلندی عطا کی جائے گی اور نیک لوگوں کو پست کیا جائے گا ، قبیح بات کی جائے گی ، عمل روک لیا جائے گا اور لوگوں میں مثناة کو پڑھا جائے گا ، میں نے دریافت کیا : مثناة سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی کتاب کے علاوہ جو کچھ بھی لکھا گیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12446
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12447
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَزُولَ الْجِبَالُ عَنْ أَمَاكِنِهَا ، وَتَرَوْنَ الْأُمُورَ الْعِظَامَ الَّتِي لَمْ تَكُونُوا تَرَوْنَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ نہیں جائیں گے ، اور تم بڑے بڑے امور کو دیکھو گے کہ تم نے اس سے پہلے انہیں نہیں دیکھا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12447
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6847)»
حدیث نمبر: 12448
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَرَوْنَ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ أَشْيَاءَ تَسْتَنْكِرُونَهَا عِظَامًا ، تَقُولُونَ : هَلْ كُنَّا حَدَّثْنَا بِهَذَا ؟ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ - تَعَالَى - وَاعْلَمُوا أَنَّهَا أَوَائِلُ السَّاعَةِ " ، حَتَّى قَالَ : " سَوْفَ تَرَوْنَ جِبَالًا تَزُولُ قَبْلَ حَقِّ الصَّيْحَةِ " . وَكَانَ يَقُولُ لَنَا : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَدُلَّ الْحَجَرُ عَلَى الْيَهُودِيِّ مُخْتَبِئًا ، كَانَ يَطْرُدُهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ ، فَاطَّلَعَ قُدَّامَهُ فَاخْتَفَى ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا مَا تَبْغِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت قائم ہونے سے پہلے تم ایسی چیزیں دیکھو گے ، جنہیں تم بڑا منکر سمجھو گے ، تم کہو گے : کیا ہمیں ان کے بارے میں بتایا گیا تھا ؟ جب تم ان چیزوں کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو اور یہ بات جان لو کہ یہ قیامت ( قریب آنے ) کا آغاز ہے ، یہاں تک کہ آپ نے یہ فرمایا : ” عنقریب تم پہاڑوں کو دیکھو گے کہ وہ صور پھونکے جانے سے پہلے اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ بھی فرمایا کرتے تھے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک کوئی پتھر یہودی کے خلاف رہنمائی نہیں کرے گا ، جو یہودی اس کے پیچھے چھپا ہوا ہو گا ، اسے کسی مسلمان نے پیچھے جانے پر مجبور کیا ہو گا ، وہ سامنے سے آئے گا ، وہ یہودی چھپا ہوا ہو گا ، وہ پتھر کہے گا : اے اللہ کے بندے ! یہ ہے وہ شخص جسے تم تلاش کر رہے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12448
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3414) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7083)»
حدیث نمبر: 12449
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَظْهَرَ الشُّحُّ وَالْفُحْشُ ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ ، وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ ، وَتَظْهَرَ ثِيَابٌ تَلْبَسُهَا نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ ، وَيَعْلُو التُّحُوتُ الْوُعُولَ " ، أَكَذَاكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ سَمِعْتَهُ مِنْ حِبِّي ؟ قَالَ : نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ . قُلْنَا : وَمَا التُّحُوتُ ؟ قَالَ : فُسُولُ الرِّجَالِ وَأَهْلُ الْبُيُوتِ الْغَامِضَةِ يُرْفَعُونَ فَوْقَ صَالِحِهِمْ ، وَالْوُعُولُ أَهْلُ الْبُيُوتِ الصَّالِحَةِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَحْدَهُ فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ سُفْيَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ کنجوسی اور فحاشی پھیل جائے گی ، خائن شخص کو امین بنایا جائے گا ، امین کو خائن قرار دیا جائے گا ، ایسے لباس ظاہر ہوں گے ، جنہیں عورتیں پہنیں گی تو وہ لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی ، لوگ تحوت اور وعول لوگوں پر غالب ہو جائیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : اے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کیا آپ نے میرے محبوب کی زبانی اسی طرح سنا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! جی ہاں ، ہم نے دریافت کیا : تحوت سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : گھٹیا لوگ اور تنگ گھروں میں رہنے والے لوگ ، وہ لوگ اپنے نیک لوگوں کے اوپر آ جائیں گے ، اور وعول سے مراد نیک گھرانے کے لوگ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح“ میں صرف سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث منقول ہے ، اور وہ بھی کچھ حصہ مذکور ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن حارث بن سفیان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12449
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (752)»
حدیث نمبر: 12450
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَظْهَرَ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ ، وَتَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قُلْتُ : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ : " وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ ، وَتَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک فتنے ظاہر نہیں ہو جائیں گے ، جھوٹ ظاہر نہیں ہو جائے گا ، بازار سمٹ جائیں گے ، زمانہ سمٹ جائے گا اور ہرج بکثر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : ہرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : قتل و غارت گری ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جھوٹ بکثرت ہو جائے گا اور بازار سمٹ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن سمعان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12450
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (519/2)»
حدیث نمبر: 12451
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَسُوءُ الْجَارِ ، وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ الْمُؤْمِنُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " كَالنَّخْلَةِ ، وَقَعَتْ فَلَمْ تَفْسَدْ ، وَأُكِلَتْ فَلَمْ تُكْسَرْ ، وَوَضَعَتْ طَيِّبًا [ وَكَقِطْعَةِ الذَّهَبِ دَخَلَتِ النَّارَ فَأُخْرِجَتْ فَلَمْ تَزْدَدْ إِلَّا جُودًا ] " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک فحاشی اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا عام نہیں ہو جائے گا ، برا ہمسایہ ہو گا ، امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس وقت مومن کا عالم کیا ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہد کی مکھی کی مانند ہو گا کہ اگر وہ ( کھانے کی چیز میں ) گر جائے ، تو اسے خراب نہیں کرتی اور اگر کھا لی جائے تو توڑی نہیں جاتی ہے ۔ وہ پاکیزہ چیز باہر نکالتی ہے ، اور ( مومن کی مثال ) سونے کے ٹکڑے کی مانند ہو گی ، جو آگ میں داخل ہو جائے ، تو جب اسے نکالا جائے ، تو اس کی عمدگی میں اضافہ ہو چکا ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ابوزرعہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، علی بن مدینی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12451
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3401 و 3410 و 3411 و 3412)»
حدیث نمبر: 12452
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَسَافَدُوا فِي الطَّرِيقِ تَسَافُدَ الْحَمِيرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک لوگ راستوں میں اس طرح ( کھلے عام ) صحبت نہیں کریں گے ، جس طرح گدھے جنسی عمل کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12452
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3408)»
حدیث نمبر: 12453
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَقَطِيعَةَ الْأَرْحَامِ وَائْتِمَانَ الْخَائِنِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : وَتَخْوِينَ الْأَمِينِ " أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ شَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کی نشانیوں میں فحاشی ، فحش کلامی ، رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا اور خائن شخص کو امین بنانا شامل ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” امین شخص کو خائن قرار دینا “ یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شبیب بن بشر ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12453
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3414)»
حدیث نمبر: 12454
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَسُودَ كُلَّ قَبِيلَةٍ مُنَافِقُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قِصَّةٌ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ہر قبیلے کا سردار اس کا منافق شخص نہیں بن جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس میں پورا واقعہ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12454
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3416)»
حدیث نمبر: 12455
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَسُودَ كُلَّ قَبِيلَةٍ مُنَافِقُوهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَحَبِيبُ بْنُ فَرُّوخٍ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ہر قبیلے کا سردار اس قبیلے کا منافق شخص نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی حبیب بن فروخ ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12455
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12456
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا صَلَّى صَلَاتَهُ نَادَاهُ رَجُلٌ : مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَزَجَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْتَهَرَهُ وَقَالَ : " اسْكُتْ " . حَتَّى إِذَا أَسْفَرَ رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " تَبَارَكَ رَافِعُهَا وَمُدَبِّرُهَا " . ثُمَّ رَمَى بِبَصَرِهِ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَ : " تَبَارَكَ دَاحِيهَا وَخَالِقُهَا " . ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " . فَجَثَا رَجُلٌ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ : أَنَا بِأَبِي وَأُمِّي سَأَلْتُكَ . فَقَالَ : " ذَاكَ عِنْدَ حَيْفِ الْأَئِمَّةِ ، وَتَصْدِيقٍ بِالنُّجُومِ ، وَتَكْذِيبٍ بِالْقَدَرِ ، وَحَتَّى تُتَّخَذَ الْأَمَانَةُ مَغْنَمًا وَالصَّدَقَةُ مَغْرَمًا وَالْفَاحِشَةُ زِيَادَةً ، فَعِنْدَ ذَلِكَ هَلَكَ قَوْمُكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ، جب آپ نے نماز ادا کر لی تو ایک شخص نے آپ کو بلند آواز میں پکار کر کہا: کہ قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور جھڑکا اور فرمایا : تم خاموش رہو ، پھر جب سفیدی پھیل گئی ، تو آپ نے نگاہ اٹھا کے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا : برکت والی ہے وہ ذات ، جس نے اسے بلند کیا ہے ، جو اس کی تدبیر کرتی ہے ، پھر آپ نے نگاہ زمین کی طرف کی اور ارشاد فرمایا : برکت والی ہے ، وہ ذات جس نے اسے بچھایا ہے ، اور جس نے اسے پیدا کیا ہے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ وہ شخص گھٹنوں کے بل جھک گیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہوں ، میں نے آپ سے سوال کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اس وقت ہو گا ، جب حکمرانوں کو رسوا کیا جائے گا ، نجوم کی تصدیق کی جائے گی ، تقدیر کو جھٹلایا جائے گا ، یہاں تک کہ امانت کو مال غنیمت سمجھ لیا جائے گا ، اور صدقہ کو جرمانہ سمجھا جائے گا ، فحاشی زیادہ ہو جائے گی ، اس وقت تمہاری قوم ہلاکت کا شکار ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12456
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (3409)»
حدیث نمبر: 12457
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ ، فَإِنَّهَا حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَخْلُقْ شَيْئًا إِلَّا جَعَلَ لَهُ نِهَايَةً يَنْتَهِي إِلَيْهَا ، وَإِنَّ الْإِسْلَامَ قَدْ أَقْبَلَ لَهُ ثَبَاتٌ وَأَنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَبْلُغَ نِهَايَتَهُ ، ثُمَّ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَآيَةُ ذَلِكَ [ أنْ تَكْثُرَ ] الْفَاقَةُ وَيُقْطَعَ حَتَّى لَا يَجِدَ الْفَقِيرُ مَنْ يَعُودُ عَلَيْهِ ، وَحَتَّى يَرَى الْغَنِيُّ أَنَّهُ لَا يَكْفِيهِ مَا عِنْدَهُ ، حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ يَشْكُو إِلَى أَخِيهِ وَابْنِ عَمِّهِ فَلَا يَعُودُ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ ، وَحَتَّى أَنَّ السَّائِلَ لَيَمْشِي بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ فَلَا يُوضَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَلِكَ خَارَتِ الْأَرْضُ خَوْرَةً لَا يَرَى أَهْلُ كُلِّ سَاحَةٍ إِلَّا أَنَّهَا خَارَتْ بِسَاحَتِهِمْ ، ثُمَّ تَهْدَأُ عَلَيْهِمْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ تَفْجَأُهُمُ الْأَرْضُ تَقِيءُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا . ¤ قِيلَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا أَفْلَاذُ كَبِدِهَا ؟ قَالَ : أَسَاطِينُ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ ، فَمِنْ يَوْمِئِذٍ لَا يُنْتَفَعُ بِذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطُّرُقِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اے لوگو ! تم پر ( حاکم وقت کی ) اطاعت کرنا اور جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے کیونکہ یہ اللہ کی وہ رسی ہے ، جس کے بارے میں اُس نے یہ حکم دیا ہے ، تم لوگ جماعت میں جس چیز کو ناگوار سمجھتے ہو ، وہ اس سے بہتر ہے ، جسے تم علیحدگی میں پسند کرتے ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی چیز پیدا کی ہے ۔ اس کے لئے اس نے کوئی آخری حد مقرر کی ہے ، جس پر وہ ختم ہو جاتی ہے ، اسلام جب آیا تو اس کو ثبات حاصل تھا ، اور یہ عنقریب اپنی آخری حد تک پہنچ جائے گا ، یہ قیامت تک کم اور زیادہ ہوتا رہے گا ، اس کی نشانی یہ ہے کہ فاقہ کثرت کے ساتھ ہو گا اور رزق منقطع ہو جائے گا ، یہاں تک کہ فقیر شخص کوئی ایسا شخص نہیں پائے گا ، جو اس کو کچھ دے سکے ، یہاں تک کہ خوشحال شخص یہ سمجھے گا ، جو کچھ اس کے پاس ہے ۔ وہ اس کے لئے کفایت نہیں کرے گا ، یہاں تک کہ کوئی شخص اپنے بھائی یا اپنے چچا زاد کے سامنے اپنی فاقہ کشی کی شکایت کرے گا ، تو وہ اسے کچھ نہیں دے گا ، یہاں تک کہ ایک سائل پورا ہفتہ گھومتا رہے گا ، لیکن اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رکھا جائے گا ، جب اس طرح کی صورت حال ہو جائے گی تو زمین اپنے جگر کے ٹکڑے اگل دے گی ۔ عرض کی گئی : اے ابوعبدالرحمن زمین کے جگر کے ٹکڑوں سے مراد کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : سونے اور چاندی کے ٹکڑے اور اس وقت سے لے کر قیامت تک سونا یا چاندی سے آدمی نفع نہیں لے سکے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اس کے ایک طریق کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12457
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8972)»
حدیث نمبر: 12458
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ : خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَالدَّجَّالُ ، وَنُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ ، وَالدَّابَّةُ ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ تَحْشُرُ الذَّرَّ وَالنَّمْلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ هَارُونَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دس نشانیاں نہیں آ جائیں گی ، مشرق میں زمین میں دھنسایا جانا ، مغرب میں زمین میں دھنسایا جانا ، جزیرہ نما عرب میں زمین میں دھنسایا جانا دجال ( کا خروج ) سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا ، یاجوج ماجوج کا آنا ، دابۃ الارض کا نکلنا ، سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا اور ایک آگ جو عدن کے گڑھے سے نکلے گی ، لوگوں کو ہانک کر محشر کی طرف لے جائے گی ، وہ چھوٹی چیونٹیوں اور بڑی چیونٹیوں کو بھی اکٹھا کرے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ہارون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12458
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (79/22)»
حدیث نمبر: 12459
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - جُلُوسًا ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : قَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ رَأَيْنَا النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا وَمَشَيْنَا وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ . فَمَرَّ رَجُلٌ يُسْرِعُ فَقَالَ : عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ . فَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ . فَلَمَّا صَلَّيْنَا وَرَجَعْنَا وَدَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ جَلَسْنَا ، فَقَالَ بَعْضُنَا : أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّهُ عَلَى الرَّجُلِ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ ؟ أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ ؟ فَقَالَ طَارِقٌ : أَنَا أَسْأَلُهُ ، فَسَأَلَهُ حِينَ خَرَجَ . فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ ، وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ حِينَ تُعِينُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا [ عَلَى التِّجَارَةِ ] ، وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ ، وَشَهَادَةَ الزُّورِ ، وَكِتْمَانَ شَهَادَةِ الْحَقِّ ، وَظُهُورَ الْعِلْمِ " . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک شخص آیا ، اس نے کہا: نماز کھڑی ہو چکی ہے ۔ وہ کھڑے ہوئے ، ان کے ساتھ ہم بھی اٹھ گئے ، جب ہم مسجد میں داخل ہوئے تو ہم نے مسجد کے آگے والے حصے میں لوگوں کو رکوع کی حالت میں پایا ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے ، ہم نے بھی رکوع کر لیا ، پھر ہم چلتے ہوئے گئے ، ہم نے اس طرح کیا ، جس طرح انہوں نے کیا تھا ، اسی دوران ایک شخص تیزی سے گزرا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن السلام علیکم ! سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، اور اللہ کے رسولوں نے رسالت کی تبلیغ کر دی ہے ، جب ہم نے نماز ادا کر لی اور ہم واپس آ گئے ، تو وہ اپنے گھر واپس چلے گئے ، ہم باہر بیٹھ گئے ، ہم میں سے کسی نے کہا: کیا تم نے سنا نہیں کہ انہوں نے اس شخص کو جواب میں یہ کہا: تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، اللہ کے رسولوں نے تبلیغ کر دی ہے ، تو تم میں سے کون ان سے اس بارے میں دریافت کرے گا ، تو طارق بن شہاب نے کہا: میں ان سے پوچھوں گا ، جب وہ باہر تشریف لائے ، تو طارق نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کیا جائے گا ، اور تجارت پھیل جائے گی ، تجارت کے بارے میں عورت اپنے شوہر کی مدد کرے گی ، رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا جائے گا ، جھوٹی گواہی دی جائے گی ، سچی گواہی کو چھپایا جائے گا اور علم کا ظہور ہو گا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12459
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12460
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ لَا يُسَلِّمُ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ ، وَزَادَ " وَأَنْ يَجْتَازَ الرَّجُلُ بِالْمَسْجِدِ فَلَا يُصَلِّي فِيهِ " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی سلام کرے گا ، تو وہ صرف جان پہچان والے شخص کو سلام کرے گا ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام بزار نے اس میں سے کچھ روایات نقل کی ہیں ، اور یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ” ایک شخص مسجد سے گزر جائے گا لیکن وہ اس میں نماز ادا نہیں کرے گا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12460
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3407) اخرجه احمد فى المسند (3848 و 3664)»
حدیث نمبر: 12461
قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ السَّلَامُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ " ، وَإِنَّ هَذَا عَرَفَنِي مِنْ بَيْنِكُمْ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، " وَحَتَّى تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا فَلَا يُسْجَدُ لِلَّهِ فِيهَا ، وَحَتَّى يَبْعَثَ الْغُلَامُ الشَّيْخَ بَرِيدًا بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ ، وَحَتَّى يَبْلُغَ التَّاجِرُ بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ فَلَا يَجِدُ رِبْحًا " . ¤
محمد محی الدین

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سلام صرف جان پہچان کے لوگوں کو نہیں کیا جائے گا ، اس شخص نے تمہارے درمیان میں سے صرف مجھے پہچانا تو مجھے سلام کر دیا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ) مساجد کو راستہ بنا لیا جائے گا ، ان میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ ایک لڑکا ایک بوڑھے شخص کو دور دراز کے علاقے میں ڈاکیے کے طور پر بھیجے گا ، یہاں تک کہ تاجر دور دراز کے علاقوں تک پہنچے گا لیکن اسے منافع نہیں ملے گا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12461
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9490)»
حدیث نمبر: 12462
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ " وَأَنْ تَغْلُوَ النِّسَاءُ وَالْخَيْلُ ثُمَّ تَرْخُصُ فَلَا تَغْلُو إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَأَنْ يَتَّجِرَ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ جَمِيعًا " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” عورتیں اور گھوڑے مہنگے ہو جائیں گے ، پھر یہ کم قیمت ہو جائیں گے ، پھر یہ قیامت تک مہنگے نہیں ہوں گے ، اور مرد و عورت سب تجارت کریں گے ۔ “ امام أحمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12462
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9486)»
حدیث نمبر: 12463
وَعَنِ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُسَلِّمَ الرَّجُلُ إِلَّا عَلَى مَنْ يَعْرِفُ ، وَحَتَّى تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا ، وَحَتَّى تَتَّجِرَ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا ، وَحَتَّى تَرْخُصَ النِّسَاءُ وَالْخَيْلُ فَلَا تَغْلُو إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عداء بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک آدمی صرف جان پہچان والے لوگوں کو سلام نہیں کرے گا ، اور جب تک مساجد کو راستے نہیں بنا لیا جائے گا ، یہاں تک کہ عورت اور اس کا شوہر تجارت کریں گے ، یہاں تک کہ خواتین اور گھوڑے سستے ہو جائیں گے ، اور پھر وہ قیامت کے دن تک مہنگے نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12463
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13/18)»
حدیث نمبر: 12464
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ عَلَامَاتِ الْبَلَاءِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تَعْزُبَ الْعُقُولُ ، وَتَنْقُصَ الْأَحْلَامُ ، وَيَكْثُرَ الْقَتْلُ ، وَتُرْفَعَ عَلَامَاتُ الْخَيْرِ ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَافِيَةُ بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آزمائش کی علامات اور قیامت کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ عقلیں ماؤف ہو جائیں گی ، سمجھ داری کم ہو جائے گی ، بھلائی کی علامات اٹھا دی جائیں گی اور فتنے ظاہر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عافیہ بن ایوب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12464
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12465
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى مِنْ دِينِكُمُ الصَّلَاةُ ، وَلَيُصَلِّيَنَّ قَوْمٌ لَا دِينَ لَهُمْ ، وَلَيُنْزَعَنَّ الْقُرْآنُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ . قَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَلَسْنَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَقَدْ أَثْبَتْنَاهُ فِي مَصَاحِفِنَا ؟ قَالَ : يُسْرَى عَلَى الْقُرْآنِ لَيْلًا فَيَذْهَبُ مِنْ أَجْوَافِ الرِّجَالِ فَلَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ مِنْهُ شَيْءٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” تم اپنے دین میں جو چیز سب سے پہلے غیر موجود پاؤ گے وہ امانت ہے ، اور تمہارے دین میں سے آخر میں باقی رہ جانے والی چیز نماز ہے ، کچھ لوگ نماز ادا کریں گے ، جن کا کوئی دین نہیں ہو گا ، تم لوگوں کے درمیان میں سے قرآن کو الگ کر دیا جائے گا ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے عرض کی : اے ابوعبدالرحمن ! کیا ہم قرآن پڑھتے نہیں ہیں ، کیا ہم نے اسے کتاب کی شکل میں محفوظ نہیں کر لیا ہے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قرآن پر ایک رات ایسی آئے گی جب یہ لوگوں کے سینوں سے رخصت ہو جائے گا اور پھر روئے زمین پر اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شداد بن معقل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 12466
وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ : شُكِيَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ الْفُرَاتُ . فَقَالُوا : إِنَّا نَخَافُ أَنْ يَنْبَثِقَ عَلَيْنَا ، فَلَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ مَنْ يُسَكِّرُهُ . قَالَ : لَا أُسَكِّرُهُ ، فَوَاللَّهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَوِ الْتَمَسْتُمْ فِيهِ مِلْءَ طَسْتٍ مِنْ مَاءٍ مَا وَجَدْتُمُوهُ ، وَلَيَرْجِعَنَّ كُلُّ مَاءٍ إِلَى عُنْصُرِهِ ، فَيَكُونُ فِيهِ الْمَاءُ وَالْمُسْلِمُونَ بِالشَّامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْقَاسِمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے دریائے فرات کی شکایت کی گئی ، ہم نے کہا: ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر سیلاب لے آئے گا ۔ اگر آپ اس کی طرف کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو اس پر بن باندھ دے تو یہ مناسب ہو گا ۔ انہوں نے فرمایا : میں اس کے پانی کو ضائع نہیں کروں گا ۔ اللہ کی قسم ! لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اگر تم اس زمانے میں ایک طشت پانی کا تلاش کرو گے ، تو وہ بھی نہیں ملے گا ، ہر پانی اپنے عنصر کی طرف لوٹ جائے گا ، اور وہاں پر پانی ہو گا ، اور ( اس وقت ) مسلمان شام میں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ قاسم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12466
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8856)»
حدیث نمبر: 12467
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثٌ إِذَا رَأَيْتَهُنَّ فَعِنْدَكَ عِنْدَكَ : إِخْرَابُ الْعَامِرِ ، وَإِعْمَارُ الْخَرَابِ ، وَأَنْ يَكُونَ الْغَزْوُ رَفْدًا ، وَأَنْ يَتَمَرَّسَ الرَّجُلُ بِأَمَانَتِهِ تَمَرُّسَ الْبَعِيرِ بِالشَّجَرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابُلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن محمد سعدی اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزیں جب تم دیکھو گے ، تو اس وقت ( قیامت قریب ہو گی ) آباد چیز کو برباد کیا جانا ، برباد چیز کو آباد کیا جانا اور جنگ نوکری ہو گی اور آدمی امانت کو یوں کھا جائے گا جس طرح اونٹ درخت سے ( پتے وغیرہ ) کھاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12467
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (243/19)»
حدیث نمبر: 12468
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُدَبِّرَ الرَّجُلُ أَمْرَ خَمْسِينَ امْرَأَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ایک مرد پچاس خواتین کے معاملات کا نگران نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عیسیٰ رملی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12468
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (156/19)»
حدیث نمبر: 12469
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ أَمَامَ الدَّجَّالِ سُنُونَ خَوَادِعُ يَكْثُرُ فِيهَا الْمَطَرُ ، وَيَقِلُّ فِيهَا النَّبْتُ ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ : " مَنْ لَا يُؤْبَهُ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي أَحْسَنِهَا ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال سے پہلے کچھ سال ایسے آئیں گے جو قحط سالی کے ہوں گے ، ان میں بارش کثرت سے ہو گی ، لیکن پیداوار کم ہو گی ، اس دوران سچے شخص کو جھوٹا قرار دیا جائے گا ، اور جھوٹے کی اس وقت میں تصدیق کی جائے گی ، اس دوران خائن شخص کو امین بنایا جائے گا ، اور امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا ، اور اس دوران رویبضہ کلام کریں گے ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! رویبضہ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص جس کی کوئی پرواہ نہ کی جاتی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سب سے بہتر سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12469
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (67/18)»
حدیث نمبر: 12470
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُمْطِرَ السَّمَاءُ مَطَرًا عَامًّا ، وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، فَقَالَ : عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُمْطِرَ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ ، وَحَتَّى أَنَّ الْمَرْأَةَ تَمُرُّ بِالرَّجُلِ فَيَأْخُذُهَا فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا فَيَقُولُ : لَقَدْ كَانَ لِهَذِهِ مَرَّةً رَجُلٌ ، وَقَالَ : ذَكَرَهُ حَمَّادٌ هَكَذَا . وَقَدْ ذَكَرَهُ حَمَّادٌ أَيْضًا عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ لَا يَشُكُّ ، وَقَدْ قَالَ لَهُ أَيْضًا : ثَابِتٌ ؛ عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] فِيمَا أَحْسَبُ . ¤ وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ( جب تک یہ صورت حال نہ ہو کہ ) لوگوں پر ایک سال بارش ہوتی رہے گی اور زمین کوئی بھی چیز پیدا نہیں کرے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : ” ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ( جب تک یہ صورت حال نہ ہو کہ ) آسمان سے بارش ہو گی لیکن زمین سے پیداوار نہیں ہو گی ، جب تک پچاس خواتین کا نگران ایک مرد نہیں ہو گا ، اور اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کوئی عورت کسی مرد کے پاس سے گزرے گی وہ مرد اس عورت کو پکڑ کر اسے دیکھے گا ، اور یہ کہے گا : کبھی اس عورت کا بھی ایک مرد ہوتا تھا ۔ “ اس کے بعد راوی نے اس کو اسی طرح نقل کیا ہے حماد نے اسے ثابت کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ، جس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ یہ ثابت کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ، جو میرے خیال کے مطابق ہے ۔ ان تمام روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12470
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3415) اخرجه أبو يعلى فى المسند (3527) اخرجه احمد فى المسند (140/3)»
حدیث نمبر: 12471
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ : اللَّهُ اللَّهُ ، وَحَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ ، وَحَتَّى يَكُونَ لِلْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ ، وَحَتَّى تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالنَّعْلِ فَتَقُولُ : لَقَدْ كَانَ لَهَا مَرَّةً رَجُلٌ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہا: جاتا رہے گا ، اور جب تک یہ عالم نہیں ہو گا کہ لوگوں پر بارش ہو گی لیکن زمین پیداوار نہیں دے گی ، یہاں تک کہ پچاس خواتین کا نگران ایک شخص ہو گا ، یہاں تک کہ ایک عورت جوتا پہن کر گزرے گی اور یہ کہے گی کہ اس عورت کا بھی ایک مرد ہوتا تھا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12471
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12472
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ كَثْرَةُ الْمَطَرِ ، وَقِلَّةُ النَّبَاتِ ، وَكَثْرَةُ الْقُرَّاءِ ، وَقِلَّةُ الْفُقَهَاءِ ، وَكَثْرَةُ الْأُمَرَاءِ ، وَقِلَّةُ الْأُمَنَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت قریب ہونے کی نشانیوں میں بارش کا بکثرت ہونا اور پیداوار کا کم ہونا ، قاریوں کا زیادہ ہونا ، فقہاء کا کم ہونا ، امراء کا زیادہ ہونا اور امین لوگوں کا کم ہونا شامل ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12472
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
حدیث نمبر: 12473
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُمْطِرَ السَّمَاءُ مَطَرًا لَا تَكُنْ مِنْهَا بُيُوتُ الْمَدَرِ ، وَلَا تَكُنْ مِنْهَا إِلَّا بُيُوتُ الشَّعَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک آسمان سے اتنی بارش نازل نہیں ہو گی کہ مٹی کا کوئی بھی گھر اس کے لئے رکاوٹ نہیں بن سکے گا ، اس سے بچاؤ کے لئے صرف بالوں سے بنے ہوئے گھر رکاوٹ بن سکیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12473
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (263/3)»
حدیث نمبر: 12474
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا ، وَحَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَمَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا ضُلَّالَ الطَّرِيقِ [ وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ " قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " ] " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عرب کی سرزمین پر سبزہ اور نہریں نہیں ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ ایک سوار شخص عراق اور مکہ کے درمیان چلے گا ، تو اسے صرف راستے سے گمراہ کرنے والے لوگوں کا اندیشہ ہو گا ، اور یہاں تک کہ ہرج کثرت سے ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : قتل و غارت گری ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12474
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (371/2)»
حدیث نمبر: 12475
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَرِبَ الزَّمَانُ ، وَتَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ ، وَالْيَوْمُ كَاحْتِرَاقِ الْخُوصَةِ [ يَعْنِي : السَّعْفَةَ ] " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک زمانہ سمٹ نہیں جائے گا یہاں تک کہ ایک سال ایک مہینے کی مانند ہو گا ، ایک مہینہ ایک ہفتے کی مانند ہو گا اور ایک ہفتہ ایک دن کی مانند ہو گا ، اور ایک دن یوں ہو گا جیسے پتہ جلتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12475
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6680) اخرجه احمد فى المسند (537/2)»
حدیث نمبر: 12476
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا تَفْنَى هَذِهِ الْأُمَّةُ حَتَّى يَقُومَ الرَّجُلُ إِلَى الْمَرْأَةِ فَيَفْتَرِشُهَا فِي الطَّرِيقِ ، فَيَكُونُ خِيَارُهُمْ يَوْمَئِذٍ مَنْ يَقُولُ : لَوْ وَارَيْتَهَا وَرَاءَ هَذَا الْحَائِطِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ امت اس وقت تک فنا نہیں ہو گی جب تک کوئی شخص اٹھ کر کسی عورت کی طرف نہیں جائے گا ، اور راستے میں ہی اسے لٹا لے گا ، تو اس وقت ان میں سے بہتر شخص وہ ہو گا ، جو یہ کہے گا : اگر تم اسے اس دیوار کے پیچھے لے جاتے تو یہ مناسب تھا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12476
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6183)»
حدیث نمبر: 12477
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يُوجَدَ النَّعْلُ فِي الْقُمَامَةِ فَيُقَالُ : كَأَنَّهَا نَعْلُ قُرَشِيٍّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ وَمَنْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دن اور رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک کچرے میں کوئی جوتا نہیں پایا جائے گا ، اور یہ کہا: جائے گا کہ یہ تو کسی قریشی شخص کا جوتا لگتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور جنہیں جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12477
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12478
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَظْهَرَ مَعَادِنُ كَثِيرَةٌ لَا يَسْكُنُهَا إِلَّا أَرَاذِلُ النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بہت سے معادن ظاہر نہیں ہوں گے ، اور ان میں صرف کمینے ترین لوگ ہی سکونت اختیار کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12478
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6421) أخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1532)»
حدیث نمبر: 12479
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَحَلَّتْ أُمَّتِي سِتًّا فَعَلَيْهِمُ الدَّمَارُ : إِذَا ظَهَرَ فِيهِمُ التَّلَاعُنُ ، وَشَرِبُوا الْخُمُورَ ، وَلَبِسُوا الْحَرِيرَ ، وَاتَّخَذُوا الْقِيَانَ ، وَاكْتَفَى الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الرَّمْلِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب میری اُمت چھ چیزوں کو حلال قرار دیدے گی تو ان پر بربادی آ جائے گی ، جب ان کے درمیان ایک دوسرے پر لعنت کرنا عام ہو جائے گا ، وہ لوگ شراب پئیں گے ، وہ ریشم پہنیں گے ، وہ گانے والی عورتیں رکھیں گے ، مرد ، مردوں پر اکتفاء کریں گے اور خواتین ، خواتین پر اکتفاء کریں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر رملی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12479
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1090)»
حدیث نمبر: 12480
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ وَإِنَّ الْبَعِيرَ الضَّابِطَةَ وَالْمَزَادَتَيْنِ أَحَبُّ إِلَى الرَّجُلِ مِمَّا يَمْلِكُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ فِيمَا رَوَاهُ عَنْ غَيْرِ الشَّامِيِّينَ ، وَهَذَا مِنْ رِوَايَتِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ كُوفِيٌّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَبْوَابٌ بَعْدَ الدَّجَّالِ فِي الْخَسْفِ وَالْمَسْخِ وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَفِيمَنْ تَقُومُ عَلَيْهِمُ السَّاعَةُ وَنَحْوِ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جب کوئی مضبوط اونٹ اور دو مشکیزے آدمی کے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہوں گے جس کا وہ مالک ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، جس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ، جو ان روایات کے حوالے سے ہے ، جو اس نے اہل شام کے علاوہ سے نقل کی ہیں ، اور انہوں نے
یہ روایت اسماعیل بن ابوخالد سے نقل کی ہے ، اور وہ کوفی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر دجال کے بعد زمین میں دھنسائے جانے مسخ کیے جانے ، دابۃ الارض کے نکلنے اور جن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ان کے بارے میں اور دیگر امور کے بارے میں مختلف ابواب آئیں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12480
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (626)»