حدیث نمبر: 12431
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ : " سِتٌّ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ : مَوْتُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . فَكَأَنَّمَا انْتُزِعَ قَلْبِي مِنْ مَكَانِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاحِدَةٌ ، [ قَالَ ]وَيَفِيضُ الْمَالُ فِيكُمْ ، حَتَّى إنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى عَشَرَةَ آلَافٍ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُهَا " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثِنْتَيْنِ " . قَالَ : " وَفِتْنَةٌ تَدْخُلُ بَيْتَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ " . قَالَ : " وَمَوْتٌ كَقِعَاصِ الْغَنَمِ " . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ ، وَهُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ ، فَيَجْمَعُونَ لَكُمْ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ كَقَدْرِ حَمْلِ الْمَرْأَةِ ، ثُمَّ يَكُونُونَ أَوْلَى بِالْغَدْرِ مِنْكُمْ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ " . ¤ قَالَ : " وَفَتْحُ مَدِينَةٍ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سِتٌّ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ مَدِينَةٍ ؟ قَالَ : " قُسْطَنْطِينِيَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ آرام آرام سے وضو کر رہے تھے ، آپ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” اے اُمت ! تمہارے درمیان چھ نشانیاں نمودار ہوں گی تمہارے نبی کا وصال فرما جانا ، راوی کہتے ہیں : مجھے یوں لگا جیسا میرا دل اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک نشانی ہوئی ، پھر آپ نے فرمایا : تمہارے درمیان مال پھیل جائے گا ، یہاں تک کہ کسی شخص کو دس ہزار دیا جائے گا ، تو وہ پھر بھی ناراض ہی رہے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دو ہو گئیں ، آپ نے فرمایا : ایک فتنہ آئے گا ، جو تم میں سے ہر ایک شخص کے گھر میں داخل ہو جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تین ہو گئیں ، آپ نے فرمایا : یوں ( عمومی طور پر ) موت واقع ہو گی جیسے بکریوں کی مخصوص بیماری قصاص کی وجہ سے بکریوں کی موت واقع ہوتی ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چار ہو گئیں ، پھر تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو گا ، وہ نو ماہ تک تمہارے خلاف اکٹھے ہوتے رہیں گے ، یہ وہ مدت ہے جتنا کسی عورت کو حمل ہوتا ہے ، پھر وہ عہد شکنی میں پہل کریں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ پانچ ہو گئیں ، پھر آپ نے فرمایا : اور ایک شہر فتح ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چھٹی نشانی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون سا شہر ہے ؟ آپ نے فرمایا : قسطنطنیہ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 12432
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سِتٌّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ : مَوْتِي ، وَفَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَمَوْتٌ يَأْخُذُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ ، وَفِتْنَةٌ يَدْخُلُ حَرْبُهَا بَيْتَ كُلِّ مُسْلِمٍ ، وَأَنْ يُعْطَى الرَّجُلُ أَلْفَ دِينَارٍ فَيَسَتَخَّطُهَا ، وَأَنْ يَغْدِرَ الرُّومُ فَيَسِيرُونَ بِثَمَانِينَ بَنْدًا تَحْتَ كُلِّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چھ چیزیں ، قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں میں سے ہیں ، میرا انتقال کرنا ، بیت المقدس کا فتح ہو جانا ، اس موت کا واقع ہونا جو لوگوں کو یوں گرفت میں لے گی جیسے قصاص کی بیماری ( بکریوں کی موت کا سبب بنتی ہے ) اور ایسا فتنہ جس کی تباہی ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہو گی اور یہ کہ آدمی کو ایک ہزار دینار دیے جائیں گے ، تو وہ اس پر بھی ناراض ہو گا ، اور یہ کہ رومی عہد شکنی کریں گے ، اور اسّی جھنڈے لے کے چلیں گے ، جن میں سے ہر ایک جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12433
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَلَّ الْجَرَادُ فِي سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ الَّتِي وَلِيَ فِيهَا ، فَسَأَلَ عَنْهَا فَلَمْ يُخْبَرْ بِشَيْءٍ ، فَاغْتَمَّ لِذَلِكَ ، فَأَرْسَلَ رَاكِبًا فَضَرَبَ إِلَى الْيَمَنِ ، وَآخَرَ إِلَى الشَّامِ ، وَآخَرَ إِلَى الْعِرَاقِ يَسْأَلُ : هَلْ رَأَى مِنَ الْجَرَادِ شَيْئًا أَمْ لَا ؟ قَالَ : فَأَتَاهُ الرَّاكِبُ الَّذِي مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ بِقَبْضَةٍ مِنْ جَرَادٍ فَأَلْقَاهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا رَآهَا كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَلَقَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلْفَ أُمَّةٍ ، سِتَّمِائَةٍ فِي الْبَحْرِ وَأَرْبَعَمِائَةٍ فِي الْبَرِّ ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يُهْلَكُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَمِ الْجَرَادُ ، فَإِذَا هَلَكَتْ تَتَابَعَتْ مِثْلَ النِّظَامِ إِذَا قُطِعَ سِلْكُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ٹڈی دل کم ہو گئے ، انہوں نے ٹڈی دل کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہیں اس بارے میں بتایا نہیں گیا ( یعنی کہیں سے یہ اطلاع نہیں ملی کہ وہاں ٹڈی دل پائے جاتے ہیں ) وہ اس بات سے پریشان ہو گئے ، انہوں نے کسی کو یمن بھیجا ، کسی کو شام کی طرف بھیجا ، کسی کو عراق کی طرف بھیجا اور یہ دریافت کیا : کیا وہاں ٹڈی دل نظر آتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : یمن کی طرف سے سوار ان کے پاس آیا اس کے پاس مٹھی بھر ٹڈی دل تھے ، وہ اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آگے رکھ دیے ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو تین مرتبہ تکبیر کہی اور پھر یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار قسم کی مخلوق پیدا کی ہے جن میں سے چھ سو قسم کی مخلوق سمندر میں ہے ، اور چار سو قسم کی مخلوق خشکی پر ہے ۔ اس امت میں جو چیز سب سے پہلے ہلاکت کا شکار ہو گی وہ ٹڈی دل ہے ، جب وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی تو پھر ( باقی چیزوں کی ہلاکت ) یوں ہو گی ، جس طرح دھاگہ ٹوٹ جائے ، تو دانے بکھر جاتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12434
وَعَنْ عُتَيٍّ السَّعْدِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ حَتَّى قَدِمْتُ الْكُوفَةَ ، فَإِذَا أَنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ ظَهَرَانَيْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَأُرْشِدْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ فِي مَسْجِدِهَا الْأَعْظَمِ . فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي جِئْتُ إِلَيْكَ أَضْرِبُ إِلَيْكَ أَلْتَمِسُ مِنْكَ عِلْمًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ بَعْدَكَ . فَقَالَ لِي : مِمَّنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ . قَالَ : مِمَّنْ ؟ قُلْتُ : مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ بَنِي سَعْدٍ . فَقَالَ : يَا سَعْدِيُّ ، لَأُحَدِّثَنَّ فِيكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى قَوْمٍ كَثِيرَةٍ أَمْوَالُهُمْ كَثِيرَةٍ شَوْكَتُهُمْ تُصِيبُ مِنْهُمْ مَالًا دَثْرًا - أَوْ قَالَ كَثِيرًا - قَالَ : " مَنْ هُمْ ؟ " قَالَ : هَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي سَعْدٍ مِنْ أَهْلِ الرِّمَالِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ ، فَإِنَّ بَنِي سَعْدٍ عِنْدَ اللَّهِ ذَوُو حَظٍّ عَظِيمٍ " . سَلْ يَا سَعْدِيُّ . قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هَلْ لِلسَّاعَةِ مِنْ عَلَمٍ تُعْرَفُ بِهِ ؟ قَالَ : وَكَانَ مُتَّكِئًا فَاسْتَوَى جَالِسًا ، فَقَالَ : يَا سَعْدِيُّ ، سَأَلْتَنِي عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِلسَّاعَةِ مَنْ عَلَمٍ تُعْرَفُ بِهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ لِلسَّاعَةِ أَعْلَامًا ، وَإِنَّ لِلسَّاعَةِ أَشْرَاطًا ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكُونَ الْوَلَدُ غَيْظًا ، وَأَنْ يَكُونَ الْمَطَرُ قَيْظًا ، وَأَنْ تَفِيضَ الْأَشْرَارُ فَيْضًا . يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ ، وَأَنْ يُخَوَّنَ الْأَمِينُ [ وَأَنْ يُصَدَّقَ الْكَاذِبُ وَأَنْ يُكَذَّبَ الصَّادِقُ ] . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تُوَاصَلَ الْأَطْبَاقُ ، وَأَنْ تُقْطَعَ الْأَرْحَامُ . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَسُودَ كُلَّ قَبِيلَةٍ مُنَافِقُوهَا ، وَكُلَّ سُوقٍ فُجَّارُهَا . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تُزَخْرَفَ الْمَحَارِيبُ ، وَأَنْ تَخْرَبَ الْقُلُوبُ . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكُونَ الْمُؤْمِنُ فِي الْقَبِيلَةِ أَذَلَّ مِنَ النَّقْدِ . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكْتَفِيَ الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا مُلْكَ الصِّبْيَانِ وَمُؤَامَرَةَ النِّسَاءِ . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَأَعْلَامِهَا أَنْ يُعَمَّرَ خَرَابُ الدُّنْيَا ، وَيُخَرَّبَ عُمْرَانُهَا . ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تَظْهَرَ الْمَعَازِفُ وَالْكِبْرُ وَتُشْرَبَ الْخُمُورُ . ¤ [ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا : الشُّرَطُ وَالْغَمَّازُونَ وَاللَّمَّازُونَ ]. ¤ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكْثُرَ أَوْلَادُ الزِّنَا " . ¤ قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُمْ مُسْلِمُونَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْقُرْآنُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَنَّى ذَلِكَ ؟ قَالَ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُطَلِّقُ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ [ ثُمَّ يَجْحَدُ ]طَلَاقَهَا فَيُقِيمُ عَلَى فِرَاشِهَا فَهُمَا زَانِيَانِ مَا أَقَامَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عتی سعدی بیان کرتے ہیں : میں علم کے حصول کے لئے نکلا ، یہاں تک کہ میں کوفہ آیا ، اس وقت اہل کوفہ کے درمیان سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موجود تھے ، میں نے ان کے بارے میں دریافت کیا : ان کے بارے میں میری رہنمائی کی گئی ، دو سب سے بڑی مسجد میں موجود تھے ، میں ان کے پاس آیا ، میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! میں آپ سے علم کے حصول کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ کے بعد بھی اس علم کے ذریعے نفع دے ، تو انہوں نے فرمایا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ تو میں نے جواب دیا : اہل بصرہ سے ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : کون سے قبیلے سے ہے ؟ میں نے جواب دیا : بنو سعد کے قبیلے سے ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : اے سعدی میں تم لوگوں کے بارے میں ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ۔ ” میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کی رہنمائی ایسی قوم کی طرف نہ کروں ، جن کے مال زیادہ ہیں اور جن کی پیداوار زیادہ ہے آپ کو ان سے بہت سا مال حاصل ہو گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کون لوگ ہیں ؟ اس شخص نے بتایا : یہ بنو سعد کا قبیلہ یہ رمال ( ریتلے ٹیلوں ) والے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھہر جاؤ ، بنو سعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بڑی حیثیت رکھتے ہیں ( پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا ) اے سعدی تم پوچھو ، میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! کیا قیامت کی کوئی مخصوص نشانی ہے ، جس کے ذریعے اس کی پہچان ہو سکے ، راوی کہتے ہیں : وہ ٹیک لگا کے بیٹھے ہوئے تھے وہ سیدھے ہو کے بیٹھ گئے ، انہوں نے فرمایا : اے سعدی تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت کی کوئی مخصوص نشانی ہے ، جس کے ذریعے اس کی شناخت ہو سکے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں ! اے ابن مسعود ! قیامت کی کچھ علامتیں ہیں ، اور قیامت کی کچھ نشانیاں ہیں ، خبردار ! قیامت کی علامتوں اور اس کی نشانیوں میں یہ بات ہے کہ بچہ نافرمان ہو گا ، بارش ہونا بند ہو جائے گی ، برے لوگ پھیل جائیں گے ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ خیانت کرنے والے کو امین بنا دیا جائے گا ، اور امین کو خائن قرار دیا جائے گا ، جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور بچے کی تکذیب کی جائے گی ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ دور کے لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے گی اور رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا جائے گا : اے ابن مسعود ! قیامت کی نشانیوں اور اس کی علامات میں یہ بات شامل ہے کہ ہر قبیلے کے منافق لوگ ہر قبیلے کے سردار ہوں گے ، اور فاجر لوگ بازار میں ہوں گے ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ محرابوں کو آراستہ کیا جائے گا ، اور دل برباد ہو جائیں گے ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامتوں اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ قبیلے میں مومن کی حیثیت لکڑی سے زیادہ کمتر ہو گی ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ مرد مردوں پر اکتفاء کریں گے ، اور عورتیں عورتوں پر اکتفا کریں گی ، اے ابن مسعود قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ بچوں کی حکمرانی ہو گی اور خواتین کی حکومت ہو گی ، اے ابن مسعود ! قیامت کی نشانیوں اور اس کی علامات میں یہ بات شامل ہے کہ دنیا کی خرابی کو آباد کیا جائے گا ، اور اس کی آبادی کو خراب کیا جائے گا : اے ابن مسعود ! قیامت کی نشانی اور اس کی علامات میں یہ شامل ہے کہ آلات موسیقی تکبر اور شراب پیا جانا ظاہر ہو گا : اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ شرطیں لگائیں جائیں گی ( اشارے کنائے کرنے والے ہوں گے ) ۔ اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد بکثرت ہو گی ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں ) میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! کیا وہ لوگ مسلمان ہوں گے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! قرآن ان لوگوں کے درمیان ہو گا ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! پھر یہ کیسے ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا ، اور پھر اس کو طلاق دینے کا انکار کرے گا ، اور وہ اس عورت کے بستر پر مقیم رہے گا ، اور وہ دونوں جب تک اکٹھے رہیں گے ، زنا کرنے والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12435
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ يَا عَوْفُ إِذَا افْتَرَقَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةٍ ، وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَسَائِرُهُنَّ فِي النَّارِ ؟ " . قُلْتُ : وَمَتَى ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا كَثُرَتِ الشُّرَطُ ، وَمُلِّكَتِ الْإِمَاءُ ، وَقَعَدَتِ الْحِمْلَانُ عَلَى الْمَنَابِرِ ، وَاتُّخِذَ الْقُرْآنُ مَزَامِيرَ ، وَزُخْرِفَتِ الْمَسَاجِدُ ، وَرُفِعَتِ الْمَنَابِرُ ، وَاتُّخِذَ الْفَيْءُ دُوَلًا وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا ، وَتُفُقِّهَ فِي الدِّينِ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا ، وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ ، فَيَوْمَئِذٍ يَكُونُ ذَلِكَ ، وَيَفْزَعُ النَّاسُ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى مَدِينَةٍ مِنْهَا يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ مِنْ خَيْرِ مُدُنِ الشَّامِ فَتُحَصِّنُهُمْ مِنْ عَدُوِّهِمْ " . ¤ قُلْتُ : وَهَلْ تُفْتَحُ الشَّامُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَشِيكًا ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ بَعْدَ فَتْحِهَا ، ثُمَّ تَجِيءُ فِتْنَةٌ غَبْرَاءُ مُظْلِمَةٌ ، ثُمَّ يَتْبَعُ الْفِتَنَ بَعْضُهَا بَعْضًا حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُقَالُ لَهُ الْمَهْدِيُّ ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ فَاتَّبِعْهُ وَكُنْ مِنَ الْمَهْدِيِّينَ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عوف ! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی جن میں سے ایک جنت میں جائے گا اور باقی سب جہنم میں جائیں گے ۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسا کب ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شرطیں زیادہ ہوں گی ، کنیزیں مالک بن جائیں گی ، بے حیثیت لوگ منبر پر بیٹھیں گے ، قرآن کو موسیقی بنا لیا جائے گا ، مساجد کو آراستہ کیا جائے گا ، منبروں کو بلند بنایا جائے گا ، مال غنیمت کو ذاتی دولت قرار دیدیا جائے گا ، زکوۃ کو جرمانہ سمجھا جائے گا ، امانت کو مال غنیمت سمجھا جائے گا اور دین کا علم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے حاصل نہیں کیا جائے گا ، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے گا ، اور ماں کی نافرمانی کرے گا اپنے باپ کو دور کر دے گا ، اور اس امت کا آخری حصہ پہلے والوں پر لعنت کرے گا ، ہر قبیلے کا سردار اس کا فاسق شخص ہو گا ، لوگوں کا بڑا کمینہ ترین شخص ہو گا ، آدمی کے شر سے بچنے کے لئے اس کی عزت کی جائے گی ، اس وقت ایسا ہو گا ، اور لوگ پریشانی کے عالم میں شام کی طرف جائیں گے اور ایک شہر کی طرف جائیں گے جو شام کا ہو گا ، جس کا نام دمشق ہو گا ، وہ شام کا بہترین شہر ہو گا ، وہ لوگوں کو ان کے دشمن سے بچائے گا ، میں نے دریافت کیا : کیا شام فتح ہو جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ عنقریب ایسا ہو گا ، پھر اس کے فتح ہونے کے بعد فتنے واقع ہوں گے ، پھر ایک غبار آلود تاریک فتنہ آئے گا ، پھر یکے بعد دیگرے فتنے آئیں گے ، پھر میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا شخص نکلے گا ، جسے مہدی کہا: جائے گا ، اگر تم اس کا زمانہ پاؤ تو تم اس کی پیروی کرنا اور تم مہدی کے ماننے والوں میں سے ہو جانا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن ابراہیم ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن ابراہیم ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12436
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ السَّاعَةِ وَأَنَا شَاهِدٌ ، فَقَالَ : " لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا بَيْنَ يَدَيْهَا ، أَلَا إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتَنًا وَهَرْجًا " . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا الْفِتَنُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا ، أَرَأَيْتَ هَرْجَ مَا هُوَ ؟ قَالَ : " هُوَ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ ، وَأَنْ يُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ فَلَا يَعْرِفُ أَحَدٌ أَحَدًا ، وَتَجِفُّ قُلُوبُ النَّاسِ وَتَبْقَى رَجْرَاجَةٌ لَا تَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا تُنْكِرُ مُنْكَرًا " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا گیا : میں اس وقت وہاں موجود تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس ( کے متعین وقت ) کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، اور اس وقت کے بارے میں صرف وہی جانتا ہے ، البتہ میں اس کی نشانیوں کے بارے میں اور جو کچھ اس سے پہلے ہو گا اس کے بارے میں تمہیں بتا دیتا ہوں ، خبردار ! اس سے پہلے فتنے ہوں گے اور ہرج ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! جہاں تک فتنوں کا تعلق ہے ، تو ان کا تو ہمیں پتہ ہے ، ہرج سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حبشہ کی زبان میں قتل و غارت گری کو کہتے ہیں : ( اور دوسری نشانی یہ ہے ) کہ لوگوں کے درمیان ایک دوسرے سے عدم شناسائی ڈال دی جائے گی ، یہاں تک کہ کوئی ایک شخص کسی دوسرے سے واقف نہیں ہو گا ، اور لوگوں کے دل غصے والے ہو جائیں گے ، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے جو کسی بھلائی کو بھلائی نہیں سمجھیں گے ، اور منکر کو منکر نہیں سمجھیں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 12437
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ كِتَابُ اللَّهِ عَارًا ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ ، وَتَنْتَقِضَ عُرَاهُ ، وَتَنْتَقِصَ السُّنُونَ وَالثَّمَرَاتُ ، وَيُؤْتَمَنَ التُّهَمَاءُ ، وَيُتَّهَمَ الْأُمَنَاءُ ، وَيُصَدَّقَ الْكَاذِبُ ، وَيُكَذَّبَ الصَّادِقُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " . قَالُوا : مَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ ، وَيَظْهَرَ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ وَالشُّحُّ ، وَتَخْتَلِفَ الْأُمُورُ بَيْنَ النَّاسِ ، وَيُتَّبَعَ الْهَوَى ، وَيُقْضَى بِالظَّنِّ ، وَيُقْبَضَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيَكُونُ الْوَلَدُ غَيْظًا وَالشِّتَاءُ قَيْظًا ، وَيُجْهَرُ بِالْفَحْشَاءِ ، وَتُرْوَى الْأَرْضُ دَمًا " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ کی کتاب عار نہیں ہو جائے گی اور زمانہ سمٹ جائے گا ، اور زمانے کی رسیاں ٹوٹ جائیں گی ، سال اور پھل کم ہو جائیں گے ، تہمت یافتہ لوگوں کو امین بنایا جائے گا ، اور امین لوگوں پر تہمت عائد کی جائے گی ، جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور بچے کو جھوٹا قرار دیا جائے گا ، اور ہرج بکثرت ہو گا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : قتل و غارت گری اور فحاشی ، حسد اور کنجوسی ظاہر ہو گی ، لوگوں کے درمیان امور میں اختلاف ہو گا ، نفسانی خواہش کی پیروی کی جائے گی ، گمان کے مطابق فیصلہ دیا جائے گا ، علم کو اٹھا لیا جائے گا ، جہالت ظاہر ہو جائے گی ، اولاد نافرمان ہو گی ۔ بری بات کھلے عام کی جائے گی اور زمین خون سے سیراب ہو جائے گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12438
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالْبُخْلُ ، وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ ، وَتَهْلِكُ الْوُعُولُ ، وَتَظْهَرُ التُّحُوتُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْوُعُولُ وَمَا التُّحُوتُ ؟ قَالَ : " الْوُعُولُ وُجُوهُ النَّاسِ وَأَشْرَافُهُمْ ، وَالتُّحُوتُ الَّذِينَ كَانُوا تَحْتَ أَقْدَامِ النَّاسِ لَا يُعْلَمُ بِهِمْ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ وَالِبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک فحاشی اور بخل ظاہر نہیں ہو جائیں گے ، امین کو خائن قرار دیا جائے گا ، اور خائن کو امین بنا دیا جائے گا ، وعول ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، اور تحوت ظاہر ہو جائیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وعول سے کیا مراد ہے ، اور تحوت سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وعول سے مراد لوگوں کے بڑے اور معززین ہیں اور تحوت سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پاؤں کے نیچے ہوتے تھے ( یعنی معاشرتی طور پر کم حیثیت ہوتے تھے ) اور ان کے بارے میں پتہ بھی نہیں ہوتا تھا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن والبہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن والبہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12439
وَعَنْ أُمِّ الضِّرَابِ قَالَتْ : تُوُفِّيَ أَبِي وَتَرَكَنِي وَأَخًا لِي ، وَلَمْ يَدَعْ لَنَا مَالًا ، فَقَدِمَ عَمِّي مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَخْرَجَنَا إِلَى عَائِشَةَ ، فَأَدْخَلَتْنِي مَعَهَا فِي الْخِدْرِ لِأَنِّي كُنْتُ جَارِيَةً ، وَلَمْ يَدْخُلِ الْغُلَامُ ، فَشَكَا عَمِّي إِلَيْهَا الْحَاجَةَ ، فَأَمَرَتْ لَنَا بِقَرِيصَتَيْنِ وَغِرَارَتَيْنِ وَمَقْعَدَيْنِ ، ثُمَّ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ الْوَلَدُ غَيْظًا ، وَالْمَطَرُ قَيْظًا ، وَتَفِيضَ اللِّئَامُ فَيْضًا ، وَيَغِيضَ الْكِرَامُ غَيْضًا ، وَيَجْتَرِئَ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ وَاللَّئِيمَ عَلَى الْكَرِيمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ضراب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے والد کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے پس ماندگان میں مجھے اور میرے بھائی کو چھوڑا ، انہوں نے ہمارے لئے کوئی مال نہیں چھوڑا ، میرے چچا مدینہ منورہ سے آئے اور وہ ہمیں لے کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے ، انہوں نے مجھے پردے کے پیچھے داخل کر دیا کیونکہ میں لڑکی تھی ، البتہ لڑکے کو اندر نہیں جانے دیا ، میرے چچا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ضرورت مند ہونے کی شکایت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں روٹیوں کے برتن ، دو گندم کے برتن اور دو بچھونے دینے کا حکم دیا ، پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اولاد نافرمان نہیں ہو گی ، اور بارش ہونا بند نہیں ہو جائے گی اور کمینے لوگ زیادہ نہیں ہو جائیں گے ، اور معززین ختم نہیں ہو جائیں گے ، چھوٹا بڑے کے خلاف جرأت کرے گا ، اور کمینہ معزز شخص کے خلاف جرأت کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12440
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ كَثُرَ لُبْسُ الطَّيَالِسَةِ ، وَكَثُرَتِ التِّجَارَةُ ، وَكَثُرَ الْمَالُ ، وَعَظُمَ رَبُّ الْمَالِ ، وَكَثُرَتِ الْفَاحِشَةُ ، وَكَانَتْ إِمْرَةُ الصِّبْيَانِ ، وَكَثُرَ النِّسَاءُ ، وَجَارَ السُّلْطَانُ ، وَطُفِّفَ فِي الْمِكْيَالِ وَالْمِيزَانِ ، يُرَبِّي الرَّجُلُ جَرْوَ كَلْبٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُرَبِّيَ وَلَدًا ، وَلَا يُوَقَّرُ كَبِيرٌ ، وَلَا يُرْحَمُ صَغِيرٌ ، وَيَكْثُرَ أَوْلَادُ الزِّنَا حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ لَيَغْشَى الْمَرْأَةَ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ ، فَيَقُولُ أَمْثَلُهُمْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ : لَوِ اعْتَزَلْتُمْ عَنِ الطَّرِيقِ ، يَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ عَلَى قُلُوبِ الذِّئَابِ ، أَمْثَلُهُمْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ الْمُدَاهِنُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب ( قیامت قائم ہونے ) کا زمانہ قریب آ جائے گا ، تو طیالسی کپڑا بکثرت پہنا جائے گا ، تجارت زیادہ ہو جائے گی ، مال زیادہ ہو جائے گا ، مال والے شخص کو بڑا قرار دیا جائے گا ، فحاشی بکثرت ہو جائے گی ، بچوں کی حکومت ہو گی ، عورتیں زیادہ ہو جائیں گی ، حکمران ظلم کرے گا ، ناپنے اور وزن کرنے میں ناانصافی کی جائے گی ، آدمی کتے کے پلے کو پالنا اس سے زیادہ بہتر سجھے گا کہ وہ بچے کو پالے ، بڑے شخص کی تعظیم نہیں ہو گی ، چھوٹے پر رحم نہیں کیا جائے گا ، زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد بکثرت ہو جائے گی ، یہاں تک کہ ایک شخص راستے میں عورت کے ساتھ صحبت کرے گا ، اور اس وقت میں سب سے زیادہ اچھا شخص وہ ہو گا ، جو یہ کہے گا : اگر تم راستے سے ہٹ کے یہ کام کر لیتے تو مناسب تھا ، وہ لوگ بھیڑوں کی کھالیں پہنے ہوئے ہوں گے ، اور ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہوں گے ، اور اس زمانے میں سب سے زیادہ مثالی شخص وہ ہو گا جو اپنا آپ چھپا کر رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12441
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِنْ أَمَارَاتِ السَّاعَةِ أَنْ يُرَى الْهِلَالُ لِلَيْلَةٍ ، فَيُقَالُ : لِلَيْلَتَيْنِ ، وَأَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا ، وَأَنْ يَظْهَرَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طُرُقُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الصِّيَامِ فِي رُؤْيَةِ الْهِلَالِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے قریب ہونے کی نشانیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ پہلی کا چاند ایک رات نظر آئے گا ، تو کہا: جائے گا یہ دو راتوں کا چاند ہے ، مساجد کو راستہ بنا لیا جائے گا اور اچانک موت عام ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد ہیثم بن خالد مصیصی سے نقل کیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس روایت کے طرق ، کتاب الصیام میں پہلی کا چاند دیکھنے سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد ہیثم بن خالد مصیصی سے نقل کیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس روایت کے طرق ، کتاب الصیام میں پہلی کا چاند دیکھنے سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔
حدیث نمبر: 12442
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ ، فَخَيْرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ بے وقوف ، جو بے وقوف کا بچہ ہو گا وہ دنیا پر غالب آ جائے گا ، اور اس وقت لوگوں میں سب سے بہتر وہ مومن شخص ہو گا جس کے ماں باپ بھی معزز ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12443
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسَرِّحٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رات اور دن اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک دنیا میں سب سے زیادہ سعادت مند شخص وہ ہو گا ، جو بے وقوف ہو ، اور بے وقوف کا بچہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ولید بن عبدالملک بن مسرح کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ولید بن عبدالملک بن مسرح کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔