کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عجمیوں کے فتنوں کا بیان
حدیث نمبر: 12375
عَنْ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ ، ثُمَّ يَكُونُونَ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ ، فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمیوں کو بھر دے گا اور پھر وہ لوگ شیر دل ہوں گے ، وہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہارے جنگجو لوگوں کو قتل کر دیں گے اور وہ تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12375
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3366) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6921) اخرجه احمد فى المسند (11/5)»
حدیث نمبر: 12376
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ ، ثُمَّ يَجْعَلُهُمْ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ ، فَيُقَاتِلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مُسْلِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمیوں کو بھر دے گا ، پھر وہ انہیں شیر بنا دے گا ، وہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہارے جنگو لوگوں کو مار دیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن مسلم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12376
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3364)»
حدیث نمبر: 12377
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ ، ثُمَّ يَجْعَلُهُمْ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ ، يَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَيُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمیوں کو بھر دے گا ، پھر وہ انہیں شیر بنا دے گا ، وہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہارے جنگجو لوگوں کو قتل کریں گے اور وہ تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالقدوس ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ایک راوی یونس بن خباب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12377
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3363)»
حدیث نمبر: 12378
وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ ، وَيَجْعَلَهُمْ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ ، فَيَضْرِبُونَ رِقَابَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو فَرْوَةَ الرُّهَاوِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمیوں کو بھر دے گا اور وہ انہیں شیر بنا دے گا ، جو راہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہاری گردنیں ماریں گے اور وہ تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ابوفروہ رہاوی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12378
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3365)»
حدیث نمبر: 12379
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يَكْثُرَ فِيكُمْ مِنَ الْعَجَمِ أُسْدٌ لَا يَفِرُّونَ ، فَيَقْتُلُونَ مَقَاتِلَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب تمہارے درمیان عجمی کثرت سے ہوں گے ، جو شیر ہوں گے ، وہ راہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہارے جنگجو لوگوں کو مار دیں گے اور وہ تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12379
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12380
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ ، وَحَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ خُنْسَ الْأَنْفِ صِغَارَ الْأَعْيُنِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک تم ایک ایسی قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے ، جو بالوں سے بنے ہوئے جوتے پہنتے ہوں گے ، یہاں تک کہ تم ایسی قوم کے ساتھ جنگ کرو گے ، جن کے چہرے چوڑے ہوں گے ، ان کے ناک چپٹے ہوں گے ، ان کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، اُن کے چہرے تہہ والی ڈھالوں کی مانند ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12380
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (493/2)»
حدیث نمبر: 12381
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أُمَّتِي يَسُوقُهَا قَوْمٌ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْحَجَفُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى تُلْحِقُوهُمْ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، أَمَّا السَّائِقَةُ الْأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَيَنْجُو بَعْضٌ وَيَهْلِكُ بَعْضٌ ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَيُصْطَلَمُونَ [ كُلُّهُمْ ] مَنْ بَقِيَ مِنْهُمْ " . ¤ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " التُّرْكُ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيَرْبِطُنَّ خُيُولَهُمْ إِلَى سَوَارِي مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ قَالَ : وَكَانَ بُرَيْدَةُ لَا يُفَارِقُهُ بَعِيرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ وَمَتَاعُ السَّفَرِ وَالْأَسْقِيَةُ ، يَعُدُّ ذَلِكَ لِلْهَرَبِ مِمَّا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَلَاءِ مِنَ [ أُمَرَاءِ ] التُّرْكِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میری امت کو ایک قوم ہانک کر لے جائے گی ، جن کے چہرے چوڑے ہوں گے ، ان کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، ان کے چہرے ڈھال کی مانند ہوں گے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور فرمایا : یہاں تک کہ تم ان لوگوں کو جزیرہ عرب سے ملا دو گے ، جہاں تک پہلے والوں کا تعلق ہے ، تو ان میں سے جو بھاگے گا وہ نجات پا جائے گا اور جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے ، تو ان میں سے بعض نجات پا جائیں گے اور بعض ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے اور جہاں تک تیسروں کا تعلق ہے ، تو ان میں سے جو باقی بچے گا ، وہ سب ختم کر دیے جائیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : وہ ترک ہوں گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ اپنے گھوڑے مسلمانوں کی مساجد کے ستونوں کے ساتھ ضرور باندھیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنے ساتھ دو یا تین اونٹ رکھتے تھے اور سفر کا ساز و سامان مشکیزے رکھتے تھے ، وہ اس کو اس لئے تیار رکھتے تھے تاکہ بھاگنے کا وقت آئے تو بھاگ سکیں ، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ترک حکمرانوں کی طرف سے آزمائش کے بارے میں بات سنی ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12381
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3367) اخرجه أحمد فى المسند (348/5)»
حدیث نمبر: 12382
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ حِينَ جَاءَهُ كِتَابٌ مِنْ عَامِلِهِ يُخْبِرُهُ أَنَّهُ وَقَعَ بِالتُّرْكِ وَهَزَمَهُمْ وَكَثْرَةَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ وَكَثْرَةَ مَنْ غَنِمَ ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ يُكْتَبَ إِلَيْهِ : قَدْ فَهِمْتُ مِمَّا قُلْتَ مَا قَتَلْتَ وَغَنِمْتَ ، فَلَا أَعْلَمَنَّ مَا عُدْتَ لِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَلَا قَاتَلْتَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي . قُلْتُ لَهُ : لِمَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَتَظْهَرَنَّ التُّرْكُ عَلَى الْعَرَبِ حَتَّى تُلْحِقَهَا بِمَنَابِتِ الشِّيحِ وَالْقَيْصُومِ " . فَأَنَا أَكْرَهُ قِتَالَهُمْ لِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
معاویہ بن حدیج بیان کرتے ہیں : میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، جب ان کے پاس ان کے ایک گورنر کا خط آیا ، جس میں اس نے یہ بتایا تھا کہ اس نے ترکوں پر حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا ہے اور ان کے بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا ہے اور ان سے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا ہے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات پر غصے میں آ گئے ، پھر انہوں نے حکم دیا کہ اس گورنر کو یہ خط لکھا جائے کہ تم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم نے اتنا قتل کیا ہے اور اتنا مال غنیمت حاصل کیا ہے ، لیکن اب مجھے یہ پتہ نہ چلے کہ تم نے دوبارہ یہ کام کیا ہے ، تم نے ان کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہیں کرنی ، جب تک تمہارے پاس میرا حکم نہیں آتا ، راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : اے امیرالمؤمنین ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ترک ، عربوں پر ضرور غالب آ جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ انہیں شیح اور قیصوم ( نامی بوٹیوں ) کے اُگنے کی جگہ تک پہنچا دیں گے ۔ “ ( سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اس لئے میں اُن لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کو ناپسند کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12382
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7376)»
حدیث نمبر: 12383
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ ، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَسْلُبُ أُمَّتِي مُلْكَهُمْ وَمَا خَوَّلَهُمُ اللَّهُ بَنُو قَنْطُورَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ يَحْيَى الْقُرْقُسَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ترکوں کو ( اُن کے حال پر چھوڑے رکھو ) جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھتے ہیں ، کیونکہ جو قوم سب سے پہلے میری امت کی بادشاہی کو سلب کرے گی اور جنہیں اللہ تعالیٰ مختلف قسم کی نعمتیں عطا کرے گا ، وہ بنو قنطوراء ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن یحیی قرقسانی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12383
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12384
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَبْلُغُ الْعَرَبُ مَوْلِدَ آبَائِهِمْ مَنَابِتَ الشِّيحِ وَالْقَيْصُومِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عرب اپنے آباؤ اجداد کے پیدائش کے مقام تک پہنچ جائیں گے ، جہاں شیح اور قیصوم نامی بوٹیاں اُگتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل تیمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12384
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 12385
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُقَاتِلُونَ قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ صِغَارَ الْأَعْيُنِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، وَكَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ ، يَبْتَلِعُونَ الشَّعَرَ ، وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ ، يَرْبُطُونَ خُيُولَهُمْ بِالنَّخْلِ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ ایسی قوم کے ساتھ جنگ کرو گے ، جن کے چہرے چوڑے ہوں گے ، آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، ان کے چہرے تہہ والی ڈھالوں کی مانند ہوں گے اور ان کی آنکھیں ٹڈی دل کی طرح ہوں گی ، وہ بالوں سے بنے ہوئے جوتے پہنتے ہوں گے اور وہ چمڑے کی ڈھالیں رکھیں گے ، اور وہ اپنے گھوڑوں کو کھجور کے درختوں کے ساتھ باندھیں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12385
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3368)»
حدیث نمبر: 12386
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ : كَأَنِّي بِالتُّرْكِ قَدْ أَتَتْكُمْ عَلَى بَرَاذِينَ مُجَذَّمَةِ الْآذَانِ حَتَّى تَرْبُطَهَا بِشَطِّ الْفُرَاتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِنْ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ سَمِعَ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے : یوں ہے ، جیسے ترک تمہارے پاس خچروں پر سوار ہو کر آئیں گے ، جن کے کان کٹے ہوئے ہوں گے ، یہاں تک کہ دریائے فرات کے کنارے پر وہ انہیں باندھ دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اگر ابن سیرین نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8859)»
حدیث نمبر: 12387
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا رَأَيْتُمْ قَوْمًا - أَوْ أَتَاكُمْ قَوْمٌ - فُطْحُ الْوُجُوهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن معاویہ عامری بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تم ایسی قوم کو دیکھو گے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہارے پاس ایسی قوم آئے گی ، جن کے چہرے لتھڑے ہوئے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9186)»
حدیث نمبر: 12388
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدَّيْلِيِّ قَالَ : أَسْلَمْتُ أَنَا وَزُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ مَعَ الْأَشْعَرِيِّ ، فَلَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو . قَالَ : فَجَلَسْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَجَلَسَ زُرْعَةُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : يُوشِكُ أَنْ لَا يَبْقَى فِي أَرْضِ الْعَرَبِ مِنَ الْعَجَمِ إِلَّا قَتِيلٌ أَوْ أَسِيرٌ يَحْكُمُ فِي دَمِهِ . فَقَالَ لَهُ زُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ : أَيَظْهَرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ بِنَاءً أَوْ بَيْتًا كَانَ يُسَمَّى فِي الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ : فَذَكَرْتُ لِعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ عُمَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ . قَالَ : فَخَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ " . قَالَ : فَذَكَرْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : صَدَقَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَاءَ ذَاكَ كَانَ الَّذِي قُلْتُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ أَبِي سَعِيدٍ فَإِنْ كَانَ هُوَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ فَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواسود دیلی بیان کرتے ہیں : میں نے اور زرعہ بن ضمرہ نے اشعری کے ہمراہ اسلام قبول کیا ، ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، راوی کہتے ہیں : میں ان کے دائیں طرف بیٹھ گیا اور زرعہ ان کی بائیں طرف بیٹھ گئے ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” عنقریب عرب کی سرزمین پر عجمیوں میں سے کوئی شخص باقی نہیں رہے گا ، صرف کوئی مقتول ہو گا یا کوئی قیدی ہو گا ، جس کے خون کا فیصلہ دیا جانا ہو گا“ تو زرعہ بن ضمرہ نے ان سے کہا: کیا مشرکین اہل اسلام پر غالب آ جائیں گے ؟ انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے بتایا : بنو عامر بن صعصہ سے ، جنہوں نے ذی خلصہ بنایا تھا ، اس گھر یا تعمیر کو زمانہ جاہلیت میں یہ نام دیا گیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا : عبداللہ بن عمرو جو کہتا ہے وہ اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہو گا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر جمعہ کے دن انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے : ” میری امت کا ایک گروہ مسلسل حق پر گامزن رہے گا ، اُن کی مدد کی جاتی رہے گی ، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، جب یہ صورت حال ہو جائے گی تو پھر وہی ہو گا ، جو میں نے بیان کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ کی نے اپنے استاد ابوسعید کے حوالے سے نقل کی ہے ، اگر تو یہ بنو ہاشم سے نسبت ولاء رکھتا ہے ، تو پھر اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12388
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح