حدیث نمبر: 12345
عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهًى ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ ، ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ " . قَالَ : كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . قَالَ : " بَلَى ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، ثُمَّ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " ، قَالَ سُفْيَانُ : الْحَيَّةُ السَّوْدَاءُ تَنْصِبُ : أَيْ تَرْتَفِعُ .
محمد محی الدین
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اسلام کی کوئی آخری حد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب عربوں یا عجمیوں سے تعلق رکھنے والے کسی گھرانے کے افراد کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے گا ، تو ان پر اسلام کو داخل کر دے گا ، پھر فتنے واقع ہوں گے ، یوں جیسے بادل ہوتے ہیں ، اس شخص نے عرض کی : اللہ کی قسم ! کیا ایسا ہی ہو گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، پھر تم ان میں دوبارہ سیاہ رنگ کے سانپوں کی طرح ہو جاؤ گے ، اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو گے ۔ “ سفیان کہتے ہیں : سیاہ رنگ کے سانپ کے کھڑے ہونے سے مراد ، اس کا بلند ہونا ہے ۔
حدیث نمبر: 12346
وَفِي رِوَايَةٍ فَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُهَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ مومن ہو گا ، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ رہے گا ، اپنے پروردگار سے ڈرتا رہے گا ، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12347
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ وَمُضِلَّاتِ الْفِتَنِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے تم لوگوں کے بارے میں گمراہ کرنے والی خواہشات کا اندیشہ ہے ، جن کا تعلق تمہارے پیٹ ، تمہاری شرمگاہوں سے ہو گا اور گمراہ کرنے والے فتنوں کا اندیشہ ہے ۔ “
حدیث نمبر: 12348
وَفِي رِوَايَةٍ وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” گمراہ کرنے والی نفسانی خواہشات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12349
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " تَزْعُمُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً ، أَلَا وَإِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً ، وَتَتَّبِعُونِي أَفْنَادًا يُهْلِكُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں تم سب کے بعد انتقال کروں گا ؟ خبردار ! میں تم سب سے پہلے انتقال کر جاؤں گا ، اور تم لوگ میرے بعد مختلف گروہوں کی شکل میں ہو جاؤ گے ، اور ایک دوسرے کو ہلاک کرو گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12350
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ السَّكُونِيِّ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ أَتَيْتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَاءِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : وَبِمَاذَا ؟ قَالَ : " بِمُسَخِّنَةٍ " . قَالَ : فَهَلْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ عَنْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَمَا فُعِلَ بِهِ ؟ قَالَ : " رُفِعَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَكْفُوتٌ غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ ، وَلَسْتُمْ لَابِثِينَ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى تَقُولُوا : مَتَى ؟ وَسَتَأْتُونِي أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا ، وَبَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَوْتَانِ شَدِيدٌ وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن نفیل سکونی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران کسی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آسمان سے کھانا آیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : کس چیز میں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ہنڈیا میں ، اُس نے دریافت کیا : کیا اس میں آپ سے بچ کے بھی کچھ ہوا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : اس کے ساتھ کیا ہوا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اٹھا لیا گیا اور پھر میری طرف یہ بات وحی کی گئی کہ میں انتقال کر جاؤں گا ، تمہارے درمیان نہیں رہوں گا اور تم بھی میرے بعد تھوڑا عرصہ رہو گے ، یہاں تک کہ تم لوگ کہو گے : کتنا عرصہ ہوا ہے ؟ پھر تم میرے پاس مختلف گروہوں کی شکل میں آؤ گے کہ تم نے ایک دوسرے کو ہلاک کیا ہو گا اور قیامت سے پہلے دو شدید قسم کی موتیں ہوں گی اور اس کے بعد کئی سال زلزلے آتے رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے ، امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے ، امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12351
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَزْعُمُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً ، أَلَا وَأَنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً ، وَلَتَتَّبِعُنِّي أَفْنَادًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَلَفْظُهُ فِيهِ : عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّكُمْ تَتَحَدَّثُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً ، أَلَا وَإِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً ، وَتَتَّبِعُنِّي أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا " . ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ : قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ حَتَّى بَلَغَ لِكُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ " ¤ ثُمَّ قَالَ : " لَا تَبْرَحُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ ، لَا يُبَالُونَ خِذْلَانَ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَلَى ذَلِكَ " . ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ : يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میرا انتقال تم سب کے بعد ہو گا ، حالانکہ میں تم سب سے پہلے وفات پا جاؤں گا اور تم میرے بعد مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گے ، اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑاؤ گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں ان کے الفاظ یہ ہیں : سیدنا معایہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ باتیں کر رہے ہو کہ میرا انتقال تم سب کے بعد ہو گا ؟ خبردار ! میں تم سب سے پہلے انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد گروہوں میں تقسیم ہو کے ایک دوسرے کو فنا کرو گے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” تم فرما دو ! وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارے اوپر سے ، یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے ، تم پر عذاب بھیج دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” ہر خبر ( کے واقع ہونے ) کا متعین وقت ہے ، اور عنقریب تم لوگ جان لو گے ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جنگ کرتا رہے گا اور وہ غالب رہیں گے ، اور جو شخص ان کو رسوا کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ انہیں رسوا نہیں کر سکے گا اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا ، وہ بھی انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، یہاں تک کہ اسی طرح کی صورت حال میں اللہ کا حکم ( یعنی قیامت ) آ جائے گا ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اے عیسیٰ ! بے شک میں تمہیں وفات دوں گا اور تمہیں اپنی طرف بلند کر لوں گا اور تمہیں ان لوگوں سے پاک کر دوں گا ، جنہوں نے کفر کیا ، اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی انہیں کفر کرنے والوں کے اوپر کر دوں گا اور ایسا قیامت کے دن تک ہو گا ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں ان کے الفاظ یہ ہیں : سیدنا معایہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ باتیں کر رہے ہو کہ میرا انتقال تم سب کے بعد ہو گا ؟ خبردار ! میں تم سب سے پہلے انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد گروہوں میں تقسیم ہو کے ایک دوسرے کو فنا کرو گے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” تم فرما دو ! وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارے اوپر سے ، یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے ، تم پر عذاب بھیج دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” ہر خبر ( کے واقع ہونے ) کا متعین وقت ہے ، اور عنقریب تم لوگ جان لو گے ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جنگ کرتا رہے گا اور وہ غالب رہیں گے ، اور جو شخص ان کو رسوا کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ انہیں رسوا نہیں کر سکے گا اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا ، وہ بھی انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، یہاں تک کہ اسی طرح کی صورت حال میں اللہ کا حکم ( یعنی قیامت ) آ جائے گا ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اے عیسیٰ ! بے شک میں تمہیں وفات دوں گا اور تمہیں اپنی طرف بلند کر لوں گا اور تمہیں ان لوگوں سے پاک کر دوں گا ، جنہوں نے کفر کیا ، اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی انہیں کفر کرنے والوں کے اوپر کر دوں گا اور ایسا قیامت کے دن تک ہو گا ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12352
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنِّي آخِرُكُمْ مَوْتًا ، وَإِنِّي أَوَّلُكُمْ ذَهَابًا ، ثُمَّ تَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي أَفْنَادًا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں تم سے آخر میں وفات پاؤں گا ، حالانکہ میں تم سے پہلے رخصت ہو جاؤں گا ، پھر تم میرے بعد مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کو قتل کرو گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12353
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا كَانَتْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ بَعْدَهَا قَتْلٌ وَصَلْبٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب بھی نبوت ہوئی ، تو اس کے بعد قتل کرنا اور سولی چڑھانا ضرور ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12354
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلًا ، وَإِنَّ لِأُمَّتِي مِائَةَ سَنَةٍ ، فَإِذَا مَضَى عَلَى أُمَّتِي سَنَةٌ أَتَاهَا مَا وَعَدَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ، قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : يَعْنِي كَثْرَةَ الْفِتَنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر امت کی مخصوص مدت ہوتی ہے اور میری امت کی مخصوص مدت ایک سو سال ہے ، جب میری امت پر ایک سو سال گزر جائیں گے ، تو ان کے پاس وہ چیز آ جائے گی ، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے ۔ “ ابن لہیعہ نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد فتنوں کا بکثرت ہونا ہے ۔ اس روایت کو امام طبرانی نے نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ راوی ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 12355
وَعَنْ بِلَالٍ يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " سُبْحَانَ الَّذِي يُرْسِلُ عَلَيْهِمُ الْفِتَنَ إِرْسَالَ الْقَطْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھائی اور پھر ارشاد فرمایا : ” ہر طرح کے عیب سے پاک ہے وہ ذات ، جس نے لوگوں پر یوں فتنے بھیجے ہیں ، جس طرح بارش بھیجی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12356
وَعَنْ جَرِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " سُبْحَانَ الَّذِي يُرْسِلُ عَلَيْهِمْ مِنَ الْفِتَنِ إِرْسَالَ الْقَطْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور پھر ارشاد فرمایا : ” اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جس نے ان پر ایسے فتنے بھیجے ہیں جو بارش کی مانند ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12357
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَتَكُونُ فِتْنَةٌ يُفَارِقُ الرَّجُلُ فِيهَا أَخَاهُ وَأَبَاهُ ، تَطِيرُ الْفِتْنَةُ فِي قُلُوبِ رِجَالٍ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُعَيَّرُ الرَّجُلُ بِهَا كَمَا تُعَيَّرُ الزَّانِيَةُ بِزِنَاهَا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب ایسے فتنے ہوں گے ، جن میں آدمی اپنے بھائی اور اپنے باپ سے جدا ہو جائے گا ، اور فتنہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں قیامت تک برقرار رہے گا ، یہاں تک کہ اس فتنے کے حوالے سے کسی شخص کو یوں عار دلائی جائے گی ، جس طرح زنا کرنے والی عورت کو ، اُس کے زنا کرنے کے حوالے سے عار دلائی جاتی ہے ۔ “
حدیث نمبر: 12358
وَبِسَنَدِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَتَتْكُمُ الْقُرَيْعَاءُ " . قُلْنَا : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فِتْنَةٌ يَكُونُ فِيهَا مِثْلُ الْبَيْضَةِ " . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے پاس قریعاء آئے گا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فتنہ ہے ، جس میں خود کی مانند ہو گا ( یعنی قتل و غارت گری ہو گی ) ۔ “ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند میں ایک راوی محمد بن سفیان حضرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جو کمزور ہے ۔
حدیث نمبر: 12359
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - حِينَ أَلْقَى الشَّامَ بَوَانِيَةً بَثْنِيَةً وَعَسَلًا - وَشَكَّ عَفَّانُ مَرَّةً فَقَالَ : حِينَ أَلْقَى الشَّامَ كَذَا وَكَذَا - فَأَمَرَنِي أَنْ أَسِيرَ إِلَى الْهِنْدِ ، وَالْهِنْدُ فِي أَنْفُسِنَا يَوْمَئِذٍ الْبَصْرَةُ . قَالَ : وَأَنَا لِذَلِكَ كَارِهٌ . ¤ قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ يَا أَبَا سُلَيْمَانَ ، فَإِنَّ الْفِتَنَ قَدْ ظَهَرَتْ . قَالَ : فَقَالَ : وَابْنُ الْخَطَّابِ حَيٌّ ! إِنَّمَا تَكُونُ بَعْدَهُ وَالنَّاسُ بِذِي بِلِّيَانَ - وَذِي بِلِّيَانَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا - فَيَنْظُرُ الرَّجُلُ فَيُفَكِّرُ هَلْ يَجِدُ مَكَانًا لَمْ يَنْزِلْ [ بِهِ ]مِثْلُ مَا نَزَلَ بِمَكَانِهِ الَّذِي هُوَ بِهِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَالشَّرِّ فَلَا يَجِدُهُ ، وَتِلْكَ الْأَيَّامُ الَّتِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامَ الْهَرْجِ ، فَنَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكَنَا وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأَيَّامُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : امیرالمؤمنین یعنی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا ، یہ اس وقت کی بات ہے ، جب شام میں ، میں نے بہت سی نعمتیں پائیں اور عمدہ قسم کی گندم اور شہد پایا ، ایک مرتبہ عفان نامی راوی نے اس میں شک کیا ہے کہ جب میں نے شام میں یہ یہ چیزیں پائیں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں ہند کی طرف روانہ ہو جاؤں ، ہم اس وقت ہند اس کو سمجھتے تھے ، جو آج کل بصرہ ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے اس بات کو ناپسند کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا: اے ابوسلیمان ! آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں کیونکہ فتنے ظاہر ہو چکے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : کیا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زندہ ہیں ؟ فتنے تو ان کے بعد ہوں گے ، اور لوگ ذی بلیان کے مقام پر ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : ذی بلیان ایک مقام ہے جو فلاں فلاں جگہ پر ہے ، وہاں کوئی شخص غور و فکر کرے گا کہ کیا اسے کوئی ایسی جگہ ملتی ہے کہ جہاں وہ پڑاؤ کر سکے ؟ اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اس نے جس فتنے اور خرابی کا سامنا کیا ہو گا ، وہ اس سے بچنا چاہ رہا ہو گا ، تو اسے کوئی ایسی جگہ نہیں ملے گی ، یہ وہ ایام ہوں گے ، جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ قیامت سے پہلے وہ آئیں گے اور ان میں قتل و غارت گری ہو گی ، تو ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ وہ زمانہ ہمیں یا تمہیں نصیب ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12360
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَكُونُ بَعْدِي أَرْبَعُ فِتَنٍ : فِتْنَةٌ يُسْتَحَلُّ فِيهَا الدَّمُ ، وَالثَّانِيَةُ يَسْتَحِلُّ فِيهَا الدَّمُ وَالْمَالُ ، وَالثَّالِثَةُ يُسْتَحَلُّ فِيهَا الدَّمُ وَالْمَالُ وَالْفَرْجُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ غَيْرَ ثَلَاثٍ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب میرے بعد چار فتنے ہوں گے ، ایک فتنے میں خون بہانا حلال قرار دیا جائے گا ، دوسرے میں خون بہانا اور مال حلال قرار دیا جائے گا ، تیسرے میں خون بہانا ، مال اور شرمگاہ کو حلال قرار دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے تین کا ذکر نہیں کیا ، اس روایت کی سند میں ایک راوی حفص بن غیلان ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے جو کمزور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے تین کا ذکر نہیں کیا ، اس روایت کی سند میں ایک راوی حفص بن غیلان ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے جو کمزور ہے ۔
حدیث نمبر: 12361
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فِتْنَةٌ ، يُحْصَلُ النَّاسُ فِيهَا كَمَا يُحْصَلُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ مِنَ الْمَعْدِنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں ایسا فتنہ ہو گا ، جس میں لوگوں کو یوں نکالا جائے گا ، جس طرح کان میں سے سونے اور چاندی کو نکالا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے اور اس میں ایک راوی محمد بن سفیان حضرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے اور اس میں ایک راوی محمد بن سفیان حضرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12362
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيُصِيبُ أُمَّتِي دَاءُ الْأُمَمِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا دَاءُ الْأُمَمِ ؟ قَالَ : " الْأَشَرُ وَالْبَطَرُ وَالتَّدَابُرُ وَالتَّنَافُسُ وَالتَّبَاغُضُ وَالْبُخْلُ حَتَّى يَكُونَ الْبَغْيُ ثُمَّ الْهَرْجُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْغِفَارِيُّ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میری امت کو دوسری امتوں کی بیماریاں لاحق ہوں گی ، لوگوں نے عرض کی : دوسری امتوں کی بیماریاں کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تکبر ، خود پسندی ، مقابلے بازی ، ایک دوسرے سے بغض ، بخل ، یہاں تک کہ سرکشی ہو گی ، پھر قتل و غارتگری ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید غفاری ہے ، حمید بن ہانی کے علاوہ کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید غفاری ہے ، حمید بن ہانی کے علاوہ کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 12363
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عِدَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمُعَاذٍ وَحُذَيْفَةُ وَسَعْدٌ ، بَعْدَ الْهِجْرَةِ بِثَمَانِ سِنِينَ فِي السَّنَةِ التَّاسِعَةِ ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنَا فِي الْفِتَنِ . قَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، أَمَا إِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الْقَائِمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْقَاعِدُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ مَرْوَانَ الْخَلَّالُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم متعدد افراد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تھے ، یہ ہجرت کے آٹھ سال گزرنے کے بعد نویں سال کا واقعہ ہے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہمیں فتنوں کے بارے میں بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے حذیفہ ! لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہو گا اور بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا اور قاتل اور مقتول جہنم میں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن مروان خلال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن مروان خلال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12364
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ الْهَيْثَمِ حِينَ مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ : سَلَامٌ عَلَيْكَ ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ فِتَنًا كَقِطَعِ الدُّخَانِ ، يَمُوتُ فِيهَا قَلْبُ الرَّجُلِ كَمَا يَمُوتُ بَدَنُهُ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ وَدِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا " ، وَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَدْ مَاتَ ، وَأَنْتُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا فَلَا تَسْبِقُونَا حَتَّى نَخْتَارَ لَأَنْفُسِنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ فِيهَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے ، قیس بن ہیثم کو یزید بن معاویہ کے انتقال پر خط لکھا : ” تمہیں سلام ہو ! امابعد ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت سے پہلے تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے ، کچھ فتنے ایسے ہوں گے جو دھوئیں کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، ان میں آدمی کا دل یوں مر جائے گا ، جس طرح آدمی کا جسم مر جاتا ہے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کو مومن ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، لوگ اپنا حصہ اور اپنا دین ، دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں فروخت کر دیں گے ۔ “ یزید بن معاویہ مر چکا ہے ، اور تم لوگ ہمارے بھائی اور ہمارے ساتھی ہو ، تو تم ( اگلے خلیفہ کے انتخاب کے سلسلے میں ) ہم سے سبقت نہ لے جانا ، یہاں تک کہ ہم اپنے لئے ( نیا خلیفہ ) اختیار کر لیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12365
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ثُمَّ يُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا [ يَسِيرٍ ]" [أَوْ بِعَرَضِ الدُّنْيَا ] ¤ قَالَ الْحَسَنُ : وَ [ اللَّهِ ] لَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ صُوَرًا وَلَا عُقُولَ ، أَجْسَامًا وَلَا أَحْلَامَ ، فِرَاشَ نَارٍ وَذِئَابَ طَمَعٍ يَغْدُو بِدِرْهَمَيْنِ وَيَرُوحُ بِدِرْهَمَيْنِ ، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دِينَهُ بِثَمَنِ الْعَنْزِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت سے پہلے تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے ، جن میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کے وقت مومن ہو گا ، تو پھر صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، لوگ دنیاوی معمولی ساز و سامان کے عوض میں اپنا آخرت کا حصہ بیچ دیں گے “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ حسن بصری کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! ہم نے ان لوگوں کو دیکھا ہے کہ ان کی شکلیں تھیں ، لیکن عقلیں نہیں تھیں ، جسم تھے ، لیکن سمجھ بوجھ نہیں تھی ، وہ جہنم کے پتنگے تھے اور لالچ کے بھیڑیے تھے ، صبح دو درہم لے کے جاتے تھے اور شام کو دو درہم لے کے آتے تھے ، ان میں سے کوئی ایک شخص اپنا دین ، بکری کی قیمت کے عوض میں فروخت کر دیتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12366
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ عَمَّارٌ قَالَ : أَدْرَبْنَا عَامًا ، ثُمَّ قَفَلْنَا وَفِينَا شَيْخٌ مِنْ خَثْعَمٍ ، فَذُكِرَ الْحَجَّاجُ فَسَبَّهُ وَشَتَمَهُ . فَقُلْتُ لَهُ : لِمَ تَشْتُمُهُ وَهُوَ يُقَاتِلُ أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي طَاعَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ هُوَ الَّذِي أَكْفَرَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَمْسُ فِتَنٍ ، فَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعٌ ، وَبَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الصَّيْلَمُ ، وَهِيَ فِيكُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ حَجَرًا فَكُنْهُ ، وَلَا تَكُنْ مَعَ وَاحِدٍ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ ، أَلَا فَاتَّخِذْ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ " . ¤
محمد محی الدین
اہل شام سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کا نام عمار ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم کہیں گئے ، پھر ہم واپس آئے تو ہمارے درمیان خثم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک بوڑھا تھا ، اس نے حجاج کا ذکر کرتے ہوئے اس پر تنقید کی ، اسے برا بھلا کہا: ، میں نے اس سے کہا: تم اسے کیوں برا بھلا کہہ رہے ہو ؟ جبکہ وہ امیرالمؤمنین کی اطاعت کرتے ہوئے اہل عراق کے ساتھ جنگ کر رہا ہے ؟ تو اس نے کہا: یہی وہ شخص ہے ، جس نے انہیں کافر بنایا ہے ، پھر اس نے یہ بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت میں پانچ فتنے ہوں گے ۔ “ ( شاید آگے والے کلمات صحابی کے ہیں : ان میں سے ) چار رخصت ہو چکے ہیں اور ایک باقی رہ گیا ہے اور وہ ” صیلم “ ہو گا اور اے اہل شام ! وہ تمہارے درمیان ہو گا ، اگر تم نے اس کا زمانہ پایا ، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم پتھر بن جانا اور تم دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کے ساتھ نہ ہونا ، خبردار ! تم زمین میں سے خرچ حاصل کر لینا ۔ “
حدیث نمبر: 12367
وَفِي رِوَايَةٍ فَقُلْنَا : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَعَمَّارٌ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہم نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور عمار نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور عمار نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12368
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ السَّاعَةِ ، قَالَ : " عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي وَلَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ، وَلَكِنْ أُخْبِرُكَ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهَا ، إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا ، فَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ " . قَالَ : " وَيُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يَعْرِفُ أَحَدًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے ، اس کے صحیح وقت کا وہی علم رکھتا ہے ، البتہ میں تمہیں اس کی نشانیوں کے بارے میں اور جو کچھ اس سے پہلے ہو گا ، اُس کے بارے میں بتا دیتا ہوں ، اس سے پہلے فتنہ اور ہرج ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : فتنے کا تو ہمیں پتہ ہے ، ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حبشہ کی زبان میں اس سے مراد قتل و غارت گری ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” لوگوں کے درمیان ایک دوسرے سے عدم شناسائی یوں ڈال دی جائے گی کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو پہچانتا نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12369
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ، وَإِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُمْسِي الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، وَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، يَبِيعُ أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ أَوَّلِهِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارک باد ہے ، قیامت سے پہلے کچھ فتنے ہوں گے ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، آدمی ان میں شام کے وقت مومن ہو گا ، تو صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، لوگ دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں ، اپنا دین فروخت کر دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں ابتدائی حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں ابتدائی حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 12370
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَفْتِنَنَّ أُمَّتِي بَعْدِي فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَافِيَةُ بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت ، میرے بعد ضرور فتنوں میں مبتلا ہو گی ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، کوئی شخص صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کو مومن ہو گا تو صبح کافر ہو چکا ہو گا ، اُن ( فتنوں ) کے دوران لوگ معمولی سے دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں اپنا دین فروخت کر دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عافیہ بن ایوب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عافیہ بن ایوب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12371
وَعَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ : " مَا أَنْتُمْ إِذَا مَرِجَ الدِّينُ وَسُفِكَ الدِّمَاءُ وَظَهَرَتِ الزِّينَةُ وَشَرُفَ الْبُنْيَانُ وَاخْتَلَفَ الْإِخْوَانُ وَحُرِّقَ الْبَيْتُ الْعَتِيقُ " ، وَفِي رِوَايَةٍ " وَاخْتَلَفَ الْأَحْبَارُ " بَدَلَ " الْإِخْوَانُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب دین سمٹ جائے گا ، خون بہایا جایا جائے گا ، زینت ظاہر ہو جائے گی ، عمارتیں بلند ہو جائیں گی ، بھائیوں کے درمیان اختلاف ہو جائے گا اور بیت عقیق کو جلا دیا جائے گا ۔ “ ایک روایت میں ” بھائیوں کے درمیان اختلاف “ کی بجائے ” علماء کے درمیان اختلاف “ کے الفاظ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12372
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْهَرْجُ ، ثَلَاثًا . قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : الْقَتْلُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ غَيْرِ رَفْعٍ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک تمہارے درمیان ہرج زیادہ نہیں ہو گا ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، لوگوں نے عرض کی : ہرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قتل و غارت گری ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12373
وَعَنْ فَيْرُوزٍ الدَّيْلِمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي رَمَضَانَ صَوْتٌ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي أَوَّلِهِ أَوْ فِي وَسَطِهِ أَوْ فِي آخِرِهِ ؟ قَالَ : " بَلْ فِي النِّصْفِ مِنْ رَمَضَانَ ، إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ يَكُونُ صَوْتٌ مِنَ السَّمَاءِ يُصْعَقُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا [ يَخْرِسُ سَبْعُونَ أَلْفًا ، يَعْمَى سَبْعُونَ أَلْفًا ] وَيُصَمُّ سَبْعُونَ أَلْفًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنِ السَّالِمُ مِنْ أَمُّتِكَ ؟ قَالَ : " مَنْ لَزِمَ بَيْتَهُ وَتَعَوَّذَ بِالسُّجُودِ وَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ لِلَّهِ . ثُمَّ يَتْبَعُهُ صَوْتٌ آخَرُ ، فَالصَّوْتُ الْأَوَّلُ صَوْتُ جِبْرِيلَ وَالثَّانِي صَوْتُ الشَّيْطَانِ ، فَالصَّوْتُ فِي رَمَضَانَ ، وَالْمَعْمَعَةُ فِي شَوَّالٍ ، وَتُمَيِّزُ الْقَبَائِلَ فِي ذِي الْقِعْدَةِ ، وَيُغَارُ عَلَى الْحَاجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ ، وَالْمُحَرَّمُ وَمَا الْمُحَرَّمُ ! أَوَّلُهُ بَلَاءٌ عَلَى أُمَّتِي وَآخِرُهُ فَرَجٌ لِأُمَّتِي ، الرَّاحِلَةُ [ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ ] بِقَتَبِهَا يَنْجُو عَلَيْهَا الْمُؤْمِنُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ دَسْكَرَةٍ تَغُلُّ مِائَةَ أَلْفٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رمضان میں ایک آواز ہو گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اس کے ابتدائی حصے میں ہو گی یا درمیانی حصے میں ہو گی یا آخری حصے میں ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ رمضان کے نصف حصے میں ہو گی ، جب نصف حصے والی رات آئے گی ، وہ جمعہ کی رات ہو گی ، اُس میں آسمان سے ایک آواز آئے گی ، اس میں ستر ہزار لوگوں کو بے ہوش کیا جائے گا ، ستر ہزار گونگے ہو جائیں گے ، ستر ہزار اندھے ہو جائیں گے ، ستر ہزار بہرے ہو جائیں گے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی امت میں سے سلامتی والا کون ہو گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے گھر میں رہے گا اور سجدوں کے ذریعے پناہ مانگے گا اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی بلند آواز میں بیان کرے گا ، پھر اس کے بعد ایک اور آواز آئے گی ، پہلی آواز سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی آواز ہو گی اور دوسری آواز شیطان کی آواز ہو گی ، ایک آواز رمضان میں ہو گی ، اور پھر ایک ” معمعہ “ ( جنگ کے دوران کی آوازیں ) شوال میں ہو گی ، ذی القعدہ میں قبائل کے درمیان امتیاز ہو جائے گا ، ذوالحج میں حاجیوں پر حملہ کیا جائے گا اور محرم ، محرم کیا ہے ؟ اس کا ابتدائی حصہ میری امت کے لئے آزمائش ہو گا اور اس کا آخری حصہ میری امت کے لئے کشادگی ہو گی ، اس زمانے میں ایک سواری ، جس پر اس کا ساز و سامان موجود ہو اور مؤمن اس پر سوار ہو کر نجات پا لے ، وہ مومن کے لئے اس ساز و سامان سے زیادہ بہتر ہو گی ، جس کی قیمت ایک لاکھ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12374
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي شَهْرِ رَمَضَانَ الصَّوْتُ ، وَفِي ذِي الْقِعْدَةِ تُمَيَّزُ الْقَبَائِلُ ، وَفِي ذِي الْحِجَّةِ يُسْلَبُ الْحَاجُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَالْبَخْتَرِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رمضان کے مہینے میں ایک آواز ہو گی ، ذیقعدہ کے مہینے میں قبائل کے درمیان امتیاز ہو جائے گا اور ذوالحج کے مہینے میں حاجیوں کو سلب کر لیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور ایک راوی بختری بن عبدالحمید ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور ایک راوی بختری بن عبدالحمید ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔