کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی مسلمان کو قتل کرے ، یا اسے قتل کرنے کا حکم دے
عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ ، فَقَالَ : " قَسَّمْتُ النَّارَ سَبْعِينَ جُزْءًا ، فَلِلْآمِرِ تِسْعَةٌ وَسِتُّونَ وَلِلْقَاتِلِ جُزْءٌ وَحَسْبُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
مرثد بن عبداللہ یزنی ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قتل کرنے والے شخص اور اس کا حکم دینے والے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” آگ کو ستّر اجزاء میں تقسیم کیا جائے گا ، تو حکم دینے والے کو انہتر اجزاء ملیں گے اور قاتل کو ایک جزء ملے گا اور وہ بھی اس کے لئے کافی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ مدلس ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ النَّارَ سَبْعِينَ جُزْءًا ، تِسْعَةٌ وَسِتُّونَ لِلْآمِرِ وَجُزْءٌ لِلْقَاتِلِ وَحَسْبُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے آگ کے ستّر حصے کئے ، انہتر حصے حکم دینے والے کے لئے ہوں گے اور ایک حصہ قاتل کے لئے ہو گا اور وہی اس کے لئے کافی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُؤْتَى بِالْقَاتِلِ وَالْمَقْتُولِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَمَرَنِي هَذَا . فَيُؤْخَذُ بِأَيْدِيهِمَا جَمِيعًا فَيُقْذَفَانِ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن قاتل اور مقتول کو لایا جائے گا ، تو مقتول عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! تو اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ تو وہ قاتل بتائے گا : اے میرے پروردگار ! اُس ( فلاں ) شخص نے مجھے اس کا حکم دیا تھا ، تو ان دونوں افراد کے ہاتھوں کو پکڑا جائے گا اور انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْعُدُ الْمَقْتُولُ بِالْجَادَّةِ ، فَإِذَا مَرَّ بِهِ الْقَاتِلُ فَأَخَذَهُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، هَذَا قَطَعَ عَلَيَّ صَوْمِي وَصَلَاتِي . قَالَ : فَيُعَذِّبُ الْقَاتِلَ وَالْآمِرَ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " فِي الْأَدَبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مقتول راستے میں بیٹھ جائے گا ، جب قاتل اس کے پاس سے گزرے گا ، تو مقتول اسے پکڑ لے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اس شخص نے میری نماز اور روزے ختم کروا دیے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو قاتل کو اور اس قتل کا حکم دینے والے کو عذاب دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جس کو ثقہ قرار دیا گیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر یہ احادیث آئیں گی کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور قتل کرنا کفر ہے یہ ( روایات ) کتاب الادب میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جس کو ثقہ قرار دیا گیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر یہ احادیث آئیں گی کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور قتل کرنا کفر ہے یہ ( روایات ) کتاب الادب میں آئیں گی ۔