مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا أَوْ أَمَرَ بِقَتْلِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی مسلمان کو قتل کرے ، یا اسے قتل کرنے کا حکم دے
حدیث نمبر: 12320
عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ ، فَقَالَ : " قَسَّمْتُ النَّارَ سَبْعِينَ جُزْءًا ، فَلِلْآمِرِ تِسْعَةٌ وَسِتُّونَ وَلِلْقَاتِلِ جُزْءٌ وَحَسْبُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
مرثد بن عبداللہ یزنی ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قتل کرنے والے شخص اور اس کا حکم دینے والے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” آگ کو ستّر اجزاء میں تقسیم کیا جائے گا ، تو حکم دینے والے کو انہتر اجزاء ملیں گے اور قاتل کو ایک جزء ملے گا اور وہ بھی اس کے لئے کافی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ مدلس ہے ۔