مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا أَوْ أَمَرَ بِقَتْلِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی مسلمان کو قتل کرے ، یا اسے قتل کرنے کا حکم دے
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْعُدُ الْمَقْتُولُ بِالْجَادَّةِ ، فَإِذَا مَرَّ بِهِ الْقَاتِلُ فَأَخَذَهُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، هَذَا قَطَعَ عَلَيَّ صَوْمِي وَصَلَاتِي . قَالَ : فَيُعَذِّبُ الْقَاتِلَ وَالْآمِرَ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " فِي الْأَدَبِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مقتول راستے میں بیٹھ جائے گا ، جب قاتل اس کے پاس سے گزرے گا ، تو مقتول اسے پکڑ لے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اس شخص نے میری نماز اور روزے ختم کروا دیے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو قاتل کو اور اس قتل کا حکم دینے والے کو عذاب دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جس کو ثقہ قرار دیا گیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر یہ احادیث آئیں گی کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور قتل کرنا کفر ہے یہ ( روایات ) کتاب الادب میں آئیں گی ۔