کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو زمانہ گزر چکا ہے ، اس کا بیان ، اور جو باقی ہے اس کا بیان
عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي : ابْنَ مَسْعُودٍ - لِامْرَأَتِهِ : الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ أَمْسِ ؟ فَقَالَتْ : لَا أَدْرِي . فَقَالَ : لَكِنِّي أَدْرِي ، أَمْسِ خَيْرٌ مِنَ الْيَوْمِ ، وَالْيَوْمُ خَيْرٌ مِنْ غَدٍ ، وَكَذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَلَهُ آثَارٌ فِي الزُّهْدِ . ¤
محمد محی الدین
خیمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے دریافت کیا : آج بہتر ہے یا گزشتہ کل ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں جانتا ہوں گزشتہ کل ، آج سے بہتر تھا ، اور آج ، آنے والے کل سے بہتر ہے ، اور قیامت قائم ہونے تک اسی طرح ہوتا رہے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کچھ آثار کتاب الزہد میں گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12236
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8773)»