کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: صبر والے دنوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جو فتنوں کے دوران اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے
حدیث نمبر: 12213
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَنِي هَاشِمٍ ، إِنَّكُمْ سَيُصِيبُكُمْ بَعْدِي جَفْوَةٌ ، فَاسْتَعِينُوا عَلَيْهَا بِأَرِقَّاءِ النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بنو ہاشم ! عنقریب تمہیں میرے بعد زیادتی کا سامنا کرنا پڑے گا ، تو اس کے حوالے سے تم کمزور لوگوں سے مدد حاصل کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہاشمی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کو امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12213
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12214
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، يَبِيعُ قَوْمٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ ، الْمُتَمَسِّكُ بِدِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ " . أَوْ قَالَ : " عَلَى الشَّوْكِ " ، وَفِي رِوَايَةٍ " بِخَبَطِ الشَّوْكِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ مِنْ قَوْلِهِ : الْمُتَمَسِّكُ بِدِينِهِ إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ أَحَادِيثِ هَذَا الْبَابِ فِي بَابِ الصَّبْرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عربوں کے لئے اس برائی کے حوالے سے بربادی ہے ، جو قریب آ چکی ہے ، ایسے فتنے ہوں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا تو شام کو کافر ہو جائے گا ، لوگ دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں ، اپنا دین فروخت کر دیں گے ، اس وقت دین کو تھامنے والے لوگ تھوڑے ہوں گے اور دین کو تھامنے والے کی مثال یوں ہو گی ، جیسے مٹھی میں انگارہ لیا ہو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) کانٹے لیے ہوں ۔ “ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” کانٹوں کی شاخ لی ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” دین کو تھامنے والا شخص ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں اس باب سے متعلق باقی احادیث ، صبر سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (390/3)»
حدیث نمبر: 12215
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ - وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ - أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامُ الصَّبْرِ ، لِلْمُتَمَسِّكِ فِيهِنَّ يَوْمَئِذٍ بِمِثْلِ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ لَهُ كَأَجْرِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَوَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " بَلْ مِنْكُمْ " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَوَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " بَلْ مِنْكُمْ " ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ أَرْبَعًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ ، وَكِلَاهُمَا قَدْ وُثِّقَ وَفِيهِمَا خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ ، جو صحابہ کرام میں سے ایک ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے بعد صبر والے دن آئیں گے اور ان دنوں میں دین کو مضبوطی سے تھامنے والے شخص کو تم میں سے پچاس افراد کے اجر کی مانند اجر ملے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ ( پچاس ) افراد ان میں سے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ ( وہ پچاس افراد ) تم میں سے ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا وہ ( پچاس افراد ) ان میں سے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم میں سے ہوں گے “ یہ مکالمہ تین یا شاید چار مرتبہ ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے عبداللہ بن یوسف سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12215
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (117/17)»
حدیث نمبر: 12216
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ ، الصَّبْرُ فِيهِنَّ كَقَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ ، لِلْعَامِلِ فِيهَا أَجْرُ خَمْسِينَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ أَوْ خَمْسِينَ مِنَّا ؟ قَالَ : " خَمْسِينَ مِنْكُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لِلْمُتَمَسِّكِ أَجْرُ خَمْسِينَ شَهِيدًا " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " مِنْكُمْ " ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ سَهْلِ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے بعد صبر والے دن آئیں گے ، اُن میں صبر کرنا ، انگارہ ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے اور ان دنوں میں عمل کرنے والے شخص کو پچاس افراد کا اجر ملے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان میں سے پچاس افراد کا ؟ یا ہم میں سے پچاس افراد کا اجر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے پچاس افراد کا ( اجر ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ” مضبوطی سے تھامے رکھنے والے کے لئے ، پچاس شہیدوں کا اجر ہو گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ ( شہید ) ہم میں سے ہوں گے ؟ یا اُن میں سے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سہل بن عامر بجلی کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12216
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3370) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10394)»
حدیث نمبر: 12217
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : تَعَوَّدُوا الصَّبْرَ ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ بِكُمُ الْبَلَاءُ ، مَعَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُكُمْ بَلَاءٌ أَشَدُّ مِمَّا أَصَابَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَجَالِدٌ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ صبر کی عادت بناؤ ! کیونکہ عنقریب تم پر آزمائشیں نازل ہوں گی ، باوجودیکہ تم کسی ایسی آزمائش کا سامنا نہیں کرو گے جو اس سے زیادہ سخت ہو ، جس طرح کی آزمائش کا سامنا ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12217
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3369)»
حدیث نمبر: 12218
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَأْتِيَّنَ عَلَيْكُمْ زَمَانٌ تَغْبِطُونَ فِيهِ الرَّجُلَ بِخِفَّةِ الْحَاذِ كَمَا تَغْبِطُونَهُ الْيَوْمَ بِكَثْرَةِ الْمَالِ وَالْوَلَدِ ، حَتَّى يَمُرَّ أَحَدُكُمْ بِقَبْرِ أَخِيهِ فَيَتَمَعَّكُ كَمَا تَتَمَعَّكُ الدَّابَّةُ فِي مَرَاعِيهَا وَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَكَ ، مَا بِهِ شَوْقٌ إِلَى اللَّهِ وَلَا عَمَلٍ صَالِحٍ قَدَّمَهُ إِلَّا لِمَا نَزَلَ بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب تم لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں تم ایسے شخص پر رشک کرو گے ، جس کی ذمہ داریاں کم ہوں ، بالکل اسی طرح جس طرح آج تم ایسے شخص پر رشک کرتے ہو ، جس کا مال اور اولاد زیادہ ہوتا ہے ، یہاں تک کہ ( اس زمانے میں ) تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے گا ، تو مٹی کے ساتھ یوں لوٹ پوٹ ہو جائے گا ، جس طرح چراگاہ میں کوئی جانور مٹی میں لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے اور وہ شخص یہ کہے گا : اے کاش ! میں تمہاری جگہ ہوتا ، وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے شوق کی وجہ سے یہ بات نہیں کہے گا ، یا اس نے کوئی ایسا نیک عمل نہیں آگے بھیجا ہو گا ، جس کی وجہ وہ یہ کہے گا ، بلکہ اس پر جو آزمائش نازل ہوئی ہو گی ، اس کی وجہ سے وہ یہ بات کہے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12218
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (331) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9777)»
حدیث نمبر: 12219
وَعَنْهُ قَالَ : لَيَأْتِيَّنَ عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمُرُّ الرَّجُلُ بِالْقَبْرِ فَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَ هَذَا ، مَا بِهِ مِنْ حُبِّ لِقَاءِ اللَّهِ وَلَكِنْ شِدَّةُ مَا يَرَى مِنَ الْبَلَاءِ . قِيلَ : أَيُّ شَيْءٍ عِنْدَ ذَلِكَ خَيْرٌ ؟ قَالَ : فَرَسٌ شَدِيدٌ وَسِلَاحٌ شَدِيدٌ يَزُولُ بِهِ الرَّجُلُ حَيْثُ زَالَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ أَبِي الزَّعْرَاءِ الْكَبِيرِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ فرماتے ہیں : ” تم پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ جس میں آدمی قبر کے پاس سے گزرے گا ، تو یہ کہے گا : کاش میں اس مردے کی جگہ ہوتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ حاضری کے شوق کی وجہ سے یہ نہیں کہے گا ، بلکہ جس آزمائش کا اس نے سامنا کیا ہو گا ، اُس کی شدت کی وجہ سے یہ بات کہے گا ، عرض کی گئی : اس وقت کون سی چیز زیادہ بہتر ہو گی ؟ انہوں نے فرمایا : مضبوط گھوڑا ، مضبوط ہتھیار ، جس کے ذریعے آدمی جہاں چاہے جا سکے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوزعراء کبیر کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12219
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9750)»
حدیث نمبر: 12220
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " اصْبِرِ اصْبِرْ ، خَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ ، وَخَالِفُوهُمْ فِي أَعْمَالِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر لیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم صبر سے کام لینا ! تم صبر سے کام لینا ! لوگوں سے ان کے اخلاق کے حوالے سے ملتے جلتے رہنا اور لوگوں کے اعمال کے حوالے سے اُن کے برخلاف کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12220
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (473)»
حدیث نمبر: 12221
وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا أَوْ دَعَا إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ فِي قَوْمٍ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَصَارُوا حُثَالَةً ؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قَالُوا : فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اصْبِرُوا اصْبِرُوا ، وَخَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ ، وَخَالِفُوهُمْ فِي أَعْمَالِهِمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے ، یا کسی بدعتی کو پناہ دے ، یا اپنے باپ کے علاوہ ، یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ، تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور لوگوں ، سب کی لعنت ہو گی ، اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے ، جن کے عہد اور ان کی امانتیں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ ردّی ہو چکے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول الله ! ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم صبر سے کام لینا ، تم صبر سے کام لینا ، تم لوگوں کے ساتھ اُن کے اخلاق کے مطابق پیش آنا اور اُن کے اعمال کے بارے میں اُن ( لوگوں ) کے برخلاف کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12221
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3324)»
حدیث نمبر: 12222
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ " . قَالَ : فَذَاكَ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ذَاكَ إِذَا مَرِجَتْ أَمَانَاتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ فَصَارُوا هَكَذَا " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قَالَ : فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَعْمَلُ بِمَا تَعْرِفُ ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عبداللہ بن عمرو ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ ردّی لوگوں میں رہ جاؤ گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا صورت حال ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت لوگوں کی امانتیں اور ان کے عہد ، ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم وہ عمل کرنا جسے تم نیکی سمجھو اور اسے ترک کر دینا ، جسے تم منکر ( یا برائی ) سمجھو اور تم بطور خاص اپنی ذات کے لئے عمل کرنا اور لوگوں کو ( ان کے حال پر ) چھوڑ دینا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12222
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2797)»
حدیث نمبر: 12223
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَتُغَرْبَلُونَ حَتَّى تَصِيرُوا فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَخَرِبَتْ أَمَانَتُهُمْ " . فَقَالَ قَائِلُنَا : فَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَعْمَلُونَ بِمَا تَعْرِفُونَ ، وَتَتْرُكُونَ مَا تُنْكِرُونَ ، وَتَقُولُونَ : أَحَدٌ أَحَدٌ انْصُرْنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَاكْفِنَا مَنْ بَغَانَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تمہیں آزمایا جاتا رہے گا ، یہاں تک کہ تم ردّی لوگوں میں رہ جاؤ گے ، جن کے عہد ایک دوسرے میں داخل ہو چکے ہوں گے اور ان کی امانتیں خراب ہو چکی ہوں گی ، ہم میں سے کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم وہ عمل کرنا جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دینا جسے تم منکر سمجھو اور تم یہ کہنا : کوئی ہے ؟ کوئی ہے ؟ کون اس شخص کے خلاف مدد کرے گا ، جس نے ہم پر ظلم کیا ہے اور اس شخص کے حوالے سے ہماری کفایت کرے گا ، جس نے ہم سے سرکشی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12223
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12224
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَكُونُ بَعْدِي أَثْرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا " . قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ " . قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد ترجیحی سلوک ہو گا اور کچھ اور امور ہوں گے ، جنہیں تم منکر قرار دو گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو شخص اس صورت حال کو پاتا ہے ، آپ اسے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اس حق کو ادا کرنا جو تمہارے ذمہ لازم ہے اور جو تمہارا حق ہے ، وہ اللہ تعالیٰ سے مانگنا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبدالعزیز واسطی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12224
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (985)»
حدیث نمبر: 12225
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَأْتِيَّنَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُكَذَّبُ فِيهِ الصَّادِقُ ، وَيُصَدَّقُ فِيهِ الْكَاذِبُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهِ الْأَمِينُ ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهِ الْخَائِنُ ، وَيَشْهَدُ الْمَرْءُ وَإِنْ لَمْ يُسْتَشْهَدْ ، وَيَحْلِفُ الْمَرْءُ وَإِنْ لَمْ يُسْتَحْلَفْ ، وَيَكُونُ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا ، جس میں سچے کو جھوٹا قرار ضرور دیا جائے گا اور جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی ، جس میں امین کو خائن قرار دیا جائے گا اور خائن کو امین بنا دیا جائے گا ، آدمی گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی ، آدمی حلف اٹھاے گا ، حالانکہ اس سے حلف نہیں مانگا گیا ہو گا ، اور دنیا میں سب سے زیادہ سعادت مند ( یعنی دنیاوی اعتبار سے سب سے زیادہ صاحب حیثیت ) وہ شخص ہو گا ، جو خود بے وقوف ہو گا اور بے وقوف کا بچہ ہو گا ، وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12225
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (314/23)»
حدیث نمبر: 12226
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِينَ خَدَّاعَةً ، يُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ ، وَيَتَكَلَّمُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ " . قِيلَ : وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ : " الْفَاسِقُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال سے پہلے کچھ سال دھوکے کے ہوں گے ، جن میں سچے کو جھوٹا قرار دیا جائے گا اور ان میں جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا ، اُن میں امین کو خائن قرار دیا جائے گا اور خائن کو ان میں امین بنا دیا جائے گا ، ان میں رویبضہ کلام کریں گے ، عرض کی گئی : رویبضہ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاسق شخص کا عمومی معاملات میں بات چیت کرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12226
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3715) اخرجه احمد فى المسند (220/3)»
حدیث نمبر: 12227
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ سِنِينَ خَدَّاعَةً ، يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ : " الِامْرُؤُ التَّافِهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت سے پہلے کچھ سال دھوکے کے ہوں گے ، جن میں جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا اور ان میں سچے کو جھوٹا قرار دیا جائے گا ، ان میں خائن کو امین بنا دیا جائے گا اور امین کو ان میں خائن قرار دیا جائے گا ، اور ان میں رویبضہ کلام کریں گے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ رویبضہ سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : حقیر شخص ، جو عمومی معاملات میں کلام کرے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12227
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3373)»
حدیث نمبر: 12228
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِنَحْوِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَيَأْتِي فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ بَعْضُ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن دینار نے مجھے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، ابن اسحاق نے اس میں عبداللہ بن دینار سے سماع کی تصریح کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں قیامت کی نشانیوں سے متعلق باب میں ، اس میں سے کچھ روایات آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12228
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 12229
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَامِ وَتَخْوِينُ الْأَمِينِ وَائْتِمَانُ الْخَائِنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کی نشانیوں میں فحاشی ، فحش گفتگو کرنا ، رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا ، امین کو خائن قرار دینا اور خائن کو امین بنا لینا ، شامل ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12229
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 12230
وَعَنْ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ : لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمْلَى عَلَيَّ ، فَكَتَبْتُ بِيَدِي ، فَلَمْ أَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ أَنْقُصْ حَرْفًا ، حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ - أَوْ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ - وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَاحُشُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَسُوءُ الْمُجَاوَرَةِ وَحَتَّى يُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَأَبُو سَبْرَةَ هَذَا اسْمُهُ : سَالِمُ بْنُ سَبْرَةَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسبرہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اللہ سے ہوئی تو انہوں نے مجھے وہ احادیث بیان کیں ، جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں ، اور وہ روایات مجھے املاء کروائیں ، میں نے اپنے ہاتھ سے روایات نوٹ کیں اور کوئی ایک حرف زائد نہیں کیا اور کوئی حرف کم نہیں کیا ، انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ فحاشی کو پسند نہیں کرتا ہے ، وہ فحاشی والے شخص اور فحش گفتگو کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے ، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک فحاشی اور فحش گفتگو اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا اور برا پڑوس ظاہر نہیں ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ خائن شخص کو امین بنایا جائے گا اور امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، ابوسبرہ ( نامی راوی ) کا نام سالم بن سبرہ ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12230
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (162/2)»
حدیث نمبر: 12231
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَتَمَنَّوْنَ فِيهِ الدَّجَّالَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي ، مِمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : " مِمَّا يَلْقَوْنَ مِنَ الْعَنَاءِ وَالْعَنَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں وہ لوگ دجال کی آرزو کریں گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ قربان ہوں ، اس کی وجہ کیا ہو گی ؟ آپ نے فرمایا : کیونکہ ان لوگوں کو یکے بعد دیگرے اتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12231
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3393)»
حدیث نمبر: 12232
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ النَّاسَ شَجَرَةٌ ذَاتُ جَنْيٍ ، وَيُوشِكُ أَنْ يَعُودُوا شَجَرَةً ذَاتَ شَوْكٍ ، إِنَّ نَافَذْتَهُمْ نَافَذُوكَ ، وَإِنْ تَرَكْتَهُمْ لَمْ يَتْرُكُوكَ ، وَإِنْ هَرَبْتَ مِنْهُمْ طَلَبُوكَ " . قَالَ : فَكَيْفَ الْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تُقْرِضُهُمْ عَرَضَكَ لِيَوْمِ فَاقَتِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَصَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ضَعِيفٌ جِدًّا وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگ ایسے درخت کی مانند ہیں ، جس پر پھل لگا ہو اور عنقریب وہ ایسے درخت کی مانند ہو جائیں گے ، جو کانٹے والا ہوتا ہے ، اگر تم انہیں کھینچو گے تو وہ تمہیں کھینچیں گے اور اگر تم انہیں چھوڑ دو گے ، تو وہ تمہیں چھوڑیں گے ، اگر تم ان سے بھاگو گے ، تو وہ تمہیں تلاش کریں گے ، راوی نے عرض کی : یا رسول اللہ اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے فاقہ کے دن ، اپنی عزت نہیں دیدینا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ مدلس ہے اور ایک راوی صدقہ بن عبداللہ ہے جو انتہائی ضعیف ہے ، دحیم اور ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12232
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7575)»
حدیث نمبر: 12233
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً ، وَلَا يَزْدَادُ الْمَالُ إِلَّا إِفَاضَةً ، وَلَا يُزَادُ النَّاسُ إِلَّا شُحًّا ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ ضَعْفٌ ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” معاملے کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور مال پھیلتا چلا جائے گا اور لوگوں کی کنجوسی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے انہوں نے یہ روایت ایک اور ضعیف سند کے ساتھ بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12233
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7894 و 7757)»
حدیث نمبر: 12234
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ الصَّلَاةُ فِيهِ طَوِيلَةٌ ، وَالْخُطْبَةُ فِيهِ قَصِيرَةٌ ، وَعُلَمَاؤُهُ كَثِيرٌ ، وَخُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ ، وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّلَاةُ فِيهِ قَصِيرَةٌ ، وَالْخُطْبَةُ فِيهِ طَوِيلَةٌ ، خُطَبَاؤُهُ كَثِيرٌ ، وَعُلَمَاؤُهُ قَلِيلٌ ، يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعَشِيِّ إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيُصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَلْيَجْعَلْهَا مَعَهُمْ تَطَوُّعًا ، إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ يُغْبَطُ فِيهِ الرَّجُلُ عَلَى قِلَّةِ عِيَالِهِ وَخِفَّةِ حَاذِهِ ، مَا أَدَعُ بَعْدِي فِي أَهْلِي أَحَبَّ إِلَيَّ مَوْتًا مِنْهُمْ وَلَا أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْجُعْلَانِ ، وَإِنِّي لَأُحِبُّهُمْ كَمَا تُحِبُّونَ أَهْلِيكُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الزُّهْدِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْعِلْمِ نَحْوُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ” تم لوگ ایسے زمانے میں ہو ، جس میں نماز طویل ادا کی جاتی ہے اور خطبہ مختصر دیا جاتا ہے ، اس زمانے کے علماء بہت زیادہ ہیں اور خطیب کم ہیں ، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں نماز مختصر ادا کی جائے گی اور خطبہ طویل دیا جائے گا ، اس زمانے میں خطیب زیادہ ہوں گے اور علماء کم ہوں گے ، وہ لوگ نمازیں تاخیر سے ادا کریں گے ، یہاں تک کہ وہ عصر کی نماز اس وقت ادا کریں گے جب سورج کی روشنی کمزور ہو چکی ہو گی ، تم میں سے جو شخص وہ زمانہ پائے ، وہ نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کر لے اور ان لوگوں کے ساتھ ادا کی جانے والی اپنی نماز کو نفل قرار دیدے ، تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو ، جس میں ایسے شخص پر رشک کیا جاتا ہے ، جس کے بال بچے کم ہوں اور اخراجات کم ہوں ، میں اپنے بعد اپنے اہل خانہ کے لئے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا ، جو میرے نزدیک ان کے لئے موت سے زیادہ محبوب ہو ، اور نہ ہی جعلان سے زیادہ کوئی گھرانہ چھوڑوں گا ، میں ان سے اسی طرح محبت کرتا ہوں ، جس طرح تم اپنے اہل خانہ سے محبت رکھتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس کا ایک طریق کتاب الزہد میں گزر چکا ہے ، اس سے پہلے کتاب العلم میں اس کی مانند روایت گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12234
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12235
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خُلَيْدَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْهِ وَقَدْ نَصَبَ مَتَاعًا فِي بَيْتِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : اسْتَخِفَّ مِنْ شَوَارِ بَيْتِكَ ، فَإِنَّ النَّاسَ يُوشِكُونَ أَنْ يَكُونُوا عَلَى قَتَبٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن زید بن خلیدہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ، انہوں نے گھر میں موجود سامان تیار رکھا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنے گھر کے ساز و سامان کو پوشیدہ رکھو ، کیونکہ لوگ عنقریب اشتعال میں آ جائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12235
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8975)»