کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو کسی اور کو ، یا خود کو ضرر پہنچنے کے اندیشے کا شکار ہو
حدیث نمبر: 12168
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : كُنْتُ فِي الْقَصْرِ مَعَ الْحَجَّاجِ وَهُوَ يُعَرِّضُ النَّاسَ مِنْ أَجْلِ ابْنِ الْأَشْعَثِ ، فَجَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ حَتَّى دَنَا ، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ : هِيهِ يَا خِبْثَةُ ، يَا جَوَّالُ فِي الْفِتَنِ ، مَرَّةً مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَمَرَّةً مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَمَرَّةً مَعَ ابْنِ الْأَشْعَثِ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَسْتَأْصِلَنَّكَ كَمَا تُسْتَأْصَلُ الصَّمْغَةُ ، وَلَأُجَرِّدَنَّكَ كَمَا يُجَرَّدُ الضَّبُّ . فَقَالَ : مَنْ يَعْنِي الْأَمِيرُ أَصْلَحَهُ اللَّهُ ؟ قَالَ الْحَجَّاجُ : إِيَّاكَ أَعْنِي ، أَصَمَّ اللَّهُ سَمْعَكَ . فَاسْتَرْجَعَ فَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي ذَكَرْتُ وَلَدِي فَخَشِيتُهُ عَلَيْهِمْ لَكَلَّمْتُهُ فِي مَقَامِي بِكَلَامٍ لَا يَسْتَجِيبُنِي بَعْدَهُ أَبَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
علی بن زید بیان کرتے ہیں : میں محل میں حجاج کے پاس موجود تھا اور وہ ابن اشعث کی وجہ سے لوگوں کو سزا دے رہا تھا ، اسی دوران سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور قریب ہو گئے ، تو حجاج نے ان سے کہا: اے خبیث آگے آ جاؤ ! اے فتنے میں گھومنے پھرنے والے ! کبھی علی بن ابوطالب کے ساتھ ہوتے ہو ، کبھی ابن زبیر کے ساتھ ہوتے ہو ، کبھی ابن اشعث کے ساتھ ہوتے ہو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں تمہیں جڑ سے یوں اکھاڑ دوں گا ، جس طرح پھوڑے کو اکھاڑا جاتا ہے اور میں تمہیں یوں الگ الگ کر دوں گا ، جس طرح گوہ کو الگ الگ کیا جاتا ہے ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : امیر کو اللہ تعالیٰ ٹھیک رکھے ! وہ کون سے شخص کو مراد لے رہے ہیں ؟ حجاج نے کہا: میں تمہیں ہی مراد لے رہا ہوں ، اللہ تعالیٰ تمہاری سماعت کو بہرا کر دے ، تو انہوں نے انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور پھر اس کے پاس سے اٹھ کر تشریف لے گئے ، بعد میں انہوں نے فرمایا : اگر مجھے اپنی اولاد کا خیال نہ ہوتا اور ان کے حوالے سے اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں اس جگہ پر کھڑا ہو کر ایسا کلام کرتا کہ وہ اس کے بعد کبھی مجھے جواب دینے کے قابل نہ رہتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ایک راوی علی بن زید ہے جو ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12168
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (704)»
حدیث نمبر: 12169
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ ، فَذَكَرَ كَلَامًا أَنْكَرْتُهُ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُغَيِّرَ فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : " يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ جَيِّدٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ الضَّرِيرِ ذَكَرَهُ الْخَطِيبُ ، رَوَى عَنْ جَمَاعَةٍ وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے حجاج کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، اس نے ایسا کلام ذکر کیا ، جسے میں نے منکر قرار دیا ، پہلے میں نے اسے روکنے کا ارادہ کیا ، پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا : ” مومن کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خود کو ذلت کا شکار کرے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیسے خود کو ذلت کا شکار کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کہ وہ خود کو ایسی آزمائش کے لئے پیش کرے ، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی کی معجم کبیر میں جو سند ہے ، وہ عمدہ ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن یحیی بن ایوب ضریر کا معاملہ مختلف ہے ، خطیب نے اس کا ذکر کیا ہے اس نے ایک جماعت سے روایات نقل کی ہیں اور ایک جماعت نے اس سے روایات نقل کی ہیں ، اس کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12169
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3323)»
حدیث نمبر: 12170
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لِلْمُسْلِمِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : " يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ الْخَضِرِ عَنِ الْجَارُودِ ، وَلَمْ يُنْسَبَا وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ،وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خود کو ذلت کا شکار کرے ، لوگوں نے عرض کی : وہ کیسے خود کو ذلت کا شکار کرے گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ” وہ خود کو ایسی آزمائش کے لئے پیش کرے ، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں خضر کے حوالے سے جارود سے نقل کی ہے ، ان دونوں کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12170
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف