کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو خوف زدہ ہو کر دل میں انکار کرے اور ( اس شخص کا بیان ) جو بات کرے
حدیث نمبر: 12167
عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ قَالَ : لَمَّا هَزَمَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ أَهْلَ الْبَصْرَةِ قَالَ الْمُعَلَّى : فَخَشِيتُ أَنْ أَجْلِسَ فِي حَلْقَةِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ فَأُوجَدَ فِيهَا فَأُعْرَفَ ، فَأَتَيْتُ الْحَسَنَ فِي مَنْزِلِهِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، كَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَيَّةُ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ؟ قُلْتُ : قَوْلُ اللَّهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : " وَتَرَى كَثِيرًا مِنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ " . قَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّ الْقَوْمَ عَرَضُوا السَّيْفَ فَحَالَ السَّيْفُ دُونَ الْكَلَامِ . قُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، فَهَلْ تَعْرِفُ لِمُتَكَلِّمٍ فَضْلًا ؟ قَالَ : لَا . قَالَ الْمُعَلَّى : ثُمَّ حَدَّثْتُ بِحَدِيثَيْنِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَدِيثٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ رَهْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ يُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ ، فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبْعِدُ مِنْ رِزْقٍ " ، قَالَ : ثُمَّ حَدَّثَ الْحَسَنُ بِحَدِيثٍ آخَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ " . قِيلَ : وَمَا إِذْلَالُهُ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : " يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لَمَّا لَا يُطِيقُ " . قُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، فَيَزِيدُ الضَّبِّيُّ وَكَلَامُهُ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَخْرُجْ مِنَ السِّجْنِ حَتَّى نَدِمَ . قَالَ الْمُعَلَّى : فَقُمْتُ مِنْ مَجْلِسِ الْحَسَنِ ، فَأَتَيْتُ يَزِيدَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا مَوْدُودٍ ، بَيْنَا أَنَا وَالْحَسَنُ نَتَذَاكَرُ إِذْ نَصَبَ أَمْرَكَ نَصْبًا . فَقَالَ : مَهْ يَا أَبَا الْحَسَنِ . قَالَ : قُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ . قَالَ : فَمَا قَالَ ؟ قُلْتُ : قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَخْرُجْ مِنَ السِّجْنِ حَتَّى نَدِمَ عَلَى مَقَالَتِهِ . قَالَ يَزِيدُ : مَا نَدِمْتُ عَلَى مَقَالَتِي وَايْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ قُمْتُ مَقَامًا أُخْطِرُ فِيهِ بِنَفْسِي . قَالَ يَزِيدُ : فَأَتَيْتُ الْحَسَنَ قُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، غُلِبْنَا عَلَى كُلِّ شَيْءٍ تَغَلَّبَ عَلَى صِلَاتِنَا . فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا ، إِنَّكَ تَعْرِضُ نَفْسَكَ لَهُمْ . ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ . قَالَ : فَقُمْتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ يَخْطُبُ ، فَقُلْتُ : رَحِمَكَ اللَّهُ ، الصَّلَاةُ ، فَلَمَّا قُلْتُ ذَلِكَ احْتَوَشَتْنِي الرِّجَالُ يَتَعَاوَرُونِي ، فَأَخَذُوا بِلِحْيَتِي وَتَلْبِيبَتِي ، وَجَعَلُوا يُجْؤُونَ بَطْنِي بِنِعَالِ سُيُوفِهِمْ . قَالَ : وَمَضَوْا بِي نَحْوَ الْمَقْصُورَةِ ، فَمَا وَصَلْتُ إِلَيْهَا حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُونِي دُونَهَا . قَالَ : فَفُتِحَ لِي بَابُ الْمَقْصُورَةِ . قَالَ : فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيِ الْحَكَمِ وَهُوَ سَاكِتٌ . فَقَالَ : أَمْجَنُونٌ أَنْتَ ؟ وَمَا كُنَّا فِي صَلَاةٍ . فَقُلْتُ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ ، هَلْ مِنْ كَلَامٍ أَفْضَلَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ؟ قَالَ : لَا . قُلْتُ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَشَرَ مُصْحَفًا يَقْرَؤُهُ غُدْوَةً إِلَى اللَّيْلِ كَانَ ذَلِكَ قَاضٍ عَنْهُ صَلَاتَهُ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ لَأَحْسَبُكَ مَجْنُونًا . قَالَ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ جَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِهِ سَاكِتٌ ، فَقُلْتُ : يَا أَنَسُ يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ ، فَقَدْ خَدَمْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَحِبْتَهُ ، أَبِمَعْرُوفٍ قُلْتُ أَمْ بِمُنْكَرٍ ؟ أَبِحَقٍّ قُلْتُ أَمْ بِبَاطِلٍ ؟ قَالَ : فَلَا وَاللَّهِ ، مَا أَجَابَنِي بِكَلِمَةٍ . قَالَ لَهُ الْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ : يَا أَنَسُ ، قَالَ : يَقُولُ : لَبَّيْكَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ . قَالَ وَكَانَ وَقْتُ الصَّلَاةِ قَدْ ذَهَبَ . قَالَ : كَانَ بَقِيَ مِنَ الشَّمْسِ بَقِيَّةٌ . قَالَ : احْبِسُوهُ . قَالَ يَزِيدُ : فَأُقْسِمُ لَكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ - يَعْنِي لِلْمُعَلَّى - لَمَا لَقِيتُ مِنْ أَصْحَابِي كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ مَقَالِي ، قَالَ بَعْضُهُمْ : مُرَاءٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَجْنُونٌ . قَالَ : وَكَتَبَ الْحَكَمُ إِلَى الْحَجَّاجِ : إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي ضُبَّةَ قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ : الصَّلَاةَ وَأَنَا أَخْطُبُ ، وَقَدْ شَهِدَ الشُّهُودُ الْعُدُولُ عِنْدِي أَنَّهُ مَجْنُونٌ . فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ : إِنْ كَانَتْ قَامَتِ الشُّهُودُ الْعُدُولُ أَنَّهُ مَجْنُونٌ فَخَلِّ سَبِيلَهُ ، وَإِلَّا فَاقْطَعْ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ وَاسْمُرْ عَيْنَيْهِ وَاصْلِبْهُ . قَالَ : فَشَهِدُوا عِنْدَ الْحَكَمِ أَنِّي مَجْنُونٌ فَخَلَّى عَنِّي . قَالَ الْمُعَلَّى عَنْ يَزِيدَ الضَّبِّيِّ : مَاتَ أَخٌ لَنَا فَتَبِعْنَا جَنَازَتَهُ فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمَّا دُفِنَ تَنَحَّيْتُ فِي عِصَابَةٍ ، فَذَكَرْنَا اللَّهَ وَذَكَرْنَا مَعَادَنَا ، فَإِنَّا كَذَلِكَ إِذْ رَأَيْنَا نَوَاصِيَ الْخَيْلِ وَالْحِرَابِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَصْحَابِي قَامُوا وَتَرَكُونِي وَحْدِي ، فَجَاءَ الْحَكَمُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيَّ فَقَالَ : مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ قُلْتُ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ ، مَاتَ صَاحِبٌ لَنَا فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ وَدَفَنَّاهُ وَقَعَدْنَا نَذْكُرُ رَبَّنَا وَنَذْكُرُ مَعَادَنَا وَنَذْكُرُ مَا صَارَ إِلَيْهِ . قَالَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَفِرَّ كَمَا فَرُّوا ؟ قُلْتُ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ ، أَنَا أَبْرَأُ مِنْ ذَلِكَ سَاحَةً وَآمَنُ الْأَمِيرَ أَنْ أَفِرَّ . قَالَ : فَسَكَتَ الْحَكَمُ ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمُهَلَّبِ وَكَانَ عَلَى شُرْطَتِهِ : تَدْرِي مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا الْمُتَكَلِّمُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . قَالَ : فَغَضِبَ الْحَكَمُ ، وَقَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَجَرِئٌ ، خُذَاهُ . قَالَ : فَأُخِذْتُ فَضَرَبَنِي أَرْبَعَمِائَةِ سَوْطٍ ، فَمَا دَرِيتُ مَتَى تَرَكَنِي مِنْ شِدَّةِ مَا ضَرَبَنِي . قَالَ : وَبَعَثَنِي إِلَى وَاسِطَ ، فَكُنْتُ فِي دِيمَاسِ الْحَجَّاجِ حَتَّى مَاتَ الْحَجَّاجُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
معلیٰ بن زیاد بیان کرتے ہیں : جب یزید بن مہلب نے اہل بصرہ کو پسپا کر دیا ، تو معلیٰ کہتے ہیں : مجھے اندیشہ ہوا کہ میں حسن بن ابوالحسن کی محفل میں بیٹھوں اور پھر میرے خلاف کاروائی ہو اور میری شناخت کر لی جائے ، تو میں حسن کے ہاں ان کے گھر آیا ، میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : اے ابوسعید ! اللہ کی کتاب کی اس آیت کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے دریافت کیا : اللہ کی کتاب کی کون سی آیت ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ” اور تم اُن میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ گناہ اور سرکشی کے کاموں میں جلدبازی کرتے ہیں اور حرام کھانے میں بھی ، تو وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں ، وہ برا ہے “ تو انہوں نے فرمایا : اے عبداللہ ( یا اے اللہ کے بندے ! ) جب لوگوں کو تلوار کے سامنے لایا جائے ، تو تلوار بات چیت کرنے کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہے ، میں نے کہا: اے ابوسعید ! کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ ایسے وقت میں کلام کرنے والے کو کوئی فضیلت حاصل ہوتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! معلیٰ بیان کرتے ہیں : پھر میں نے دو حدیثیں بیان کیں ، انہوں نے یہ بات بیان کی کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نام کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کا خوف تم میں سے کسی ایک شخص کو اس بات سے منع نہ کرے کہ وہ حق کے مطابق بات کرے ، جبکہ وہ حق کو دیکھ رہا ہو ، یا ( لوگوں کا خوف تم میں سے کسی ایک شخص کو اس بات سے منع نہ کرے کہ ) وہ کسی حکمران کو کوئی نصیحت کرے ، کیونکہ یہ چیز نہ تو موت کو قریب کرتی ہے اور نہ ہی رزق کو دور کرتی ہے ۔ “ پھر انہوں نے ایک اور حدیث بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خود ذلیل کرے ، عرض کی گئی : اس کے اپنے آپ کو ذلیل کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ وہ خود کو ایسی آزمائش کے سامنے پیش کرے ، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔ “ ان سے کہا: گیا : اے ابوسعید ! یزید ضبی اور نماز کے بارے میں اس کے کلام کا کیا حکم ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : وہ جیل سے اس وقت تک نہیں نکلے گا ، جب تک ندامت کا شکار نہیں ہوتا ، معلیٰ کہتے ہیں : پھر میں حسن بصری کی محفل سے اُٹھا اور یزید کے پاس آیا ، میں نے کہا: اے ابومودود ! میں اور حسن بصری بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران انہوں نے تمہارے معاملے کے بارے میں ایک رائے دی ہے ، اس نے کہا: اے ابوالحسن رک جاؤ ! میں نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا ، اس نے کہا: انہوں نے کیا کہا: ؟ میں نے کہا: انہوں نے یہ کہا: وہ جیل سے اس وقت تک باہر نہیں آئے گا ، جب تک اپنی کہی ہوئی بات پر ندامت کا شکار نہیں ہو گا ، تو یزید نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اپنی کہی ہوئی بات پر ندامت کا شکار نہیں ہوا ہوں ، میں نے ایک ایسی جگہ پر قیام کیا ہے ، جہاں مجھے اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ ہے ، یزید کہتے ہیں : پھر میں حسن کے پاس آیا ، میں نے کہا: اے ابوسعید ! ہم ہر چیز کے حوالے سے مغلوب ہو گئے ہیں ، یہاں تک کہ اپنی نماز کے حوالے سے بھی مغلوب ہو گئے ہیں ( یعنی ہم نماز بھی وقت پر نہیں پڑھ سکتے ) تو انہوں نے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! تم کچھ نہیں کر سکتے ، تم اپنے آپ کو ان کے سامنے پیش کر دو ، پھر میں ان کے پاس آیا ، تو انہوں نے اس کی مانند بات کہی ، جو پہلے کہی تھی ۔ وہ بیان کرتے ہیں : پھر میں جمعہ کے دن مسجد میں کھڑا ہوا ، حکم بن ایوب اس وقت خطبہ دے رہا تھا ، میں نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، نماز کا وقت ہو گیا ہے ، جب میں اُٹھا تو اس کے آدمیوں نے مجھے گھیر لیا اور وہ مجھے مارنے پیٹنے لگے ، انہوں نے میری داڑھی کھینچی ، میرے بال کھینچے میرے پیٹ میں تلواریں چبھوئیں ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ مجھے لے کے مکسورہ کی طرف بڑھے اور اس تک پہنچنے سے پہلے ہی مجھے قتل کر دیں گے ، پھر انہوں نے میرے لئے مقصورہ کا دروازہ کھولا ، تو میں حکم بن ایوب کے سامنے آ کر کھڑا ہوا ، وہ خاموش تھا ، اس نے کہا: کیا تم پاگل ہو ؟ ہم نماز میں نہیں ہیں ، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ، کیا اللہ کی کتاب سے کوئی زیادہ فضیلت والا کوئی کلام ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! میں نے کہا: اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ، ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر کوئی شخص قرآن کھول کر صبح سے شام تک پڑھتا رہتا ہے ، تو کیا یہ چیز نماز کی ادائیگی کی جگہ کفایت کر جائے گی ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم پاگل ہو ، راوی کہتے ہیں : اس وقت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ منبر کے پاس خاموش بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے کہا: اے سیدنا انس رضی اللہ عنہ ! اے سیدنا ابوحمزہ ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے ، آپ اُن کے صحابی ہیں ، میں نے جو بات کی ہے ، کیا وہ معروف ہے ؟ یا منکر ہے ؟ کیا وہ حق ہے یا باطل ہے ؟ جو میں نے کہا: ہے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! انہوں نے مجھے جواب میں ایک کلمہ بھی نہیں کہا: ، حکم بن ایوب نے ان سے کہا: اے انس ! تو انہوں نے کہا: میں حاضر ہوں ، اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک رکھے ، راوی کہتے ہیں : اس وقت نماز کا وقت رخصت ہو چکا تھا اور سورج تھوڑا سا باقی تھا ، امیر نے کہا: اسے قید کر دو ! یزید نے کہا: اے ابوالحسن ! میں آپ کو قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، یعنی اس نے معلیٰ سے کہا: کہ میں نے اپنے ساتھیوں کی طرف سے جس صورت حال کا سامنا کیا ہے ، وہ میرے نزدیک میری بات سے زیادہ سخت ہے ، بعض نے کہا: یہ بحث کر رہا ہے ، بعض نے کہا: یہ پاگل ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر حکم نے حجاج کو خط لکھا کہ بنوضبہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جمعہ کے دن کھڑا ہو گیا تھا اور بولا: نماز پڑھیں جی ! میں اس وقت خطبہ دے رہا تھا اور میرے سامنے عادل گواہوں نے یہ گواہی دی ہے کہ یہ پاگل ہے ، تو حجاج نے اسے جوابی خط میں لکھا کہ اگر عادل گواہ یہ گواہی دیدیتے ہیں کہ یہ پاگل ہے ، تو پھر تم اسے چھوڑ دینا ، ورنہ اس کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دینا ، اس کی آنکھوں میں سلائیاں پھیروا دینا اور اسے سولی پر چڑھا دینا ، راوی کہتے ہیں : تو حکم کے سامنے لوگوں نے یہ گواہی دی کہ میں پاگل ہوں ، تو اس نے مجھے چھوڑ دیا ۔ معلیٰ نے یزید ضبی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ہمارا ایک بھائی فوت ہو گیا ، ہم اس کے جنازے میں جا رہے تھے ، ہم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ، جب اسے دفن کر دیا گیا ، تو ہم کچھ لوگ ایک طرف ہٹ گئے ، ہم اللہ کا ذکر کرنے لگے اور آخرت کا ذکر کرنے لگے ، ہم ابھی یہی کچھ کر رہے تھے کہ اسی دوران ہمیں گھوڑوں کی پیشانیاں اور نیزے نظر آئے ، تو میرے ساتھیوں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو وہ اٹھے اور وہ مجھے اکیلا چھوڑ گئے ، اسی دوران حکم آ گیا اور میرے پاس آ کر ٹھہر گیا ، اس نے کہا: تم لوگ کیا کر رہے تھے ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ، ہمارا ساتھی فوت ہوا تھا ، ہم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ، اسے دفن کیا اور پھر بیٹھ کر اپنے پروردگار کا ذکر کر رہے تھے اور آخرت کا ذکر کر رہے تھے اور اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ جس کی طرف ہم نے جانا ہے ، اس نے کہا: جس طرح باقی لوگ فرار ہوئے ہیں ، تم کیوں نہیں فرار ہوئے ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ، میں اس چیز سے لاتعلق ہوں اور میں امیر سے یہ اندیشہ نہیں رکھتا کہ مجھے فرار ہونا پڑے ، راوی کہتے ہیں : تو حکم خاموش ہو گیا ، عبدالملک بن مہلب جو اس کا کوتوال تھا ، اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے ؟ اس نے کہا: یہ کون ہے ؟ کوتوال نے کہا: یہ جمعہ کے دن کلام کرنے والا شخص ہے ، راوی کہتے ہیں : تو حکم غصے میں آ گیا اور اس نے کہا: تم تو بہت بدتمیز ہو ، اسے پکڑ لو ، راوی کہتے ہیں : پھر مجھے پکڑ لیا گیا ، انہوں نے مجھے چار سو کوڑے مارے ، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے مجھے کب چھوڑا ، اس کی وجہ تھی کہ انہوں نے جو میری پٹائی کی تھی ، اس کی تکلیف اتنی زیادہ تھی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر اس نے مجھے واسط بھجوا دیا اور میں حجاج کے مرنے تک حجاج کے قید خانے میں رہا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔