کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حکمرانوں کے سامنے حق کے مطابق بات چیت کرنا
حدیث نمبر: 12164
عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَفْضَلُ الْجِهَادِ أَنْ يُكَلَّمَ بِالْحَقِّ عِنْدَ سُلْطَانٍ " ، أَوْ قَالَ : " عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد یہ ہے کہ حاکم کے سامنے حق بات کی جائے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ظالم حکمران کے سامنے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3313)»
حدیث نمبر: 12165
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ وَنَهَاهُ فَقَتَلَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ شَخْصٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن تمام شہداء کے سردار ، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہوں گے اور وہ شخص ہو گا ، جو کسی ظالم کے سامنے کھڑا ہو اور اسے نیکی کا حکم دے یا برائی سے منع کرے اور وہ حکمران اُسے قتل کروا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ضعیف شخص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12165
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12166
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجِرَاحِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ بِمَعْرُوفٍ وَنَهَاهُ عَنْ مُنْكَرٍ فَقَتَلَهُ " . قِيلَ : فَأَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ عَذَابًا ؟ قَالَ : " رَجُلٌ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَ رَجُلًا أَمَرَهُ بِمَعْرُوفٍ وَنَهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ " . ثُمَّ قَرَأَ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ، قَتَلَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ ثَلَاثَةً وَأَرْبَعِينَ نَبِيًّا فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَقَامَ مِائَةُ رَجُلٍ وَاثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ عُبَّادِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ فَقُتِلُوا جَمِيعًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مِمَّنْ لَمْ أَعْرِفْهُ اثْنَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شہداء میں ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز کون ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص جو کسی ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہو اور اسے نیکی کا حکم دے یا اسے برائی سے منع کرے اور وہ حکمران اسے قتل کروا دے ، عرض کی گئی : لوگوں میں سب سے زیادہ شدید عذاب کسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جس نے کسی نبی کو شہید کیا ہو ، یا کسی ایسے شخص کو قتل کیا ہو ، جس نے اسے کسی نیکی کا حکم دیا ہو ، یا اسے برائی سے منع کیا ہو ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور وہ لوگ انبیاء کو ناحق طور پر قتل کر دیتے ہیں اور وہ ان لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں ، جو لوگوں میں سے انصاف کے مطابق حکم دیتے ہیں ، تو تم انہیں دردناک عذاب کی اطلاع دے دو ! “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوعبیدہ ! بنی اسرائیل نے تینتالیس انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک ہی وقت میں شہید کر دیا تھا اور بنی اسرائیل میں سے ایک سو بارہ افراد جو عبادت گزار تھے ، وہ اُٹھے انہوں نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا ، تو ان سب کو قتل کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12166
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3314)»