کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: لوگوں میں فساد کے وقت ، منکر سے منع کرنا
حدیث نمبر: 12159
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ عَلَى تَقِيَّةٍ مِنْ رَبِّكُمْ مَا لَمْ تَظْهَرْ فِيكُمْ سَكْرَتَانِ : سَكْرَةُ الْجَهْلِ وَسَكْرَةُ حُبِّ الْعَيْشِ ، وَأَنْتُمْ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَإِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ حُبُّ الدُّنْيَا فَلَا تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَا تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، الْقَائِلُونَ يَوْمَئِذٍ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ كَالسَّابِقِينَ الْأَوَّلِينَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنے پروردگار کی طرف سے بچاؤ کے عالم میں رہو گے ، جب تک تمہارے درمیان دو قسم کی کوتاہی ظاہر نہیں ہو گی ، جہالت کی کوتاہی اور زندگی کی محبت کی کوتاہی ، تم لوگ نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو گے ، لیکن جب تمہارے درمیان دنیا کی محبت ظاہر ہو جائے گی ، تو پھر تم نیکی کا حکم نہیں دو گے اور برائی سے منع نہیں کرو گے اور اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرو گے ، اس موقع پر کتاب و سنت کے مطابق کہنے والے لوگ ، مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے ” السابقون الاولون “ کی مانند ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن بشر ہے جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3312)»
حدیث نمبر: 12160
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِهَذَا الدِّينِ إِقْبَالًا وَإِدْبَارًا ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ إِقْبَالِ هَذَا الدِّينِ أَنْ تَفْقَهَ الْقَبِيلَةُ بِأَسْرِهَا حَتَّى لَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَاسِقُ أَوِ الْفَاسِقَانِ ذَلِيلَيْنِ ، فَهُمَا إِنْ تَكَلَّمَا قُهِرَا وَاضْطُهِدَا . وَإِنَّ مِنْ إِدْبَارِ هَذَا الدِّينِ أَنْ تَجْفُوَا الْقَبِيلَةُ بِأَسْرِهَا فَلَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَقِيهُ وَالْفَقِيهَانِ فَهُمَا ذَلِيلَانِ ، إِنْ تَكَلَّمَا قُهِرَا وَاضْطُهِدَا . وَيَلْعَنُ آخِرُ هَذَا الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا ، أَلَا وَعَلَيْهِمْ حَلَّتِ اللَّعْنَةُ حَتَّى يَشْرَبُوا الْخَمْرَ عَلَانِيَةً ، حَتَّى تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالْقَوْمِ فَيَقُومُ إِلَيْهَا بَعْضُهُمْ فَيَرْفَعُ بِذَيْلِهَا كَمَا يَرْفَعُ بِذَنَبِ النَّعْجَةِ ، فَقَائِلٌ يَقُولُ يَوْمَئِذٍ : أَلَا وَارَيْتَهَا وَرَاءَ هَذَا الْحَائِطِ ، فَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِيهِمْ مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِيكُمْ ، فَمَنْ أَمَرَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَلَهُ أَجْرُ خَمْسِينَ مِمَّنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَأَطَاعَنِي وَبَايَعَنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس دین کی ایک آمد ہے اور ایک رخصتی ہے ، خبردار ! اس دین کی آمد میں یہ بات شامل ہے کہ پورا قبیلہ دین کا علم حاصل کرے گا ، یہاں تک کہ ان میں ایک یا دو فاسق رہ جائیں گے جو دونوں کمتر ہوں گے اور وہ دونوں اگر بات چیت کریں گے ، تو دب کے کریں گے اور مجبور ہو کے کریں گے ، اور اس دین کی رخصتی میں یہ بات شامل ہے کہ پورے کا پورا قبیلہ زیادتی کرنے والا ہو گا ، ان میں ایک یا دو عالم ہوں گے اور وہ دونوں کمتر ہوں گے ، اگر وہ بات چیت کریں گے ، تو دب کر کریں گے اور مجبور ہو کر کریں گے اور اس امت کا آخری حصہ پہلے والوں پر لعنت کرے گا ، خبردار ! ان لوگوں پر لعنت حلال ہو جائے گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ علانیہ طور پر شراب پیئیں گے ، یہاں تک کہ کوئی عورت کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے گی ، تو ان لوگوں میں سے کوئی اُٹھ کر اس عورت کے پاس جائے گا اور اس کے دامن کو یوں اٹھائے گا ، جس طرح وہ بکری کی دم کو اٹھاتا ہے ، اس دن کوئی شخص یہ کہے : تم اسے اس دیوار کے پیچھے لے جاؤ ، تو ان لوگوں کے درمیان اس وقت اس شخص کی مثال وہی ہو گی ، جو تمہارے درمیان ابوبکر و عمر کی ہے ، اس وقت جو شخص نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا ، اُسے ان لوگوں میں سے پچاس افراد کی مانند اجر ملے گا ، جنہوں نے مجھے دیکھا ، مجھ پر ایمان لائے ، میری اطاعت کی اور میری بیعت کی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12160
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 12161
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے ، جنہیں اس امت کے پہلے لوگوں کے اجر کی مانند اجر دیا جائے گا ، یہ وہ لوگ ہوں گے جو منکر کو روکیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، عبدالرحمن نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12161
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف