کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرنا
حدیث نمبر: 12103
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِثْلًا بِمِثْلٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : " حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَاتَّبَعْتُمُوهُ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ؟ قَالَ : " فَمَنْ إِلَّا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى " ; وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم اپنے پہلے کے لوگوں کی بالکل برابر ضرور پیروی کرو گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تھے ، تو تم ان کی پیروی کرو گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ( پہلے لوگوں سے مراد ) یہودی اور عیسائی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ اور کون ہوں گے ؟ “ ۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان ہے جس نے ابوحازم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12103
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5943) اخرجه احمد فى المسند (340/5)»
حدیث نمبر: 12104
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيَحْمِلَنَّ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى سُنَنِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس اُمت کے برے لوگ ، اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی ضرور پیروی کریں گے ، جن پہلے لوگوں کا تعلق اہل کتاب سے تھا ، اور وہ یوں پیروی کریں گے ، جس طرح تیر کا ایک پر دوسرے کے برابر ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12104
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (125/5)»
حدیث نمبر: 12105
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ وَبَاعًا بِبَاعٍ ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ دَخَلَ جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ ، وَحَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ جَامَعَ أُمَّهُ لَفَعَلْتُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر ضرور عمل کرو گے ، جو بالشت در بالشت ، ذراع در ذراع ( درمیانی سب سے بڑی انگلی کے کنارے سے لے کر کہنی تک کی مقدار کو ” ذراع “ کہتے ہیں ) اور باع در باع ( دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ کی مقدار کو ” باع“ کہتے ہیں ) ہو گا ، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی ایک شخص گوہ کے بل میں داخل ہوا تھا ، تو تم بھی داخل ہو جاؤ گے ، یہاں تک کہ ان میں سے اگر کسی شخص نے اپنی ماں کے ساتھ صحبت کی تھی ، تو تم بھی ایسا کرو گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12105
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3285)»
حدیث نمبر: 12106
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتُمْ أَشْبَهُ الْأُمَمِ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ ، لَتَرْكَبُنَّ طَرِيقَهُمْ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ ، حَتَّى لَا يَكُونَ فِيهِمْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ فِيكُمْ مِثْلُهُ ، حَتَّى أَنَّ الْقَوْمَ لَتَمُرُّ عَلَيْهِمُ الْمَرْأَةُ فَيَقُومُ إِلَيْهَا بَعْضُهُمْ فَيُجَامِعُهَا ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ إلَيهِمْ وَيَضْحَكُونَ إِلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ بنی اسرائیل کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والی امت ہو ، اور تم ان کے طریقوں پر یوں عمل کرو گے ، جس طرح تیر کا ایک پر دوسرے کے برابر ہوتا ہے ، یہاں تک کہ ان میں جو چیز بھی تھی ، وہ تمہارے درمیان بھی اس کی مانند ہو گی ، یہاں تک کہ کچھ لوگوں کے پاس سے ایک عورت گزرے گی ، تو ان لوگوں میں سے ایک شخص اُٹھ کر اس عورت کے پاس جائے گا اور اس کے ساتھ صحبت کرے گا ، اور پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آ جائے گا ، وہ شخص انہیں دیکھ کے ہنس رہا ہو گا اور وہ لوگ اُسے دیکھ کے ہنس رہے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12106
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9882)»
حدیث نمبر: 12107
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَتْرُكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ شَيْئًا مِنْ سُنَنِ الْأَوَّلِينَ حَتَّى تَأْتِيَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ امت پہلے والے لوگوں کے ہر ایک طریقے پر عمل کرے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (315)»