کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ( اس امت کا ) مختلف گروہوں مین تقسیم ہونا اور پہلے ( کے امتوں ) کے طریقوں کی پیروی کرنا
حدیث نمبر: 12095
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ذُكِرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهُ نِكَايَةٌ فِي الْعَدُوِّ وَاجْتِهَادٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَعْرِفُ هَذَا " . قَالَ : بَلْ نَعْتُهُ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : " مَا أَعْرِفُهُ " . فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : هُوَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَا كُنْتُ أَعْرِفُ هَذَا ، هَذَا أَوَّلُ قَرْنٍ رَأَيْتُهُ فِي أُمَّتِي ، إِنَّ فِيهِ لَسَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ " . فَلَمَّا دَنَا الرَّجُلُ سَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، هَلْ حَدَّثْتَ نَفْسُكَ حِينَ طَلَعْتَ عَلَيْنَا أَنْ لَيْسَ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ : فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأَبِي بَكْرٍ : " قُمْ فَاقْتُلْهُ " . فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ ، فَوَجَدَهُ قَائِمًا يُصَلِّي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي نَفْسِهِ : إِنَّ لِلصَّلَاةِ حُرْمَةً وَحَقًّا ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَأْمَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَجَاءَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَتَلْتَهُ ؟ " . قَالَ : لَا ، رَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي ، وَرَأَيْتُ لِلصَّلَاةِ حُرْمَةً وَحَقًّا ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَقْتُلَهُ قَتَلْتُهُ ؟ قَالَ : " لَسْتَ بِصَاحِبِهِ ، اذْهَبْ أَنْتَ يَا عُمَرُ فَاقْتُلْهُ " . فَدَخَلَ عُمَرُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ ، فَانْتَظَرَهُ طَوِيلًا ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ : إِنَّ لِلسُّجُودِ حَقًّا ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَأْمَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِ اسْتَأْمَرَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي . فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَقَتَلْتَهُ ؟ " . قَالَ : لَا ، رَأَيْتُهُ سَاجِدًا ، وَرَأَيْتُ لِلسُّجُودِ حَقًّا ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَقْتُلَهُ قَتَلْتُهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَسْتَ بِصَاحِبِهِ ، قُمْ يَا عَلِيُّ أَنْتَ صَاحِبُهُ إِنْ وَجَدْتَهُ " . فَدَخَلَ ، فَوَجَدَهُ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَقَتَلْتَهُ ؟ " . قَالَ : لَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قُتِلَ مَا اخْتَلَفَ رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ " . ¤ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْأُمَمِ فَقَالَ : " تَفَرَّقَتْ أُمَّةُ مُوسَى عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، سَبْعُونَ مِنْهَا فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ . وَتَفَرَّقَتْ أُمَّةُ عِيسَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، إِحْدَى وَسَبْعُونَ مِنْهَا فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَتَعْلُو أُمَّتِي عَلَى الْفِرْقَتَيْنِ جَمِيعًا بِمِلَّةٍ ، اثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجَمَاعَاتُ " . ¤ قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ : وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَا مِنْهُ قُرْآنًا وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ ¤ ثُمَّ ذَكَرَ أُمَّةَ عِيسَى فَقَالَ : وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ ¤ ثُمَّ ذَكَرَ أُمَّتَنَا فَقَالَ : وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي قِتَالِ الْخَوَارِجِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا ، جو عبادت و ریاضت میں بڑا اہتمام کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اسے نہیں پہچانا ، راوی نے عرض کی : اس کا حلیہ اس اس طرح کا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اسے نہیں پہچانا ، راوی بیان کرتے ہیں ، اسی دوران وہ شخص سامنے آ گیا ، تو راوی نے کہا: یہ وہ شخص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اسے نہیں پہچانا تھا ، یہ وہ پہلا سینگ ہے ، جسے میں اپنی امت میں دیکھ رہا ہوں اور اس میں شیطان کا داغ موجود ہے ، جب وہ شخص قریب آیا تو اس نے سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : جب تم ہمارے سامنے آئے تھے ، تو کیا تم نے من میں یہ سوچا تھا کہ ان سب لوگوں میں کوئی بھی تم سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ؟ اس نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے جی ہاں ! ۔ پھر وہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز ادا کرنا شروع کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اٹھو اور اسے قتل کر دو ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر گئے ، انہوں نے اس شخص کو کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے پایا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دل میں سوچا کہ نماز کی ایک مخصوص حرمت اور حق ہے ، اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ اس بارے میں معلوم کر لوں تو یہ مناسب ہو گا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا تم نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا ، تو میں نے یہ سوچا کہ نماز کی حرمت اور مخصوص حق ہوتا ہے ، اگر آپ یہ چاہیں کہ میں اسے قتل کر دوں ، تو میں اسے قتل کر دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے متعلقہ فرد نہیں ہو ، اے عمر ! تم جاؤ اور اسے قتل کر دو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ، تو وہ شخص سجدے کی حالت میں تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا خاصی دیر انتظار کیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے من میں سوچا کہ سجدے کا مخصوص حق ہوتا ہے ، اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ اس بارے میں معلوم کر لوں تو یہ مناسب ہو گا ، کیونکہ ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ معلوم کیا تھا ، جو مجھ سے بہتر ہیں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! میں نے اسے سجدے کی حالت میں دیکھا ، تو میں نے یہ سوچا کہ سجدے کا مخصوص حق ہوتا ہے ، لیکن اگر آپ چاہیں کہ میں اسے قتل کر دوں ، تو میں اسے قتل کر دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے متعلقہ فرد نہیں ہو ، اے علی ! تم اس کے متعلقہ فرد ہو ، اگر تم نے اسے پا لیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے ، تو انہوں نے اس شخص کو پایا کہ وہ مسجد سے جا چکا تھا ، وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر شخص قتل ہو جاتا تو دجال کے نکلنے تک میری امت کے دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہیں کرنا تھا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اُمتوں کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی امت اکہتر گروہوں میں تقسیم ہو گئی تھی ، جن میں سے ستر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت بہتر گروہوں میں تقسیم ہو گئی تھی ، جن میں سے اکہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت ان دونوں گروہوں پر ایک فرقے کے حوالے سے غالب ہو گی ، ان میں سے بہتّر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ ( یعنی جنت میں جانے والے ) کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جماعت ۔ یعقوب بن زید بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے تھے ، تو اُس کے ساتھ قرآن کی یہ آیت بھی تلاوت کرتے تھے : ” اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسا تھا جو حق کے مطابق رہنمائی کرتا تھا اور اس کے مطابق فیصلے کرتا تھا ۔ “ پھر جب انہوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت کا ذکر کیا ، تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور اگر اہل کتاب ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ) ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے ، تو ہم نے ان سے ان کے گناہ دور کر دینے تھے اور انہیں نعمتوں والی جنت میں داخل کر دینا تھا ۔ “ پھر جب انہوں نے ہماری اُمت کا ذکر کیا تو یہ آیت تلاوت کی : ” اور جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے ان میں ایک گروہ ایسا ہے ، جو حق کے مطابق رہنمائی کرتے ہیں اور اس ( حق ) کے مطابق عدل ( یا فیصلے ) کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے خوارج کے ساتھ جنگ کرنے سے متعلق باب میں ، اس حدیث کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12095
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12096
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَفَرَّقَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَأُمَّتِي تَزِيدُ عَلَيْهِمْ فِرْقَةً ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ أَبُو غَالِبٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بنی اسرائیل ( یعنی یہودی ) اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور عیسائی بہتّر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے ، اور میری امت ایک فرقے کے حوالے سے اُن سے زائد ہو گی ، وہ سب جہنم میں جائیں گے ، صرف سواد اعظم کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوغالب ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کی حالت بھی اسی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12096
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8035 و 8051 و 8052 و 8053 و 8054)»
حدیث نمبر: 12097
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْتَرَقَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، وَلَنْ تَذْهَبَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامُ حَتَّى تَفْتَرِقَ أُمَّتِي عَلَى مِثْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بنی اسرائیل اکہتر گروہوں میں تقسیم ہوئے تھے ، اور رات اور دن اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے ، جب تک میری امت بھی اتنے حصوں میں تقسیم نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12097
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3284)»
حدیث نمبر: 12098
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ فِي أُمَّتِي نَيِّفًا وَسَبْعِينَ دَاعِيًا ، كُلُّهُمْ دَاعٍ إِلَى النَّارِ ، لَوْ أَشَاءُ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں ستر سے زیادہ داعی ہوں گے ، وہ سب جہنم کی طرف دعوت دینے والے ہوں گے ، اگر میں چاہوں تو تمہیں ان کے آباء و اجداد اور قبائل کے نام بھی بیان کر سکتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12098
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12099
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي أُمَامَةَ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالُوا : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَمَارَى فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدِّينِ ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ ، ثُمَّ انْتَهَرَنَا فَقَالَ : " مَهْلًا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِهَذَا . ذَرُوا الْمِرَاءَ لِقِلَّةِ خَيْرِهِ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُمَارِي ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُمَارِيَ قَدْ نَمَتْ خَسَارَتُهُ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ ، فَكَفَاكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُمَارِيًا ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُمَارِيَّ لَا أَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَأَنَا زَعِيمٌ بِثَلَاثَةِ أَبْيَاتٍ فِي الْجَنَّةِ فِي رِبَاضِهَا وَوَسَطِهَا وَأَعْلَاهَا لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ صَادِقٌ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ مَا نَهَانِي عَنْهُ رَبِّي بَعْدَ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ الْمِرَاءُ وَشُرْبُ الْخَمْرِ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ ، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِالتَّحْرِيشِ ، وَهُوَ الْمِرَاءُ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ ، فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَالنَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، كُلُّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ إِلَّا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ السَّوَادُ الْأَعْظَمُ ؟ قَالَ : " مَنْ كَانَ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ أَنَا وَأَصْحَابِي ، مَنْ لَمْ يُمَارِ فِي دِينِ اللَّهِ ، وَمَنْ لَمْ يُكَفِّرْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ غُفِرَ لَهُ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ ، وَلَا يُمَارُونَ فِي دِينِ اللَّهِ ، وَلَا يُكَفِّرُونَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ الْمِرَاءِ فِي الْعِلْمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء ، سیدنا ابوامامہ ، سیدنا واثلہ بن اسقع اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں : ” ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم کسی دینی معاملے کے بارے میں بحث کر رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید غصے میں آ گئے ، آپ اس طرح پہلے کبھی اتنے غصے میں نہیں آئے تھے ، پھر آپ نے ہمیں جھڑکتے ہوئے ارشاد فرمایا : رک جاؤ ! اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت ! تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ اس میں بھلائی کم ہے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ مومن بحث نہیں کرتا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ بحث کرنے والے کا خسارہ بڑھتا رہتا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ تمہارے گنہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم مسلسل بحث کرتے رہو ، بحث کو چھوڑ دو کیونکہ مسلسل بحث کرنے والے شخص کی ، قیامت کے دن میں شفاعت نہیں کروں گا ، بحث کو چھوڑ دو کیونکہ میں ، جنت میں تین مقامات پر گھر ملنے کی ضمانت دوں گا ، اس کے اطراف والے حصے میں ، اس کے درمیانی حصے میں اور اس کے بالائی حصے میں ( یہ ضمانت ، میں ) اُس شخص کو دوں گا ، جو بحث کو ترک کر دے گا ، جبکہ وہ سچا ہو ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ میرے پروردگار نے بتوں کی عبادت اور شراب نوشی کے بعد ، جس پہلی چیز سے مجھے منع کیا ہے ، وہ بحث کرنا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ، لیکن وہ تمہارے باہمی اختلاف سے بھی راضی ہو جائے گا ، اور وہ باہمی اختلاف بحث کی صورت میں ہوتا ہے ، تم بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور عیسائی بہتّر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے ، سواد اعظم کے علاوہ وہ سب گمراہی پر ہوں گے ۔ ( مطبوعہ نسخے میں
یہ روایت اسی طرح ہے ، لیکن شاید کسی کے سہو کی وجہ سے کچھ عبارت نقل ہونے سے رہ گئی ہے ، کیونکہ سواد اعظم والے کلمات تو امت محمدیہ کے بارے میں ہیں ) ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سواد اعظم کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ ( لوگ ) جو اُس چیز پر گامزن ہوں ، جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں ، وہ شخص جو اللہ کے دین کے بارے میں بحث نہیں کرتا اور گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اہل توحید میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا ، اس شخص کی مغفرت ہو جائے گی ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا ، اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب الوطن لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو لوگوں کی خرابی کے وقت ٹھیک رہیں اور اللہ کے دین کے بارے میں بحث مباحثہ نہ کریں ، اور اہل توحید میں سے کسی کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہ دیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کتاب العلم میں بحث کرنے سے متعلق کچھ روایات گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12099
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 12100
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدٍ بِالْمَدِينَةِ ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالْوَحْيِ ، فَتَغَشَّى رِدَاءَهُ ، فَمَكَثَ طَوِيلًا حَتَّى سُرِّيَ عَنْهُ ، ثُمَّ كَشَفَ رِدَاءَهُ فَإِذَا هُوَ يَعْرَقُ عَرَقًا شَدِيدًا وَإِذَا هُوَ قَابِضٌ عَلَى شَيْءٍ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يَعْرِفُ مَا يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ ؟ " . قُلْنَا : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِآبَائِنَا أَنْتَ وَأُمَّهَاتِنَا ، لَيْسَ شَيْءٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ إِلَّا نَحْنُ نَعْرِفُهُ ، نَحْنُ أَصْحَابُ نَخْلٍ . ثُمَّ فَتَحَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا نَوًى ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَوًى . فَقَالَ : " نَوَى أَيِّ شَيْءٍ ؟ " . قَالُوا : نَوَى سَنَةٍ . قَالَ : " صَدَقْتُمْ ، جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَتَعَاهَدُ دِينَكُمْ ، لَتَسْلُكُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلِكُمْ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ ، وَلَتَأْخُذُنَّ بِمِثْلِ أَخْذِهِمْ إِنْ شِبْرًا فَشِبْرٌ وَإِنْ ذِرَاعًا فَذِرَاعٌ وَإِنْ بَاعًا فَبَاعٌ ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ دَخَلْتُمْ فِيهِ . أَلَا إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقَتْ عَلَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - سَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا ضَالَّةٌ إِلَّا فِرْقَةً وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ . ثُمَّ إِنَّهَا افْتَرَقَتْ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا ضَالَّةٌ إِلَّا وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ . ثُمَّ إِنَّكُمْ تَكُونُونَ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ لَهُ حَدِيثًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم مدینہ منورہ میں ، مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر اوڑھ لی ، آپ خاصی دیر تک ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی اور آپ نے چادر ہٹائی تو آپ کو بہت زیادہ پسینہ آ چکا تھا اور آپ نے کوئی چیز مٹھی میں لی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کون شخص اس چیز کو جانتا ہے جو کھجور کے درخت سے نکلتی ہے ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کھجوروں میں سے جو چیز بھی نکلتی ہے ، ہم اس سے واقف ہیں ، کیونکہ ہم کھجوروں کا کام کرتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک کھولا تو اس میں گٹھلی موجود تھی ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گٹھلی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کسی چیز کی گٹھلی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : قحط سالی کے دنوں کی گٹھلی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک کہا: ہے ، ابھی جبرائیل آئے اور وہ تمہارے دین کے بارے میں بیان کر رہے تھے کہ تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر ضرور چلو گے ، جس طرح ایک جوتا ، دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے ، اور تم ان چیزوں کو ضرور اختیار کرو گے ، جنہیں ان لوگوں نے اختیار کیا تھا ، بالشت در بالشت ، ذراع در ذراع ( درمیانی سب سے بڑی انگلی کے کنارے سے لے کر کہنی تک کی مقدار کو ” ذراع “ کہتے ہیں ) اور باغ در باغ ( دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ کی مقدار کو ” باع“ کہتے ہیں ) یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تھے ، تو تم لوگ بھی اُس میں داخل ہو جاؤ گے ، البتہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بعد ستر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے ، وہ تمام فرقے گمراہ تھے ، صرف ایک فرقے کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ اسلام اور اس کی جماعت تھے ، پھر عیسائی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اکہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے ، سب فرقے گمراہ تھے ، صرف ایک کا معاملہ مختلف تھا ، اور وہ اسلام اور ان کی جماعت تھا ، اور تم لوگ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو جاؤ گے ، سب جہنم میں جائیں گے ، صرف ایک فرقے کا معاملہ مختلف ہے ، وہ اسلام اور ان لوگوں کی جماعت ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام ترمذی نے اسے حسن الحدیث قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12100
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13/17)»
حدیث نمبر: 12101
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ - قَالَهَا ثَلَاثًا - . قَالَ : " تَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ " . قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " فَإِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ أَفْضَلُهُمْ عَمَلًا إِذَا فَقِهُوا فِي دِينِهِمْ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " تَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ ؟ " . قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ ، وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي الْعَمَلِ ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى اسْتِهِ زَحْفًا . وَاخْتَلَفَ مَنْ كَانَ قَبْلِي عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، نَجَا مِنْهَا ثَلَاثَةٌ وَهَلَكَ سَائِرُهُنَّ ، فِرْقَةٌ وَازَتِ الْمُلُوكَ وَقَاتَلُوهُمْ عَلَى دِينِهِمْ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، وَأَخَذُوهُمْ وَقَتَلُوهُمْ وَقَطَّعُوهُمْ بِالْمَنَاشِيرِ . وَفِرْقَةٌ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ طَاقَةٌ بِمُوَازَاةِ الْمُلُوكِ وَلَا بِأَنْ يُقِيمُوا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَيَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَسَاحُوا فِي الْبِلَادِ وَتَرَهَّبُوا " . قَالَ : " وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : " رَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ " الْآيَةَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَاتَّبَعَنِي فَقَدْ رَعَاهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ، وَمَنْ لَمْ يَتَّبِعْنِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ " ،
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ دریافت کی : پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا کون ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا شخص وہ ہے ، جو عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ، جبکہ وہ لوگ دین کا علم رکھتے ہوں ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا شخص اور حق کے بارے میں ان میں سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والا شخص وہ ہے ، جو لوگوں کے اختلاف کے وقت ایسا کرتا ہوا ، اگرچہ اس کے عمل میں کمی پائی جاتی ہو ، اگرچہ وہ سرین کے بل گھسٹ کر چلتا ہو ، مجھ سے پہلے کے لوگ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے ، ان میں سے تین نے نجات پائی تھی اور باقی سب ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے ( وہ تین فرقے یہ تھے : ) ایک گروہ ، وہ تھا کہ جس نے بادشاہوں کے خلاف بغاوت کی اور اپنے دین اور سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کے حوالے سے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی ، بادشاہوں نے انہیں پکڑا اور انہیں قتل کر دیا اور آروں کے ذریعے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ، ان میں سے ایک ( یعنی دوسرا ) گروہ وہ تھا ، جو بادشاہوں کے خلاف لڑنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا اور وہ ان کے درمیان ٹھہر بھی نہیں سکتا تھا ، وہ لوگوں کو اللہ کی طرف اور سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی طرف دعوت دیتے تھے وہ مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور انہوں نے رہبانیت اختیار کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہی لوگ ہیں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اور رہبانیت کا آغاز ، انہوں نے کیا تھا ، یہ ہم نے ان پر لازم قرار نہیں دی تھی اور انہوں نے اُسے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کے لئے اختیار کیا تھا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص مجھ پر ایمان لائے ، میری تصدیق کرے ، میری پیروی کرے ، تو اُس نے رہبانیت کا حقیقی خیال رکھا اور جس نے میری پیروی نہیں کی ، تو وہی لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہوں گے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12101
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10357)»
حدیث نمبر: 12102
وَفِي رِوَايَةٍ : " فِرْقَةٌ أَقَامَتْ فِي الْمُلُوكِ وَالْجَبَابِرَةِ فَدَعَتْ إِلَى دِينِ عِيسَى ، فَأُخِذَتْ وَقُتِلَتْ بِالْمَنَاشِيرِ وَحُرِّقَتْ بِالنِّيرَانِ ، فَصَبَرَتْ حَتَّى لَحِقَتْ بِاللَّهِ " ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ایک گروہ بادشاہوں اور ظالم لوگوں کے درمیان مقیم ہوا ، اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دین کی طرف دعوت دینے لگا ، اُن لوگوں کو پکڑا گیا اور آروں کے ذریعے کاٹ دیا گیا اور آگ میں جلا دیا گیا ، تو ان لوگوں نے صبر سے کام لیا ، یہاں تک کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بکیر بن معروف کا معاملہ مختلف ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12102
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10531)»