کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یا وہ تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور تم ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے لگو “۔
حدیث نمبر: 11964
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ : جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ - قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الْأَنْصَارِ - فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِكُمْ هَذَا ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَأَشَارَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ ، قَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَأَخْبِرْنِي بِهِنَّ . فَقُلْتُ : دَعَا " بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ ، وَأَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ " . فَأُعْطِيهِمَا . وَدَعَا " بِأَنْ لَا يُجْعَلَ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ" . فَمُنِعَهَا . قَالَ : صَدَقْتَ . فَلَا يَزَالُ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس بنو معاویہ کے علاقے میں آئے ، راوی کہتے ہیں : یہ انصار کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اس مسجد میں کہاں نماز ادا کی تھی ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر میں نے مسجد کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں جو دعا مانگی تھی ، اس میں وہ تین چیزیں کیا تھیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : تم مجھے ان کے بارے میں بتاؤ ! میں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر ان کے دشمن کو غلبہ عطا نہ کرے ، اور انہیں قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، تو یہ دونوں چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کر دی گئیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ وہ لوگ ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچائیں ، تو یہ چیز قبول نہیں ہوئی ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا: ہے ، اور قیامت کے دن تک مسلسل ( مسلمانوں کے درمیان باہمی طور پر ) قتل و غارت گری ہوتی رہے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11965
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا [ وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا ] ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَبْيَضَ وَالْأَحْمَرَ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَيُهْلِكَهُمْ بِعَامَّةٍ ، وَأَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا ، وَأَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ . فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً [ فَإِنَّهُ ] لَا يُرَدُّ ، وَإِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ ، وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا [ مِمْنَ سِوَاهُمْ ] فَيُهْلِكُوهُمْ بِعَامَّةٍ حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا " . قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَا يُرْفَعُ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو لپیٹ دیا ، تو میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا ، اور زمین کا جتنا حصہ میرے لئے لپیٹا گیا تھا ، میری اُمت کی حکومت عنقریب وہاں تک پہنچ جائے گی ، مجھے سفید اور سرخ دو قسم کے خزانے عطا کیے گئے ، میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا کی : وہ میری امت کو عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، اور وہ ان لوگوں پر ان کے دشمن کو یوں مسلط نہ کرے کہ وہ لوگ عمومی طور پر ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، اور وہ انہیں باہمی اختلاف کا شکار نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ، تو پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! جب میں کوئی فیصلہ دے دوں ، تو اُسے ختم نہیں کیا جا سکتا ، میں نے تمہیں تمہاری امت کے حوالے سے یہ چیز دیدی ہے کہ میں عمومی قحط کے ذریعے انہیں ہلاک نہیں کروں گا اور میں ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہیں کروں گا کہ وہ دشمن انہیں عمومی طور پر ہلاک کر دے ، البتہ وہ لوگ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے بارے میں اندیشہ ہے ، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی ، تو وہ قیامت کے دن تک اُن سے نہیں اُٹھائی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11966
وَعَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْبَعًا ، فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً . سَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ كَمَا أَهْلَكَ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” میں نے اپنے پروردگار سے چار چیزیں مانگی تھیں ، اس نے تین چیزیں مجھے عطا کر دیں اور ایک عطا نہیں کی ، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ میری امت گمراہی پر اکٹھی نہ ہو ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ مجھے ( یعنی میری امت کو ) قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، جس طرح اس نے ان سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کیا تھا ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان لوگوں پر ( یعنی میری امت پر ) ان کے دشمن کو غلبہ عطا نہ کرے ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، اور میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ انہیں گروہوں میں یوں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا نہیں کی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11967
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَرْبَعَ خِلَالٍ فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً . سَأَلْتُهُ أَنْ لَا تَكْفُرَ أُمَّتِي صَفْقَةً وَاحِدَةً فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ بِمَا عَذَّبَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لئے چار چیزیں مانگیں ، تو اس نے مجھے تین چیزیں عطا کر دیں اور ایک چیز سے منع کر دیا ، میں نے اس سے یہ بات مانگی کہ میری امت عمومی طور پر کفر کا شکار نہ ہو ، تو اس نے یہ چیز مجھے عطا کر دی ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان پر ان کے دشمن کو مسلط نہ کرے ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان لوگوں کو ایسے عذاب کا شکار نہ کرے ، جو عذاب اس نے ان سے پہلے کی امتوں کو دیا تھا ، تو اس نے یہ چیز مجھے عطا کر دی ، اور میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان کے درمیان اختلافات پیدا نہ کرے ، تو اُس نے اس حوالے سے مجھے منع کر دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزیں مانگیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزیں مانگیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
حدیث نمبر: 11968
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً . سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى أُمَّتِي عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَقْتُلَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنے پروردگار سے دو چیزیں مانگیں ، تو اس نے دو چیزیں مجھے عطا کر دیں ، اور ایک سے منع کر دیا ، میں نے اس سے یہ بات مانگی کہ وہ میری امت پر ان کے دشمن کو مسلط نہ کرے ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، میں اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ انہیں گروہوں میں تقسیم نہ کرے ، تو اس نے مجھے انکار کر دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11969
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً . قُلْتُ : يَا رَبِّ لَا تُهْلِكْ أُمَّتِي جُوعًا ، قَالَ : هَذِهِ لَكَ . قُلْتُ : يَا رَبِّ لَا تُسَلِّطْ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ - يَعْنِي أَهْلَ الشِّرْكِ - فَيَجْتَاحُهُمْ . قَالَ : لَكَ ذَلِكَ . قُلْتُ : يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ ، فَمَنَعَنِي هَذِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو حُذَيْفَةَ الثَّعْلَبِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لئے تین چیزیں مانگیں ، تو اس نے مجھے دو چیزیں عطا کر دیں اور ایک کے حوالے سے مجھے منع کر دیا ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو میری امت کو بھوک کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرنا ، تو اس نے فرمایا : یہ چیز تمہیں ملی ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو ان پر ان کے دشمن کو مسلط نہ کرنا ، جو ان کے علاوہ ہو ( یعنی اس کا تعلق مشرکین سے ہو ) کہ وہ انہیں جڑ سے ختم کر دے ، تو پروردگار نے فرمایا : یہ چیز تمہیں مل گئی ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو ان کے درمیان قتل و غارت گری پیدا نہ کرنا ، تو اس نے مجھے اس حوالے سے منع کر دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحذیفہ ثعلبی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحذیفہ ثعلبی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11970
وَعَنْ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ : سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ثَلَاثًا ، فَأُعْطِيَ اثْنَتَيْنِ ، وَمَنَعَهُ وَاحِدَةً . سَأَلَهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتَهُ جُوعًا ، وَأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا ، فَأُعْطِيهِمَا ، وَسَأَلَهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ ، فَمُنِعَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنو معاویہ میں تین چیزیں مانگیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزیں دیدی گئیں اور ایک چیز سے منع کر دیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو بھوک کے ذریعے ہلاک نہ کرے ، اور یہ کہ وہ ان پر دشمن کو مسلط نہ کرے ، تو یہ دونوں چیزیں آپ کو دیدی گئیں ، آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان کے درمیان قتل و غارت گری نہ رکھے ، تو اس چیز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11971
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا ، وَلَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ، فَأَبَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی کہ وہ ان کی امت کو مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ، تو پروردگار نے انکار کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
حدیث نمبر: 11972
وَعَنْ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ صَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً تَامَّةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَجَلَسَ يَوْمًا فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ : أَنِ اسْكُتُوا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوحَى إِلَيْهِ . فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَطَلْتَ الْجُلُوسَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ ، سَأَلْتُ اللَّهَ فِيهَا ثَلَاثًا ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً . سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُعَذِّبَكُمْ بِعَذَابٍ عَذَّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى عَامَّتِكُمْ عَدُوًّا يَسْتَبِيحُكُمْ ، فَأَعْطَانِيهِمَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا ، وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ، فَمَنَعَنِيهَا " ¤ قُلْتُ لَهُ : أَبُوكَ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ الْعَشَرِ الْأَصَابِعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
نافع بن خالد خزاعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرتے تھے اور لوگ آپ کے اردگرد ہوتے تھے ، تو آپ مختصر نماز ادا کرتے تھے ، جس کے رکوع اور سجود مکمل ہوتے تھے ، ایک دن آپ نے نماز ادا کرتے ہوئے طویل سجدہ کیا ، یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کیا کہ تم لوگ خاموش رہو ! شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نازل ہو رہی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو حاضرین میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ ! آج آپ کافی دیر تک بیٹھے رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ایک ایسی نماز تھی ، جس میں رغبت بھی تھی اور خوف بھی تھا ، میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں تو اس نے دو چیزیں مجھے عطا کر دیں اور ایک چیز کے حوالے سے مجھے منع کر دیا ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ تم لوگوں کو ایسے عذاب کا شکار نہ کرے ، جیسا عذاب اس نے تم سے پہلے لوگوں کو دیا تھا ، اور میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ تمہارے اوپر عمومی طور پر دشمن کو مسلط نہ کرے کہ وہ ( میری امت کو ) مکمل طور پر ختم کر دے ، تو اس نے یہ دونوں چیزیں مجھے عطا کر دیں ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ، تو اُس نے اس چیز کے حوالے سے مجھے انکار کر دیا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے اُن سے دریافت کیا : کیا آپ کے والد نے خود یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اور میں نے انہیں یہ بھی کہتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی مرتبہ سنی ہے ، جتنی ان کے انگلیوں کی تعداد ہے ، یعنی دس مرتبہ سنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، نافع بن خالد کا معاملہ مختلف ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے اور کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ،
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، نافع بن خالد کا معاملہ مختلف ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے اور کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ،
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔