حدیث نمبر: 11830
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْبِضَ عَبْدًا بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ بِهَا حَاجَةً وَلَا تَنْتَهِي حَتَّى يَقْدَمَهَا " ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ سُورَةِ لُقْمَانَ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ، حَتَّى خَتَمَهَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ صُهَيْبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَاتُّهِمَ بِالْوَضْعِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ . ¤
محمد محی الدین

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی سرزمین پر کسی بندے کی روح قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو اس بندے کے لئے اس علاقے میں کوئی کام بنا دیتا ہے ، اور آخرکار بندہ اس علاقہ تک پہنچ جاتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت لقمان کے آخر میں موجود یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور رحم میں جو کچھ ہے ، وہ اُس کے بارے میں جانتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوری آیت تلاوت کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ غیب کی کنجیاں ہیں ، جنہیں صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن صہیب ہے اور وہ متروک ہے ، اس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے ، امام ابوداؤد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11830
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً