مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ : لَا يَمُوتُ عَبْدٌ حَتَّى يَبْلُغَ أَقْصَى أَثَرِهِ . باب: آدمی اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک اپنے عمل کی آخری حد تک نہیں پہنچ جاتا
حدیث نمبر: 11831
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا جُعِلَتْ مَنِيَّةُ عَبْدٍ بِأَرْضٍ إِلَّا جُعِلَ لَهُ فِيهَا حَاجَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ فِي دَفْنِ كُلِّ مَيِّتٍ فِي التُّرْبَةِ الَّتِي خُلِقَ مِنْهَا . ¤محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی بندے کی موت ، کسی مخصوص سرزمین پر آنی ہو ، تو اس بندے کے لئے اُس جگہ پر کوئی کام بنا دیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الجنائز میں گزر چکی ہے ، جن میں یہ بات مذکور ہے کہ ہر میت کو اسی مٹی میں دفن کیا جاتا ہے ، جس مٹی سے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔