عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَخَذَ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِنُعْمَانَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا ، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قُبُلًا ، قَالَ : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ قَالُوا : بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ ، أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ شَيْءٌ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي سُورَةِ الْأَعْرَافِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی ( پشت میں موجود ) لوگوں سے نعمان کے مقام پر عہد لیا ( راوی کہتے ہیں اس سے مراد عرفہ کا مقام ہے ) اللہ تعالیٰ نے اُن کی پشت میں سے اُن کی ساری ذریت کو نکالا اور انہیں ان کے سامنے پھیلا دیا ، پھر ان کے ساتھ براہ راست بات چیت کی اور فرمایا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ( پروردگار نے فرمایا : ) ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن یہ کہو کہ ہم اس چیز سے غافل تھے ، یا تم یہ کہو کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اس سے پہلے شرک کیا تھا ، تو ہم ان کے بعد آنے والی اُن کی اولاد ہیں ، تو کیا تو ہمیں ان لوگوں کے عمل کی وجہ سے ہلاکت کا شکار کرے گا ، جو باطل لوگوں نے کام کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس نوعیت کی ایک روایت سورت اعراف کی تفسیر میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11793
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ ، وَأَخَذَ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ، فَأَخَذَ أَهْلَ الْيَمِينِ بِيَمِينِهِ ، وَأَخَذَ أَهْلَ الشَّقَاءِ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ، وَكِلْتَا يَدَيِ الرَّحْمَنِ يَمِينٌ ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ الْيَمِينِ ، قَالُوا : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى ، ثُمَّ خَلَطَ بَيْنَهُمْ ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : رَبِّ لِمَ خَلَطْتَ بَيْنَنَا ؟ فَقَالَ : لَهُمْ أَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذَلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ ، أَنْ يَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ ، أَوْ يَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ فَخَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ ، وَأَخَذَ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ، فَأَهْلُ الْجَنَّةِ أَهْلُهَا ، وَأَهْلُ النَّارِ أَهْلُهَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " يَعْمَلُ كُلُّ قَوْمٍ لِمَا خُلِقُوا لَهُ ، أَهْلُ الْجَنَّةِ يَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَهْلُ النَّارِ يَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أَعْمَالَنَا هَذِهِ أَشَيْءٌ نَبْتَدِعُهُ أَوْ شَيْءٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " ، قَالَ : الْآنَ نَجْتَهِدُ فِي الْعِبَادَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ سَالِمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَزَادَ فِيهِ أَيْضًا " فَقَالَ : يَا أَهْلَ الشِّمَالِ قَالُوا : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ قَالَ : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ قَالُوا : بَلَى " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور فیصلہ طے کیا ، اُس نے انبیاء کرام سے عہد لیا ، اس کا عرش پانی پر تھا ، اس نے خوش نصیب لوگوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا ، اور بدنصیب لوگوں کو بائیں ہاتھ میں رکھا ، ویسے رحمن کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں ، پھر اس نے فرمایا : اے دائیں والوں ! انہوں نے عرض کی : ہم حاضر ہیں اور سعادت مندی تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے ، پروردگار نے فرمایا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ملا دیا : ان میں سے کسی نے کہا: اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں ملا کیوں دیا ہے ؟ تو پروردگار نے فرمایا : ان لوگوں کے اعمال اس سے کم ہوں گے اور وہ اس پر عمل کر کے رہیں گے ، ایسا نہ ہو کہ وہ قیامت کے دن یہ کہیں : ہم اس سے غافل تھے ، یا وہ یہ کہیں : ہمارے آباؤ اجداد نے اس سے پہلے شرک کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد آنے والی ان کی اولاد ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور فیصلہ طے کر دیا اور انبیاء کرام سے عہد لے لیا ، جبکہ اُس کا عرش پانی پر تھا تو اہل جنت اس کے اہل ہیں اور اہل جہنم اُس کے اہل ہیں ۔ “ حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر قوم وہ عمل کرے گی ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہے ، اہل جنت ، اہل جنت کے سے عمل کریں گے اور اہل جہنم ، اہل جہنم کے سے عمل کریں گے ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے اعمال کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے ؟ کہ کیا یہ ایسی چیز ہے جسے ہم نئے طور پر کرتے ہیں یا ایسی چیز ہے جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ( یعنی تقدیر میں پہلے سے فیصلہ ہو چکا ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ عمل کرو ! ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر تو ہم عبادت میں بھرپور کوشش کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سالم بن سالم ہے اور وہ ضعیف ہے ، معجم کبیر کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اس نے فرمایا : اے بائیں طرف والو ! تو انہوں نے عرض کی : ہم حاضر ہیں اور سعادت مندی تیرے دست قدرت میں ہے تو پروردگار نے فرمایا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11794
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7940 و 7943)»