حدیث نمبر: 11793
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَخَذَ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِنُعْمَانَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا ، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قُبُلًا ، قَالَ : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ قَالُوا : بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ ، أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ شَيْءٌ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي سُورَةِ الْأَعْرَافِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی ( پشت میں موجود ) لوگوں سے نعمان کے مقام پر عہد لیا ( راوی کہتے ہیں اس سے مراد عرفہ کا مقام ہے ) اللہ تعالیٰ نے اُن کی پشت میں سے اُن کی ساری ذریت کو نکالا اور انہیں ان کے سامنے پھیلا دیا ، پھر ان کے ساتھ براہ راست بات چیت کی اور فرمایا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ( پروردگار نے فرمایا : ) ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن یہ کہو کہ ہم اس چیز سے غافل تھے ، یا تم یہ کہو کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اس سے پہلے شرک کیا تھا ، تو ہم ان کے بعد آنے والی اُن کی اولاد ہیں ، تو کیا تو ہمیں ان لوگوں کے عمل کی وجہ سے ہلاکت کا شکار کرے گا ، جو باطل لوگوں نے کام کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس نوعیت کی ایک روایت سورت اعراف کی تفسیر میں گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11793
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح