کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
حدیث نمبر: 11777
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَلَقَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - آدَمَ حِينَ خَلَقَهُ فَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُمْنَى ، فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً بَيْضَاءَ كَأَنَّهُمُ الذَّرُّ ، وَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُسْرَى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً سَوْدَاءَ كَأَنَّهُمُ الْحُمَمُ ، فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَمِينِهِ : إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي ، وَقَالَ لِلَّذِي فِي كَفِّهِ الْيُسْرَى : إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، تو اُن کے دائیں کندھے پر ہاتھ مار کر چیونٹیوں کی طرح کی سفید رنگ کی ، اُن کی اولاد کو نکالا ، پھر ان کے بائیں کندھے پر ہاتھ مار کر سیاہ رنگ کی اُن کی اولاد کو نکالا ، جو کوئلے کی مانند تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے دائیں طرف والے لوگوں کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جنت میں جائیں گے اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ، اور جو بائیں ہتھیلی میں تھے ان کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11778
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ أَنْ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَالُ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالُوا لَهُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي " ؟ ، قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً وَالْأُخْرَى بِالْيَدِ الْأُخْرَى قَالَ : هَذِهِ لِهَذِهِ ، وَهَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي " ، فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا ؟ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابونضرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جنہیں ابوعبداللہ کہا: جاتا تھا ، ان کے شاگرد ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے ، تو وہ رو رہے تھے ، لوگوں نے ان سے دریافت کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے : اپنی مونچھیں پست رکھو اور پھر انہیں ایسے ہی رکھنا ، یہاں تک تم مجھ سے آ ملو ! تو ان صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ میں کچھ لوگوں کو لیا اور دوسرے ہاتھ میں دوسرے لوگوں کو لیا اور فرمایا : ” یہ اُس ( یعنی جنت ) کے لئے ہیں اور یہ اُس ( یعنی جہنم ) کے لئے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ “ ( پھر ان صحابی نے فرمایا : ) مجھے نہیں معلوم میں اُن میں سے کون سی مٹھی میں تھا ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11779
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ آدَمَ ، ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ ، فَقَالَ : هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي ، وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي " ، فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ ؟ قَالَ : " عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور پھر ان کی پشت سے مخلوق ( یعنی بنی نوع انسان ) کو لیا اور فرمایا : یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور یہ ( دوسرے ) لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ “ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہم کس بنیاد پر عمل کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تقدیر ( کے حکم ) کے واقع ہونے کی صورت ( کے مطابق تم عمل کرو ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11780
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ قَبْضَةً فَقَالَ : لِلْجَنَّةِ بِرَحْمَتِي ، وَقَبَضَ قَبْضَةً وَقَالَ : لِلنَّارِ وَلَا أُبَالِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ سِنَانٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عِنْدَهُ وَهْمٌ كَثِيرٌ ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَمَحَلُّهُ الصِّدْقُ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مٹھی میں ( بنی نوع انسان ) کو لیا اور فرمایا : یہ میری رحمت ، جنت کے لئے ہیں ، پھر ایک اور مٹھی میں ( دوسرے لوگوں کو ) لیا اور فرمایا : یہ جہنم کے لئے ہیں ، اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن سنان باہلی ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اسے بہت زیادہ وہم لاحق ہوتا ہے ، یہ قوی نہیں ہے ، تاہم اس کا محل صدق ہے ، اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن سنان باہلی ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اسے بہت زیادہ وہم لاحق ہوتا ہے ، یہ قوی نہیں ہے ، تاہم اس کا محل صدق ہے ، اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11781
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَمَّا خَلَقَ آدَمَ قَبَضَ مِنْ طِينَتِهِ قَبْضَتَيْنِ ، قَبْضَةً بِيَمِينِهِ وَقَبْضَةً بِالْيَدِ الْأُخْرَى ، فَقَالَ لِلَّذِي بِيَمِينِهِ : هَؤُلَاءِ إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي ، وَقَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْأُخْرَى : هَؤُلَاءِ إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي ، ثُمَّ رَدَّهُمْ فِي صُلْبِ آدَمَ فَهُمْ يَتَنَاسَلُونَ عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْآنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : صُوَيْلِحٌ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، تو اُن کی مٹی کو مٹھی میں لیا ، اُسے دو مٹھیوں میں لیا ، دائیں مٹھی میں کچھ کو لیا اور بائیں میں کچھ کو لیا ، دائیں مٹھی والے لوگوں کے بارے میں اس نے فرمایا : یہ جنت میں جائیں گے اور میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ، اور دوسرے ہاتھ والے لوگوں کے بارے میں فرمایا : یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو واپس سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت میں رکھ دیا ، تو اب تک وہ اسی بنیاد پر نسل در نسل پیدا ہو رہے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسیب ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ کم درجہ کا صالح شخص ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسیب ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ کم درجہ کا صالح شخص ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11782
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الْقَبْضَتَيْنِ : " هَذِهِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي ، وَهَذِهِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَمِرِ بْنِ هِلَالٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے دونوں مٹھیوں کے بارے میں یہ فرمایا : یہ ( ایک مٹھی والے لوگ ) جنت میں جائیں گی اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور یہ ( دوسری مٹھی والے لوگ ) جہنم میں جائیں گی اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ نمر بن ہلال کا معاملہ مختلف ہے اور ابوحاتم نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ نمر بن ہلال کا معاملہ مختلف ہے اور ابوحاتم نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11783
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الْقَبْضَتَيْنِ : " هَؤُلَاءِ لِهَذِهِ وَهَؤُلَاءِ لِهَذِهِ " ، قَالَ : فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَهُمْ لَا يَخْتَلِفُونَ فِي الْقَدَرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے دو مٹھیوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے : یہ لوگ اس ( یعنی جنت ) کے لئے ہیں اور یہ لوگ اس ( یعنی جہنم ) کے لئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو لوگ متفرق قسم کے ہو گئے اور تقدیر کے حکم کے حساب سے اُن میں اختلاف نہیں ہوا ( یعنی ہر ایک مخصوص قسم سے تعلق رکھتا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11784
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَبْتَدِئُ الْأَعْمَالَ أَمْ قَدْ قُضِيَ الْقَضَاءُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَخَذَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ ظَهْرِهِ ، ثُمَّ أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ نَثَرَهُمْ فِي كَفَّيْهِ أَوْ كَفِّهِ ، فَقَالَ : هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ ، فَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَمُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَيَحْسُنُ حَدِيثُهُ بِكَثْرَةِ الشَّوَاهِدِ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نئے سرے سے اعمال کرتے ہیں ؟ یا یہ طے شدہ تقدیر کے مطابق ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت میں سے اُن کی اولاد کو نکالا اور پھر انہیں اپنی ذات کے بارے میں گواہ بنایا اور پھر انہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں رکھا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنی ہتھیلی پر رکھا اور فرمایا : یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور یہ ( دوسرے ) لوگ جہنم میں جائیں گے ، جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے ، تو ان کے لئے اہل جنت کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا ، اور جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے ، تو ان کے لئے اہل جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کو شواہد کی کثرت کی وجہ سے حسن قرار دیا گیا ہے اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کو شواہد کی کثرت کی وجہ سے حسن قرار دیا گیا ہے اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 11785
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : لَمَّا أَنْ حَضَرَهُ الْمَوْتُ بَكَى ، فَقَالَ لَهُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَبْكِي جَزَعًا مِنَ الْمَوْتِ وَلَا دُنْيَا أُخَلِّفُهَا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّمَا هُمَا قَبْضَتَانِ ، فَقَبْضَةٌ فِي النَّارِ وَقَبْضَةٌ فِي الْجَنَّةِ " ، وَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَكُونُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالْحَسَنُ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب اُن کی موت کا وقت قریب آیا ، تو وہ رونے لگے ، ان کے ساتھی نے ان سے کہا: آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں موت کی گھبراہٹ کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں اور نہ ہی دنیا کو اپنے پیچھے چھوڑنے کی وجہ سے رو رہا ہوں ، لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس کی دو مٹھیاں تھیں ، ایک مٹھی ( کے لوگوں ) نے جہنم میں جانا ہے اور ایک ( یعنی دوسری ) مٹھی ( کے لوگوں ) نے جنت میں جانا ہے ۔ “ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب مجھے نہیں معلوم کہ میں اُن دونوں میں سے کون سی مٹھی میں ہوؤں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ غنوی ہے اور وہ ضعیف ہے اور حسن نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ غنوی ہے اور وہ ضعیف ہے اور حسن نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 11786
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ - وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - أَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ صُلْبِهِ حَتَّى مَلَئُوا الْأَرْضَ وَكَانُوا هَكَذَا " وَضَمَّ جَعْفَرٌ يَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کم احادیث نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی ذریت کو اُن کی پشت سے نکالا ، یہاں تک کہ اُن لوگوں نے زمین کو بھر دیا ، اور وہ لوگ اس طرح تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہاں جعفر نامی راوی نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11787
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فَبَسَطَ كَفَّهُ الْيُمْنَى ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ بَسَطَ كَفَّهُ الْيُسْرَى فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِلَى أَهْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَعْرِفِ ابْنَ مُجَاهِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا اور ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحریر ہے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم والا ہے ، اس میں اہل جنت کے اُن کے آباء و اجداد ، ان کے قبیلوں اور خاندانوں کے نام ہیں ، ان میں سے کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، اور اُن میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا اور ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ رحمان اور رحیم کی طرف سے تحریر ہے ، جو اہل جہنم کے لئے ہے ، اس میں اُن کے نام اور ان کے آباء و اجداد ، ان کے قبیلوں اور ان کے خاندانوں کے نام ہیں ، ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ابن مجاہد کی اس کے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، میں ابن مجاہد سے واقف نہیں ہوں اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابن مجاہد کی اس کے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، میں ابن مجاہد سے واقف نہیں ہوں اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11788
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَسَطَ يَمِينَهُ ، ثُمَّ قَبَضَهَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، وَبَسَطَ يَسَارَهُ ، ثُمَّ قَبَضَهَا فَقَالَ : " أَهْلُ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ السَّعَادَةِ طَرِيقُ الشَّقَاءِ حَتَّى يُقَالَ مِنْهُمْ بَلْ هُمْ هُمْ ، فَتُدْرِكُهُمُ السَّعَادَةُ فَتُخْرِجُهُمْ مِنْ طَرِيقِ الشَّقَاءِ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ الشَّقَاءِ طَرِيقُ السَّعَادَةِ حَتَّى يُقَالَ مِنْهُمْ بَلْ هُمْ هُمْ فَيُدْرِكُهُمُ الشَّقَاءُ فَيُخْرِجُهُمْ مِنْ طَرِيقِ السَّعَادَةِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَيُّوبَ السَّكُونِيُّ رَوَى حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا ، فَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ فِيهِ : لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ ، فَضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ ، لَكِنْ فِي إِسْنَادِهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ مُتَكَلَّمٌ فِيهِ بِغَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ، اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مٹھی کو بند کیا اور ارشاد فرمایا : ” اس میں اہل جنت کے نام اُن کے آباؤ اجداد ، ان کے قبیلوں کے نام ہیں ، ان میں قیامت کے دن تک کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی ، پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا ، پھر آپ نے اسے بند کیا اور فرمایا : یہ اہل جہنم کے نام ہیں ، ان کے آباؤ اجداد کے نام ہیں ، ان کے قبیلوں کے نام ہیں ، قیامت کے دن تک ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی ، سعادت والے ( کچھ ) لوگوں کو بدنصیب لوگوں کے راستے پر چلایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا: جاتا ہے : یہ ان ( بدنصیب لوگوں ) میں سے ایک ہے ، حالانکہ وہ ان ( دوسروں یعنی خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہوتے ہیں ، پھر انہیں سعادت لاحق ہو جاتی ہے اور وہ انہیں بدنصیبی کے راستے سے نکال دیتی ہے ، اسی طرح بدنصیب لوگوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کو سعادت کے راستے پر چلایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا: جاتا ہے : یہ ان ( یعنی خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہے ، لیکن وہ اُن دوسروں ( یعنی بدنصیب لوگوں ) میں سے ہوتا ہے ، بدنصیبی اسے لاحق ہوتی ہے اور اُسے سعادت کے راستے سے نکال دیتی ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان ہو جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ایوب سکونی ہے ، اس نے اس کے علاوہ بھی روایات نقل کی ہیں ، اس کے بارے میں عقیلی نے کہا: ہے : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ، امام ذہبی نے اپنی طرف سے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور اس کے بارے میں اس حدیث کے علاوہ بھی کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ایوب سکونی ہے ، اس نے اس کے علاوہ بھی روایات نقل کی ہیں ، اس کے بارے میں عقیلی نے کہا: ہے : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ، امام ذہبی نے اپنی طرف سے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور اس کے بارے میں اس حدیث کے علاوہ بھی کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11789
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ صَحِيفَتَانِ يَنْظُرُ فِيهِمَا ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : وَاللَّهِ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأُمِّيٌّ مَا يَقْرَأُ وَمَا يَكْتُبُ ، حَتَّى دَنَا مِنْهُمْ ، فَنَشَرَ الَّتِي فِي يَمِينِهِ فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ ، لَا يُزَادُ فِي آخِرِهِ شَيْءٌ فَرَغَ رَبُّكُمْ " ، ثُمَّ نَشَرَ الَّتِي فِي يَدِهِ الْأُخْرَى لِأَهْلِ النَّارِ مِثْلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ کے دونوں ہاتھوں میں دو صحیفے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی طرف دیکھا اور اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اللہ کا نبی ، اُمّی ہے ، وہ نہ پڑھتا ہے اور نہ لکھتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے قریب ہوئے ، آپ نے اپنے ہاتھ میں موجود چیز کو پھیلایا اور فرمایا ( اس میں یہ تحریر ہے : ) ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ رحمان و رحیم کی طرف سے تحریر ہے ، اس میں اہل جنت کے ، اُن کے آباؤ اجداد اور ان کے خاندانوں کے نام ہیں ، یہ ان کے بارے میں متعین ہے ، اس کے آخر میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، یہ ایک ایسی چیز ہے ، جس کے حوالے سے تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے ہاتھ میں موجود چیز کے بارے میں اہل جہنم کے لئے بھی اس کی مانند کلمات ارشاد فرمائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہذیل بن بلال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہذیل بن بلال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11790
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا بِعَشَائِرِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا بِعَشَائِرِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّيرِينِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَعَبَّادُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرِينِيُّ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ ، قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي بَابِ كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا ہے اور اس کے لئے اہل ، افراد کو پیدا کیا ہے ، جس میں اُن کے خاندانوں اور ان کے ( قبائل کا بھی تعین کیا گیا ہے ) ان لوگوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، اُس نے جہنم کو پیدا کیا ہے اور اس کے لئے اہل افراد پیدا کئے ہیں ، جو ان کے خاندان اور قبائل ( کے نام کے ساتھ متعین ہیں ) ان میں سے کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم عمل کرو ! کیونکہ ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکار بن محمد سیرینی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، عباد بن علی سیرینی کو ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث اس باب میں آئیں گی ، جس میں یہ مذکور ہے کہ ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکار بن محمد سیرینی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، عباد بن علی سیرینی کو ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث اس باب میں آئیں گی ، جس میں یہ مذکور ہے کہ ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔
حدیث نمبر: 11791
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ آمِنِينَ حَتَّى يَرُدُّوهُمْ عَنْ دِينِهِمْ كِفَاءَ رَحِمِنَا " ، قَالَ : فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا أَمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ آخَرُ فَقَالَ : أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا أَمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ " ، ثُمَّ قَالَ : " اسْكُتُوا عَنِّي مَا سَكَتُّ عَنْكُمْ ، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَعُوا لَأَخْبَرْتُكُمْ بِمَلَئِكُمْ مِنْ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى تَعْرِفُوهُمْ عِنْدَ الْمَوْتِ ، وَلَوْ أُمِرْتُ أَنْ أَفْعَلَ لَفَعَلْتُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس قبیلے قریش کے لوگ مسلسل امن کی حالت میں رہیں گے ، یہاں تک کہ ان لوگوں کو ان کے دین سے وہ لوگ موڑ دیں گے جو ہمارے برابر کے رشتہ دار ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں جنت میں جاؤں گا یا جہنم میں جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں جاؤ گے ، راوی کہتے ہیں : پھر دوسرے صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : کیا میں جنت میں جاؤں گا یا جہنم میں جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہنم میں جاؤ گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تک میں تمہیں کوئی بات بیان نہ کروں ، تم بھی میرے حوالے سے خاموش رہو ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم لوگ ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے ، تو میں تمہیں اہل جہنم کی مخصوص نشانی بتاتا ، یہاں تک کہ موت کے وقت تم اُن لوگوں کو پہچان لیتے اور اگر مجھے حکم دیا گیا کہ میں ایسا کروں ، تو میں ایسا کر لوں گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11792
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ غَضْبَانُ ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : " لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ الْيَوْمَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ " . وَنَحْنُ نَرَى أَنَّ جِبْرِيلَ مَعَهُ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا حَدِيثِي عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، فَلَا تُبْدِ عَلَيْنَا سَوْآتِنَا ، فَاعْفُ عَفَا اللَّهُ عَنْكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں تشریف لائے ، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : آج تم لوگ جس چیز کے بارے میں دریافت کرو گے ، میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا ، راوی کہتے ہیں : ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے ساتھ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسے لوگ ہیں ، جو زمانہ جاہلیت کے قریب ہیں ، تو آپ ہماری خرابیاں ہمارے سامنے ظاہر نہ کریں ، انہوں نے عرض کی : کیا آپ ہمارے پوشیدہ معاملات کے حوالے سے ہمیں رسوائی کا شکار کریں گے ؟ آپ درگزر سے کام لیں ، اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر کرے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔