کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو کچھ ہونا ہے ، اس کے حوالے سے ( تقدیر کا ) قلم خشک ہو چکا ہے
حدیث نمبر: 11795
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْدَفَهُ ، فَقَالَ : " يَا فَتَى ، أَلَا أَهَبُ لَكَ ؟ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ ؟ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ ، وَاعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْخَلَائِقَ لَوْ أَرَادُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْكَ ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور فرمایا : ” اے نوجوان ! کیا میں تمہیں ایک چیز نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہیں نفع عطا کرے گا ، تم اللہ تعالیٰ کی حفاظت کرو ، وہ تمہاری حفاظت کرے گا ، تم اللہ کی طرف توجہ رکھو ، تم اس کو اپنے پاس پاؤ گے ، جب تم مانگو تو اللہ تعالیٰ سے مانگو ، جب تم مدد مانگو ، تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو ، اور تم یہ بات جان لو کہ جو ہونا ہے ، اُس کے حوالے سے قلم خشک ہو چکا ہے ، اور تم یہ بات جان لو کہ اگر ساری مخلوق کسی حوالے سے تمہارے بارے میں کوئی ارادہ کرے ، جو چیز تمہارے خلاف نوٹ نہ کی گئی ہو ، تو وہ تم پر قدرت نہیں حاصل کر پائیں گے ، اور تم یہ بات جان لو ! کہ صبر کے ساتھ مدد ملتی ہے اور پریشانی کے ساتھ کشادگی نصیب ہوتی ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11796
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ خَلَقَهُ اللَّهُ الْقَلَمُ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَكْتُبَ كُلَّ شَيْءٍ " ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جو چیز پیدا کی ، وہ قلم ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اُسے یہ حکم دیا کہ وہ نوٹ کر لے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11797
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ قَالَ لَهُ : اكْتُبْ ، فَجَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي سُورَةِ " ن " ، وَحَدِيثٌ يَأْتِي فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا تو اُس سے فرمایا : تم لکھو ! تو قیامت قائم ہونے تک جو کچھ ہونا تھا ، اُس نے وہ لکھ دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سورت ” ن“ کی تفسیر میں اس نوعیت کی ایک حدیث گزر چکی ہے اور ایک حدیث آگے چل کر ، نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سورت ” ن“ کی تفسیر میں اس نوعیت کی ایک حدیث گزر چکی ہے اور ایک حدیث آگے چل کر ، نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 11798
وَعَنْ حِبَّانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زُهَيْرٍ أَبِي زُهَيْرٍ الْبَصْرِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ عَنْ قَوْلِهِ : مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ، وَعَنْ قَوْلِهِ : إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ، وَعَنْ قَوْلِهِ : إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ، فَقَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ ذِكْرُهُ - خَلَقَ الْعَرْشَ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ خَلَقَ الْقَلَمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْرِيَ بِإِذْنِهِ ، وَعَظُمَ الْقَلَمُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَقَالَ الْقَلَمُ : بِمَا يَا رَبِّ أَجْرِي ؟ قَالَ : بِمَا أَنَا خَالِقٌ وَكَائِنٌ فِي خَلْقِي مِنْ قَطْرٍ ، أَوْ نَبَاتٍ ، أَوْ نَفْسٍ ، أَوْ أَثَرٍ - يَعْنِي بِهِ الْعَمَلَ - أَوْ رِزْقٍ ، أَوْ أَجَلٍ ، فَجَرَى الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَأَثْبَتَهُ اللَّهُ فِي الْكِتَابِ الْمَكْنُونِ عِنْدَهُ تَحْتَ الْعَرْشِ . ¤ وَأَمَّا قَوْلُهُ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ فَإِنَّ اللَّهَ وَكَّلَ مَلَائِكَةً يَنْسَخُونَ مِنْ ذَلِكَ الْكِتَابِ كُلَّ الْعَامِ فِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا يَكُونُ فِي الْأَرْضِ مِنْ حَدَثٍ إِلَى مِثْلِهَا مِنَ السَّنَةِ الْمُقْبِلَةِ ، فَيُعَارِضُونَ بِهِ حَفَظَةَ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ عَشِيَّةَ كُلِّ خَمِيسٍ ، فَيَجِدُونَ مَا رَفَعَ الْحَفَظَةُ مُوَافِقًا لِمَا فِي كِتَابِهِمْ ذَلِكَ لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ ، وَقَوْلُهُ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِكُلِّ شَيْءٍ مَا يُشَاكِلُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَمَا يُصْلِحُهُ مِنْ رِزْقِهِ ، وَخَلَقَ الْبَعِيرَ خَلْقًا لَا يَصْلُحُ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهِ عَلَى غَيْرِهِ مِنَ الدَّوَابِّ ، وَكَذَلِكَ كُلُّ شَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ ، وَخَلَقَ لِدَوَابِّ الْبَرِّ وَطَيْرِهَا مِنَ الرِّزْقِ مَا يُصْلِحُهَا فِي الْبَرِّ ، وَخَلَقَ لِدَوَابِّ الْبَحْرِ وَطَيْرِهَا مَا يُصْلِحُهَا فِي الْبَحْرِ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ - تَعَالَى - إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
حبان بن عبیداللہ بن زہیر ابوزہیر بصری بیان کرتے ہیں : میں نے ضحاک بن مزاحم سے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ” زمین میں ، یا تمہارے وجودوں میں ، جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ پہلے سے اس کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) میں طے شدہ ہے ( اس سے پہلے کہ ) ہم اس کو ( عملی طور پر ) پیدا کریں ، بے شک یہ اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے ۔ “ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ” تم لوگ جو عمل کرتے تھے ، ہم اُسے نقل کر رہے تھے ۔ “ اور اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ” بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے ۔ “ تو ضحاک نے جواب دیا : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے : اللہ تعالیٰ نے عرش کو پیدا کیا ، پھر اس پر استواء کیا ، پھر اُس نے قلم کو پیدا کیا اور اُسے یہ حکم دیا کہ وہ اس کے علم کے تحت جاری ہو ، تو قلم اتنا بڑا ہے ، جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے ، اس نے دریافت کیا : اے پروردگار ! کس چیز کے لئے جاری ہو جاؤں ؟ تو پروردگار نے فرمایا : اس چیز کے حوالے سے کہ میں خالق ہوں اور میں نے اپنی مخلوق میں جو کچھ کرنا ہے ، خواہ اس کا تعلق بارش سے ہو ، یا نباتات سے ہو ، یا جانوں سے ہو یا اعمال سے ہو ، یا رزق سے ہو ، یا موت سے ہو ، تو قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے ، قلم اُس کے لئے جاری ہو گیا ، اللہ تعالیٰ نے عرش کے نیچے اپنے پاس موجود ایک پوشیدہ تحریر میں اُسے برقرار رکھا ۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تعلق ہے : تم لوگ جو عمل کرتے تھے ہم اسے نقل کر رہے تھے ۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتے مقرر کیے ہیں ، جو اس کتاب میں سے ہر سال رمضان کے مہینے میں شب قدر میں نقل کرتے ہیں ، جو کچھ بھی زمین پر ہونا ہے ، اس وقت سے لے کر اگلے سال کے اُسی وقت تک جو کچھ ہونا ہے ، اس کو نوٹ کرتے ہیں اور پھر وہ اس کے ذریعے بندوں پر مقرر ، اللہ تعالیٰ کے محافظ فرشتوں کو ہر جمعرات کی شام ملتے ہیں ، تو وہ یہ پاتے ہیں کہ محافظ فرشتوں نے جو کچھ اوپر لے جانا ہے ، وہ اس چیز کے مطابق ہے ، جو ان کے پاس موجود تحریر میں ہے ، اس میں کوئی کمی یا کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تعلق ہے : ” بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے ۔ “ تو بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ، مخلوق میں کوئی بھی چیز اس کی ہم شکل نہیں ہے اور پھر اس ( چیز ) کے لئے جو رزق مناسب تھا ، اُس کو طے کیا ہے ، اس نے اونٹ کو اس طرح سے پیدا کیا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے دوسرے جانوروں میں سے وہ چیز نہیں ہے ، اسی طرح جس بھی چیز کو اس نے پیدا کیا ہے ، اس کی یہی صورت حال ہے ، اس نے خشکی کے جانور اور پرندوں کے لئے مخصوص رزق مقرر کیا ہے ، جو خشکی کے حساب سے ان کے لئے مناسب ہے ، اس نے سمندر کے جانوروں اور پرندوں کے لئے ان کے لئے سمندر میں ، جو چیز بہتر ہے ، وہ چیز پیدا کی ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 11799
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْقَدَرِ فَوَجَأْتُ رَأْسَهُ ، قَالُوا : وَلِمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ ، دَفَّتَاهُ يَاقُوتَةٌ حَمْرَاءُ ، قَلَمُهُ نُورٌ [ وَكِتَابُهُ نُورٌ ] ، وَعَرْضُهُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، يَنْظُرُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سِتِّينَ وَثَلَاثَمِائَةِ نَظْرَةٍ ، يَخْلُقُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ ، وَيُحْيِي ، وَيُمِيتُ ، وَيُعِزُّ ، وَيُذِلُّ ، وَيَفْعَلُ مَا يَشَاءُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ هَذِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میری یہ خواہش تھی کہ اگر قدریہ فرقے کا کوئی شخص میرے پاس ہوتا ، تو میں اُس کے سر کو تکلیف پہنچاتا ( یعنی اس کی پٹائی کرتا ) لوگوں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے فرمایا : اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سفید موتی سے لوح محفوظ کو پیدا کیا ہے ، جس کے دونوں کنارے سرخ یاقوت کے ہیں ، اس کا قلم نور ہے اور اس کی کتاب نور ہے اور وہ اتنا بڑا ہے ، جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے ، پروردگار روزانہ تین سو ساٹھ مرتبہ اس کی طرف نظر کرتا ہے اور ہر نظر میں کوئی چیز تخلیق کرتا ہے ، کسی کو زندگی دیتا ہے کسی کو موت دیتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلت دیتا ہے ، اور جو وہ چاہتا ہے ، وہ کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11800
وَعَنْ مَرْثَدٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : خَطَّ اللَّهُ خَطَّيْنِ فِي كِتَابِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ الْقَلَمَ فَكَتَبَ فِي أَحَدِهِمَا الْخَلْقَ ، وَكَتَبَ فِي الْآخَرِ مَا الْخَلْقُ عَامِلُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مرثد رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں ، وہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنی تحریر میں دو قسم کی لکیریں لگائیں پھر اس نے قلم اٹھا لیا ، ان دونوں میں سے ایک میں اس نے مخلوق کو تحریر کیا اور دوسری سطر میں وہ تحریر کیا جو مخلوق نے عمل کرنے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن یحیی خشنی ہے ، جسے دحیم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن یحیی خشنی ہے ، جسے دحیم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 11801
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : رُفِعَ الْكِتَابُ ، وَجَفَّ الْقَلَمُ ، وَأُمُورٌ بِقَضَاءٍ فِي كِتَابٍ قَدْ خَلَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : کتاب کو اٹھا لیا گیا ہے اور قلم خشک ہو چکا ہے اور تقدیر کے فیصلے سے متعلق امور کتاب میں موجود ہیں ، جو پہلے سے طے ہو چکے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔