کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک وہ لوگ جو ہجروں کے باہر سے تمہیں پکارتے ہیں “
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ ، فَإِنْ يَكُ نَبِيًّا فَنَحْنُ أَسْعَدُ النَّاسِ بِهِ ، وَإِنْ يَكُ مَلِكًا عِشْنَا فِي جَنَابِهِ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالُوا ، ثُمَّ جَاءُوا إِلَى حَجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلُوا يُنَادُونَ : يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأُذُنِي فَقَالَ : " لَقَدْ صَدَّقَ اللَّهُ قَوْلَكَ يَا زَيْدُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ رَاشِدٍ الطُّفَاوِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ عرب لوگ آئے انہوں نے یہ کہا: تم ہمارے ساتھ ان صاحب کے پاس چلو ، اگر یہ نبی ہوئے ، تو ہم ان کے حوالے سے سب سے زیادہ سعادت مند لوگ بن جائیں گے اور اگر وہ بادشاہ ہوئے تو ہم ان کے سائے میں آرام سے رہیں گے ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، جو انہوں نے کہا: تھا ، پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے پاس آئے اور بلند آواز میں کہنے لگے : اے سیدنا محمد ! اے سیدنا محمد ! تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک وہ لوگ جو حجروں کے باہر سے تمہیں پکارتے ہیں ، اُن میں سے زیادہ تر لوگ عقل نہیں رکھتے ہیں “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان پکڑے اور ارشاد فرمایا : اے زید ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے قول کی تصدیق کر دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن راشد طفاوی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5123)»
وَعَنِ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَنَّهُ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنْ حَمْدِي زَيْنٌ وَإِنَّ ذَمِّي لَشَيْنٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ " . كَمَا حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِنْ كَانَ أَبُو سَلَمَةَ سَمِعَ مِنَ الْأَقْرَعِ ، وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ كَإِسْنَادِ أَحْمَدَ الْآخَرِ . ¤
محمد محی الدین
اقرع بن حابس کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ اُس نے حجروں کے باہر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور بولا: یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا ، اُس نے کہا: اے محمد ! میری بیان کی ہوئی تعریف ، زینت کا باعث ہے اور میری بیان کی ہوئی مذمت ، بے عزتی کا باعث ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ بات صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ( مخصوص ) ہے ۔ جس طرح ابوسلمہ نامی راوی نے بیان کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کی مختلف اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں اگر ابوسلمہ نامی راوی نے اقرع بن حابس نامی راوی سے سماع کیا ہو ، ورنہ
یہ روایت مرسل شمار ہو گی ، جس طرح امام أحمد کی دوسری روایت کی سند ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11351
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (488/3)»