کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جب کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے ، تو تم تحقیق کر لیا کرو “
حدیث نمبر: 11352
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَانِي إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَأَقْرَرْتُ بِهِ وَدَخَلْتُ فِيهِ ، وَدَعَانِي إِلَى الزَّكَاةِ فَأَقْرَرْتُ بِهَا ، وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي فَأَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ ، فَمَنِ اسْتَجَابَ لِي جَمَعْتُ زَكَاتَهُ ، فَيُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَسُولًا لِإِبَّانِ كَذَا وَكَذَا لِيَأْتِيَكَ مَا جَمَعْتُ مِنَ الزَّكَاةِ . فَلَمَّا جَمَعَ الْحَارِثُ الزَّكَاةَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لَهُ ، وَبَلَغَ الْإِبَّانَ الَّذِي أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهِ احْتَبَسَ الرَّسُولُ فَلَمْ يَأْتِهِ ، فَظَنَّ الْحَارِثُ أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ سَخْطَةٌ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا سَرَوَاتِ قَوْمِهِ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ وَقَّتَ [ لِي ] وَقْتًا يُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولَهُ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدِي مِنَ الزَّكَاةِ ، وَلَيْسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخُلْفُ ، وَلَا أَرَى حَبْسَ رَسُولِهِ إِلَّا مِنْ سَخْطَةٍ كَانَتْ ، فَانْطَلِقُوا فَنَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ [ إِلَى الْحَارِثِ ] لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِمَّا جَمَعَ مِنَ الزَّكَاةِ ، فَلَمَّا أَنَّ سَارَ الْوَلِيدُ حَتَّى بَلَغَ بَعْضَ الطَّرِيقِ فَرَقَ فَرَجَعَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : [ يَا رَسُولَ اللَّهِ ] إِنَّ الْحَارِثَ مَنَعَنِي الزَّكَاةَ وَأَرَادَ قَتْلِي . فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَعْثَ إِلَى الْحَارِثِ ، فَأَقْبَلَ الْحَارِثُ بِأَصْحَابِهِ ، إِذِ اسْتَقْبَلَ الْبَعْثَ وَفَصَلَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَقِيَهُمُ الْحَارِثُ ، فَقَالُوا : هَذَا الْحَارِثُ ، فَلَمَّا غَشِيَهُمْ قَالَ لَهُمْ : إِلَى مَنْ بُعِثْتُمْ ؟ قَالُوا : إِلَيْكَ ، قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالُوا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بَعَثَ إِلَيْكَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ ، فَزَعَمَ أَنَّكَ مَنَعْتَهُ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَهُ ، قَالَ : لَا ، وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ الْبَتَّةَ وَلَا أَتَانِي . فَلَمَّا دَخَلَ الْحَارِثُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنَعْتَ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَ رَسُولِي ؟ " ، قَالَ : لَا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ بَتَّةً ، وَلَا أَتَانِي ، وَمَا احْتَبَسْتُ إِلَّا حِينَ احْتَبَسَ عَلَيَّ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ كَانَتْ سَخْطَةً مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ ، قَالَ : فَنَزَلَتِ الْحُجُرَاتُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ إِلَى هَذَا الْمَكَانِ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : الْحَارِثُ بْنُ سِرَارٍ بَدَلَ ضِرَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن ضرار خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی ، میں نے اس کا اقرار کر لیا اور اسلام میں داخل ہو گیا ، آپ نے مجھے زکوۃ کی دعوت دی ، میں نے اس کا اقرار کر لیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی قوم کی طرف واپس جا کر انہیں اسلام کی طرف اور زکوۃ کی ادائیگی کی طرف دعوت دوں ؟ جو شخص میری دعوت قبول کر لے گا ، میں اس کی زکوۃ اکٹھی کروں گا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے عرصے کے بعد اپنے قاصد کو ، میرے پاس بھیج دیں ، تو جب سیدنا حارث رضی اللہ عنہ نے ، ان لوگوں سے زکوۃ جمع کر لی ، اور وہ وقت آ گیا ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، اپنے قاصد کو ان لوگوں کی طرف بھیجنا ہے ، تو وہ قاصد وہاں نہیں آیا ، سیدنا حارث رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید ان کے بارے میں ، اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی ناراضگی سامنے آئی ہے تو انہوں نے اپنی قوم کے معززین کو بلوایا اور ان سے کہا: اللہ کے رسول نے میرے ساتھ ایک وقت طے کیا تھا کہ جس میں آپ اپنے قاصد کو میرے پاس بھیجیں گے ، تاکہ وہ میرے پاس موجود زکوۃ کو وصول کر لے ، تو اللہ کے رسول کی طرف سے تو وعدہ خلافی نہیں ہو سکتی ، میں یہ سجھتا ہوں کہ وہ قاصد کیونکہ نہیں آیا ہے ، تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی ناراضگی ہے ، تو تم لوگ چلو ! ہم اللہ کے رسول کے پاس جاتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو حارث کی طرف بھیجا ، تاکہ وہ ان سے ان کے پاس موجود جمع شدہ زکوۃ لے لیں جب ولید روانہ ہوئے اور راستے میں کسی جگہ پر پہنچے ، تو انہیں کچھ خیال آیا وہ واپس آئے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حارث نے مجھے زکوۃ نہیں دی ، اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث کی طرف ایک جنگی مہم بھیجی ، اسی دوران حارث اپنے ساتھیوں کو لے کر آ رہے تھے ، ان کا اس مہم سے سامنا ہوا ، یہ مدینہ منورہ سے باہر کی بات ہے ، جب حارث کا ان لوگوں سے سامنا ہوا ، تو ان لوگوں نے کہا: یہ تو حارث ہے ، جب وہ ان کے پاس پہنچ گئے ، تو حارث نے ان سے دریافت کیا : تم لوگوں کو کس کی طرف بھیجا گیا ہے ؟ ان لوگوں نے بتایا : تمہاری طرف ، حارث نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ ان لوگوں نے بتایا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو تمہاری طرف بھیجا تھا ، اُس کا یہ کہنا ہے کہ تم نے اسے زکوۃ بھی نہیں دی اور تم نے اسے قتل کرنے کا ارادہ بھی کیا ، تو حارث نے کہا: جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے تو اُسے دیکھا بھی نہیں ہے اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ہے ، جب حارث ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے زکوۃ بھی نہیں دی اور میرے قاصد کو قتل کرنے کا بھی ارادہ کیا ؟ حارث نے عرض کی : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے تو اسے سرے سے دیکھا ہی نہیں ، اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ہے جب اللہ کے رسول کا قاصد متعین وقت تک میرے پاس نہیں آیا ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کسی ناراضگی کی وجہ سے نہ ہو راوی بیان کرتے ہیں : تو اس بارے میں سورت حجرات کی یہ آیات نازل ہوئیں : ” اے ایمان والو ! جب کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے ، تو تم تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ لاعلمی میں تم کسی قوم کو نقصان پہنچاؤ اور پھر بعد میں اپنے کیے ہوئے پر نادم ہو “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل اور نعمت ، اور اللہ تعالیٰ علم والا ، حکمت والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے حارث بن ضرار کی جگہ لفظ حارث بن سرار نقل کیا ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے حارث بن ضرار کی جگہ لفظ حارث بن سرار نقل کیا ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11353
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَاجِيَةَ قَالَ : بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ يُصَدِّقُ أَمْوَالَنَا ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَّا ، وَذَلِكَ بَعْدَ وَقْعَةِ الْمُرَيْسِيعِ ، فَرَجَعَ ، فَرَكِبْتُ فِي أَثَرِهِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَيْتُ قَوْمًا فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ ، أَخَذُوا اللِّبَاسَ وَمَنَعُوا الصَّدَقَةَ . فَلَمْ يُغَيِّرِ [ ذَلِكَ ] النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ الْآيَةَ . فَأَتَى الْمُصْطَلِقُونَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَثَرَ الْوَلِيدِ بِطَائِفَةٍ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ يَسُوقُونَهَا وَبِنَفَقَاتٍ يَحْمِلُونَهَا ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ وَأَنَّهُمْ خَرَجُوا يَطْلُبُونَ الْوَلِيدَ بِصَدَقَاتِهِمْ فَلَمْ يَجِدُوهُ ، فَدَفَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا كَانَ مَعَهُمْ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِكَ فَسُرِرْنَا بِذَلِكَ ، وَكُنَّا نَتَلَقَّاهُ فَبَلَغَنَا رَجْعَتُهُ فَخِفْنَا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مِنْ سُخْطٍ عَلَيْنَا ، وَعَرَضُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَشْتَرُوا مِنْهُ مَا بَقِيَ ، وَقَبِلَ مِنْهُمُ الْفَرَائِضَ وَقَالَ : " ارْجِعُوا بِنَفَقَاتِكُمْ ، لَا نَبِيعُ شَيْئًا مِنَ الصَّدَقَاتِ حَتَّى نَقْبِضَهُ " . فَرَجَعُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ ، وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَنْ يَقْبِضُ بَقِيَّةَ صَدَقَاتِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علقمہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابومعیط کو ہماری طرف بھیجا ، تاکہ وہ ہمارے اموال کی زکوۃ وصول کرے ، وہ روانہ ہوا جب وہ ہمارے قریب پہنچا تو واپس چلا گیا ، یہ غزوہ مریسیع کے بعد کی بات ہے ، میں سوار ہو کر اس کے پیچھے گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! میں ایک ایسی قوم کے پاس گیا ، جو ابھی بھی زمانہ جاہلیت کے سے ہیں ، انہوں نے لباس لے لیا اور زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں مزید کچھ نہیں کیا تھا کہ اس حوالے سے یہ آیت نازل ہو گئی : ” اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ پھر بنو مصطلق کے لوگ ولید کے پیچھے اپنے صدقات کے جانور وغیرہ ہانک کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیگر چیزیں بھی تھیں جو ان پر لادے ہوئی تھیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی ، کہ وہ لوگ ولید کی تلاش میں اپنے صدقات لے کر نکلے تھے ، انہیں ولید نہیں ملے ، تو وہ چیزیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیں ، جو ان کے پاس تھیں ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ آپ کا نمائندہ روانہ ہو گیا ہے ، ہم اس بات سے خوش تھے ہم اس سے مانا چاہتے تھے ، لیکن ہمیں یہ پتہ چلا کہ وہ واپس چلا گیا ہے ، تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ یہ ہم پر کسی ناراضگی کی وجہ سے نہ ہو ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات پیش کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باقی رہ جانے والی چیزیں ان سے خرید لیں اور جو زکوۃ ہے ، وہ ان سے وصول کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے اخراجات کی چیزیں واپس لے جاؤ ، ہم صدقات میں سے کوئی چیز اس وقت تک فروخت نہیں کریں گے ، جب تک اسے قبضے میں نہیں لے لیتے ، تو وہ لوگ اپنے اہل خانہ کی طرف واپس چلے گئے اور ان کے صدقات کے بقایا جات میں سے جو چیزیں تھیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف بھیجوا دیں ۔
حدیث نمبر: 11354
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَلْقَمَةَ أَيْضًا : أَنَّهُ كَانَ فِي بَنِي عَبْدِ الْمُصْطَلِقِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَمْرِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " انْصَرِفُوا غَيْرَ مَحْبُوسِينَ وَلَا مَحْصُورِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : علقمہ بیان کرتے ہیں : ولید بن عقبہ کے معاملے میں بنو مصطلق کا جو وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، وہ اُس میں شامل تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” تم لوگ واپس چلے جاؤ ! ایسی حالت میں کہ نہ تمہیں محسوس کیا گیا ہو ، اور نہ ہی تمہیں محصور کیا گیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اُسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اُسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11355
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ إِلَى بَنِي وَلِيعَةَ ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ شَحْنَاءُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا بَلَغَ بَنِي وَلِيعَةَ اسْتَقْبَلُوهُ لِيَنْظُرُوا مَا فِي نَفْسِهِ ، فَخَشِيَ الْقَوْمَ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ بَنِي وَلِيعَةَ أَرَادُوا قَتْلِي وَمَنَعُونِي الصَّدَقَةَ ، فَلَمَّا بَلَغَ بَنِي وَلِيعَةَ الَّذِي قَالَ الْوَلِيدُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ كَذَبَ الْوَلِيدُ ، وَلَكِنْ كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ شَحْنَاءُ فَخَشِينَا أَنْ يُعَاقِبَنَا بِالَّذِي كَانَ بَيْنَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَنْتَهِيَنَّ بَنُو وَلِيعَةَ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا كَنَفْسِي ، يَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَيَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ وَهُوَ هَذَا " ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى كَتِفِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي الْوَلِيدِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ الْآيَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ التَّمِيمِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو بنو ولیعہ کی طرف بھیجا ان لوگوں کے درمیان زمانہ جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی تھی ، جب بنو ولیعہ کو اس بات کا پتہ چلا ، تو انہوں نے ولید بن عقبہ کا استقبال کیا ، تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ اس کے من میں کیا ہے ؟ تو ولید ان لوگوں سے ڈر گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گیا اور بولا: بنو ولیعہ نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے اور مجھے زکوۃ دینے سے انکار بھی کر دیا ہے ، جب بنو ولیعہ کو اس بات کا پتہ چلا ، جو ولید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی تھی ، تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ولید نے غلط بیانی کی ہے ، ہمارے اور اس کے درمیان زمانہ جاہلیت میں دشمنی چلی آ رہی تھی ، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ ہمارے درمیان جو پہلے کی دشمنی ہے ، کہیں یہ اس حوالے سے ہمیں نقصان نہ پہنچائے ، ( اس سے پہلے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” یا تو بنو ولیعہ باز آ جائیں گے ، یا میں ان لوگوں کی طرف ایسے شخص کو بھیجوں گا ، جو میری مانند ہو گا ، وہ ان کے جنگجو لوگوں کو قتل کر دے گا اور بال بچوں کو قیدی بنا لے گا اور وہ یہ شخص ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے کندھے پر مارا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ آیت ولید کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ” اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق شخص ، کوئی اطلاع لے کر تمہارے پاس آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالقدوس تمیمی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالقدوس تمیمی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11356
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهَا فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ : مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِكِ ؟ فَقَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِيمَا صَنَعَ بِهِمْ عَامِلُهُمُ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ ، فَلَمْ يَزَالُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَصَلَّى الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ صَلَّى عِنْدِي فِي بَيْتِي تِلْكَ الرَّكْعَتَيْنِ ، مَا صَلَّاهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے گھر واپس تشریف لائے ، آپ نے عصر کے بعد ان کے گھر میں دو رکعت ادا کیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : یہ کون سی نماز تھی ؟ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے گھر میں ادا کی ہے ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعت ( سنتیں ) ادا کیا کرتے تھے ، بنو مصطلق کا وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور عامل ( یعنی زکوۃ کی وصولی کے نگران شخص ) ولید بن عقبہ نے ان کے ساتھ جو کیا تھا ، اُس سلسلے میں وہ لوگ حاضر ہوئے تھے ، اور وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مسلسل معذرت پیش کرتے رہے ، یہاں تک کہ مؤذن آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز کے لئے بلا لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز ادا کر لی ، پھر آپ نے میرے گھر میں ، میرے ہاں وہ دو رکعت ادا کیں ( جو آپ ظہر کے بعد ادا نہیں کر پائے تھے ) آپ نے اُس سے پہلے ، یا اُس کے بعد یہ دو رکعت کبھی ادا نہیں کی ہیں ۔
حدیث نمبر: 11357
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ نَزَلَ فِي بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِيمَا صَنَعَ بِهِمْ عَامِلُهُمُ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا الْآيَةَ ، قَالَتْ : وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَيْهِمْ يُصَدِّقُ أَمْوَالَهُمْ ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ أَقْبَلَ رَكْبٌ مِنْهُمْ ، فَقَالُوا : نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْمِلُهُ . فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ ظَنَّ أَنَّهُمْ سَارُوا إِلَيْهِ لِيَقْتُلُوهُ ، فَرَجَعَ فَقَالَ : إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مَنَعُوا صَدَقَاتِهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . وَأَقْبَلَ الْقَوْمُ حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، وَصَفُّوا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصَّفِّ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ انْصَرَفُوا فَقَالُوا : إِنَّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ ، سَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ يُصَدِّقُ أَمْوَالَنَا فَسُرِرْنَا بِذَلِكَ وَقَرَّتْ بِهِ أَعْيُنُنَا ، وَأَرَدْنَا أَنْ نَلْقَاهُ وَنَسِيرَ مَعَ رَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْنَا أَنَّهُ رَجَعَ ، فَحَسِبْنَا أَنْ يَكُونَ رَدَّهُ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ عَلَيْنَا ، فَلَمْ يَزَالُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَطْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہ آیت بنو مصطلق کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جو ان کے زکوۃ کی وصولی کے نگران ، ولید بن عقبہ کے ، اُن لوگوں کے ساتھ طرز عمل کے بارے میں ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق شخص کوئی اطلاع لے کر تمہارے پاس آئے تو تم تحقیق کر لیا کرو “ ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف ولید بن عقبہ کو بھیجا ، تاکہ وہ ان لوگوں کے اموال کی زكوة وصول کرے ، جب ان لوگوں نے اس کی آمد کے بارے میں سنا ، تو کچھ شہسوار آ گئے ان لوگوں نے کہا: کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے فرد کے ساتھ سفر کریں گے اور اس کو سواری فراہم کریں گے ، جب ولید نے ( ان کی آمد کی آواز ) سنی ، تو وہ یہ سمجھا کہ شاید یہ لوگ اس کے پاس اسے قتل کرنے کے لئے آ رہے ہیں ، تو وہ واپس چلا گیا ، اس نے بتایا : یا رسول اللہ ! کہ بنو مصطلق کے لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے ، اس قوم کے لوگ مدینہ منورہ آ گئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک صف بنا لی ( اور نماز ادا کی ) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو وہ لوگ بھی نماز ختم کر کے آئے اور انہوں نے عرض کی : ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے ، اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے نمائندے کے بارے میں پتہ چلا کہ جس کو آپ نے بھجوایا ہے ، وہ ہمارے اموال کی زکوۃ وصول کرے گا ، تو ہم اس بات پر خوش ہوئے اور اس حوالے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں ، ہم نے اس سے ملنے کا ارادہ کیا ، تاکہ ہم اللہ کے رسول کے نمائندے کے ساتھ چلیں ، تو ہمیں یہ پتہ چلا کہ وہ واپس چلا گیا ہے ، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ شاید اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہم پر کسی غضب کی وجہ سے یہ واپسی ہوئی ہے ، پھر وہ لوگ مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معذرت پیش کرتے رہے ، یہاں تک کہ ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے صرف وہ حصہ منقول ہے ، جو عصر کے بعد دو رکعت ادا کرنے سے متعلق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11358
وَعَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْسَلَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ مُصَدِّقًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ [ بْنُ مُحَمَّدِ ] بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابومعیط کو بنو مصطلق کی طرف زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔