حدیث نمبر: 11350
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ ، فَإِنْ يَكُ نَبِيًّا فَنَحْنُ أَسْعَدُ النَّاسِ بِهِ ، وَإِنْ يَكُ مَلِكًا عِشْنَا فِي جَنَابِهِ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالُوا ، ثُمَّ جَاءُوا إِلَى حَجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلُوا يُنَادُونَ : يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأُذُنِي فَقَالَ : " لَقَدْ صَدَّقَ اللَّهُ قَوْلَكَ يَا زَيْدُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ رَاشِدٍ الطُّفَاوِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ عرب لوگ آئے انہوں نے یہ کہا: تم ہمارے ساتھ ان صاحب کے پاس چلو ، اگر یہ نبی ہوئے ، تو ہم ان کے حوالے سے سب سے زیادہ سعادت مند لوگ بن جائیں گے اور اگر وہ بادشاہ ہوئے تو ہم ان کے سائے میں آرام سے رہیں گے ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، جو انہوں نے کہا: تھا ، پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے پاس آئے اور بلند آواز میں کہنے لگے : اے سیدنا محمد ! اے سیدنا محمد ! تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک وہ لوگ جو حجروں کے باہر سے تمہیں پکارتے ہیں ، اُن میں سے زیادہ تر لوگ عقل نہیں رکھتے ہیں “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان پکڑے اور ارشاد فرمایا : اے زید ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے قول کی تصدیق کر دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن راشد طفاوی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5123)»