مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک وہ لوگ جو ہجروں کے باہر سے تمہیں پکارتے ہیں “
وَعَنِ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَنَّهُ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنْ حَمْدِي زَيْنٌ وَإِنَّ ذَمِّي لَشَيْنٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ " . كَمَا حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِنْ كَانَ أَبُو سَلَمَةَ سَمِعَ مِنَ الْأَقْرَعِ ، وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ كَإِسْنَادِ أَحْمَدَ الْآخَرِ . ¤اقرع بن حابس کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ اُس نے حجروں کے باہر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور بولا: یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا ، اُس نے کہا: اے محمد ! میری بیان کی ہوئی تعریف ، زینت کا باعث ہے اور میری بیان کی ہوئی مذمت ، بے عزتی کا باعث ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ بات صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ( مخصوص ) ہے ۔ جس طرح ابوسلمہ نامی راوی نے بیان کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کی مختلف اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں اگر ابوسلمہ نامی راوی نے اقرع بن حابس نامی راوی سے سماع کیا ہو ، ورنہ
یہ روایت مرسل شمار ہو گی ، جس طرح امام أحمد کی دوسری روایت کی سند ہے ۔