کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تو عنقریب وہ لوگ غی میں پہنچ جائیں گے “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا قَالَ : وَادٍ فِي جَهَنَّمَ مِنْ قَيْحٍ ،
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تو عنقریب وہ لوگ غی میں پہنچ جائیں گے “ ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ جہنم میں موجود ایک وادی ہے جو پیپ کی ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : الْغَيُّ نَهْرٌ فِي جَهَنَّمَ ، يُقْذَفُ فِيهِ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : غی جہنم میں موجود ایک نہر ہے جس میں ان لوگوں کو ڈالا جائے گا جو نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال ثقہ ہیں البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال ثقہ ہیں البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔