حدیث نمبر: 11159
عَنْ أَبِي سَمِينَةَ قَالَ : اخْتَلَفْنَا هَهُنَا فِي الْوُرُودِ ، فَقَالَ بَعْضُنَا : لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُنَا : يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا ، فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّا اخْتَلَفْنَا هَهُنَا فِي الْوُرُودِ ، فَقَالَ [ بَعْضُنَا : لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُنَا ] يَرِدُونَهَا جَمِيعًا ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُنَا : لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُنَا : يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ، فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَالَ : صَمْتًا ، إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْوُرُودُ : الدُّخُولُ ، لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا ، فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ - أَوْ قَالَ : جَهَنَّمَ - ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ ، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ " . قُلْتُ : لِجَابِرٍ فِي الصَّحِيحِ فِي الْوُرُودِ شَيْءٌ مَوْقُوفٌ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوسمینہ بیان کرتے ہیں : اس مقام پر وارد ہونے کے بارے میں ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا ہم میں سے بعض کا یہ کہنا تھا کہ مومن جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور بعض کا یہ کہنا تھا کہ سب لوگ اس میں داخل ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ اس میں سے پرہیزگار لوگوں کو نجات عطا کر دے گا میری ملاقات سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہوئی میں نے کہا: یہاں وارد ہونے سے مراد کیا ہے اس بارے میں ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا ہے ہم میں سے بعض کا یہ کہنا ہے کہ مومن جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور بعض کا یہ کہنا ہے کہ سب لوگ جہنم میں جائیں گے میں نے ان سے کہا: ہمارے درمیان اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، تو انہوں نے بتایا کہ ہم میں سے بعض لوگوں کا یہ موقف تھا کہ مومن اس میں داخل نہیں ہو گا اور بعض کا یہ کہنا تھا کہ سب لوگ جہنم میں داخل ہوں گے ، تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں ، اپنے دونوں کانوں کی طرف بڑھائیں اور بولے : یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو : ” ورود سے مراد داخل ہونا ہے ہر ایک نیک اور گناہگار شخص اس میں داخل ہو گا ، لیکن جہنم اہل ایمان کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی ، یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے آگ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم میں ، پر زور آواز ہو گی ، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگار لوگوں کو ( اس سے ) نجات عطا کر دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دے گا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں روایت مذکور ہے جو وارد ہونے کے بارے میں ہے ، اور وہ موقوف ہے ، اور اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (329/3)»