کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت نحل کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بیٹے اور پوتے و نواسے “
عَنْ زِرٍّ قَالَ : كُنْتُ آخُذُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فِي الْمُصْحَفِ فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ : أَتَدْرِي مَا الْحَفَدَةُ ؟ قُلْتُ : حَشَمُ الرَّجُلِ ، قَالَ : لَا ، هُمُ الْأُخْتَانِ ¤
محمد محی الدین
زر بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لئے مصحف لیا کرتا تھا جب وہ اس آیت پر پہنچے : ” اور اس نے تمہارے لئے بیویوں میں سے بیٹے اور پوتے و نواسے بنائے ہیں “ ۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو حفدہ سے مراد کیا ہے ؟ میں نے کہا: آدمی کے قریبی ساتھی ، انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! وہ دونوں ( یعنی ” بنین “ اور ” حفدۃ “ ) ایک ہی چیز ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11116
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9092)»
وَفِي رِوَايَةٍ : قُلْتُ : نَعَمْ ، هُمْ أَحْفَادُ الرَّجُلِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ . قَالَ : نَعَمْ هُمُ الْأَصْهَارُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے جواب دیا : جی ہاں اس سے مراد ہوتے ہیں جو اس کی اولاد ہوں اور اولاد کی اولاد ہوں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں اس سے مراد سسرالی عزیز ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9091)»